Skip to main content

کابل سکول کے باہر خودکش دھماکے ، جاں بحق افراد کی تعداد 68 ہوگئی ...............



افغان دارالحکومت کابل میں ایک ; سکول کے باہر خودکش کاربم کےبعدیکے بعد دیگر ے ہونے والے دوبم دھماکوں میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 68 ہوگئی جبکہ 165 سے زائد زخمیوں کو;  شہرکے مختلف ہسپتالوں میں داخل کرادیا گیا ہے،زخمیوں میں  کئی افراد کی حالت;  نازک بتائی جاتی ہے جن کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے۔ 

سیدالشہداءسکول کے سربراہ علی ; خان احسانی اور افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان کے مطابق ہفتہ کی ; سہ پہر تقریباًساڑھےچاربجےکابل شہر کےمغرب میں واقع دشت ارچی کےعلاقےمیں سیدالشہدا ء ہائی سکول کی عمارت کے داخلی دروازے کے باہر پہلے ایک کرولاکارنے آکر بم;    دھماکہ کرایا جس کے چند منٹ بعد مزیددو دھماکے ہوئے جن کی زدمیں آکر سکول سے رخصت ہونے والی متعدد طالبات سمیت سینکڑوں افرادجاں بحق اور زخمی ہوگئے۔خودکش کاربم دھماکے علاوہ دو بم دھماکوں کی نوعیت کے;  بارے میں افغان حکام نے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی ۔

اطلاعات ملتے ہی سیکیور ٹی فورسز کی بڑی تعدادنے علاقے کا گھیراؤکرلیا اورسائرن بجاتی ہوئی درجنوں ایمبولینس;   گاڑیاں تیزی سے جاں بحق اور زخمیوں کو شہر کے ہسپتالوں ; میں منتقل کرنے لگ گئیں ۔اس موقع پر مقامی لوگ اپنے پیاروں اور لخت جگر کو ڈھونڈتے رہے .; جبکہ بعض افراد میں شدید اشتعال بھی دیکھنے میں آیا اور ایمبولینس گاڑیوں پر حملہ آوربھی ہوئے۔

بتایاجاتا ہے کہ یہ سکول کابل کے مغرب میں ہزارہ;    شیعہ کمیونٹی کے علاقے دشت ارچی میں واقع ہے۔وزارت تعلیم کی ترجمان نجیبہ ;  آریان کے   مطابق سیدالشہدا ہائی سکول میں طلبہ و طالبات کی   روزانہ دو شفٹیں چلائی جاتی ہیں جہاں آخری شفٹ طالبات کے لئے مختص ہوتی ہے  . جس کے دوران  طالبات کو نشانہ بنایا گیا،ان دھماکوں کی زدمیں آکر سکول کی   متعدد طالبات جاں بحق اور زخمی ہوگئیں۔یہ دھماکے اس وقت کئے گئے جب سکول سے طالبات اپنے گھروں کو واپس جارہی تھیں۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے ہفتہ کے ;روز ابتدائی طورپر30 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی تاہم اتوار کے روز افغان وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ ان دھماکوں میں جاں بحق افراد کی تعدادبڑھ کر68 تک جاپہنچی ہے۔ ادھراتوار کے روز جاں بحق افراد کی تدفین کا سلسلہ بھی جاری رہا۔سکول کے باہر ان دھماکوں کی ذمہ داری ابھی;  تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے.   تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنےاس واقعہ کی سخت مذمت کرتےہوئے.;    داعش کو واقعہ کا ذمہ دارٹھہرایا ہے۔ افغان صدراشرف غنی نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے طالبان کو واقعہ کا ذمہ دار قراردیا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔