Skip to main content

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ


پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔
تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا

واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔
سوشل میڈیا پر عامر نامی لڑکے کی چونکا دینے والی وڈیو وائرل ہوئی ہے۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس والوں کا ایک گروپ عامر کو برہنہ کر کے اس پر تشدد کر رہا ہے

یہ تھانہ صوبہ خیبر پختونخواہ کا لگ رہا ہے جہاں کی پولیس کو عمران خان بار ہا مثالی کہہ چکے ہیں۔

یہ ہے مثالی پولیس؟
خیبر پختونخوا کی مثالی پولیس
2020 میں تھانوں میں لوگوں کے کپڑے اتار کر ان کی ویڈیو بناتی ہے۔۔
آئی جی ثنا اللہ عباسی، SSP ظہور آفریدی اور CCPO محمد علی گنڈاپور کی لیے شرم کا مقام ہے ۔۔ شائد مہذب دنیا میں شرم بھی انکی لیے چھوٹا لفظ ہے۔
یہ پشاور تہکال کا علاقہ ہے۔


ویڈیو پر وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے بھی ردعمل دیا ہے۔ٹویٹر پر کی گئی پوسٹ میں انہوں نے کہا "سوشل میڈیا پر عامر نامی لڑکے کی چونکا دینے والی وڈیو وائرل ہوئی ہے۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس والوں کا ایک گروپ عامر کو برہنہ کر کے اس پر تشدد کر رہا ہے یہ تھانہ صوبہ خیبر پختونخواہ کا لگ رہا ہے جہاں کی پولیس کو عمران خان بار ہا مثالی کہہ چکے ہیں"۔
سوشل میڈیا پر عامر نامی لڑکے کی چونکا دینے والی وڈیو وائرل ہوئی ہے۔ وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس والوں کا ایک گروپ عامر کو برہنہ کر کے اس پر تشدد کر رہا ہے

یہ تھانہ صوبہ خیبر پختونخواہ کا لگ رہا ہے جہاں کی پولیس کو عمران خان بار ہا مثالی کہہ چکے ہیں۔

یہ ہے مثالی پولیس؟

صارفین کے مطابق یہ ویڈیو بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ وقار عزیز نامی صارف نے کہا "عامر تھکال کی ایک غلطی اور پھر پولیس نے ویڈیو جاری کرکے جو عظیم غلطی کی ھے,  اب اسکا خمیازہ ایک نۓ  دھشتگرد اور ٹارگٹ کلر کی صورت میں نکلےگا کیونکہ  اب بات عزت نفس اور ذاتیات  اور غیرت کی ھے"
عامر تھکال کی ایک غلطی اور پھر پولیس نے ویڈیو جاری کرکے جو عظیم غلطی کی ھے اب اسکا خمیازہ ایک نۓ دھشتگرد اور ٹارگٹ کلر کی صورت میں نکلےگا کیونکہ اب بات عزت نفس اور ذاتیات اور غیرت کی ھے
تصویر ٹوئٹر پر دیکھیں

واقعہ سامنے آنے پر پشاور پولیس کے اعلیٰ حکام  بھی ایکشن میں آگئے,  اور واقعہ میں ملوث چار اہلکاروں کو  معطل کرنے کے  احکامات جاری  کیے  ہیں۔ 
تصویر ٹوئٹر پر دیکھیں

دوسری جانب صارفین نے پولیس اہلکاروں  کی معطلی کو ناکافی قرار   دیتے ہوئے سخت ایکشن کا مطالبہ کیا  ہے , جب کہ ٹویٹر پر کچھ پوسٹس ایسی  بھی نظر آرہی ہیں جن میں آج شام عامر تہکال نامی اس نوجوان کی حمایت میں   احتجاج کی اپیل کی جارہی ہے۔
Plzzzz join

You are invited for a protest against Tehkal Police for brutal torture of Aamir.😢
*Today at 6:00 PM infront of Peshawar Press Club.*
— Pakhtunkhwa Civil Society Network —
تصویر ٹوئٹر پر دیکھیں





Comments

Popular posts from this blog

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔