Skip to main content

سید صاحب بھی چلے گئے...! ...

سید صاحب بھی چلے گئے...!

للہ ہمارے حال پر رحم فرما.....کوئی دن نہیں جاتا کہ کسی بڑی علمی یا روحانی شخصیت کے جانے کی خبر غمگین کر جاتی ہے ........پیر کبیر علی شاہ صاحب....جناب مفتی نعیم .... جناب پیر عزیز الرحمان ہزاروی ..جناب طارق عزیز . . جناب پروفیسر مغیث الدین شیخ......جناب پروفیسر محفوظ نعیمی... تاجور نعیمی صاحب اور اب مکرم جناب سید منور حسن کا سانحہ ارتحال......یہ سال واقعی عام الحزن ..یعنی...غم کا سال بن گیا ہے......انا للہ وانا الیہ راجعون.......!!!
20سالہ صحافتی کیرئیر میں 2مرتبہ جماعت اسلامی  ,. کے ہیڈکوارٹرز منصورہ جانے کا اتفاق ہوا....اخبار یا ٹی وی کے نیوز روم سے منسلک ہونے کا یہی نقصان ہے کہ بندہ کہیں کا نہیں رہتا.....نائٹ ڈیوٹی اور ڈے ٹائم ریسٹ..... سیاہ راتیں دن کے اجالے کھا جاتی ہیں.......

یہ توبھلاہو جماعت اسلامی کےمرکزی سیکرٹری اطلاعات جناب قیصرشریف کا کہ وہ ایک قومی اخبار کےنیوز روم میں آتے جاتے ہمارے مہربان دوست بن گئے....اس وقت وہ پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے ناظم ہوا کرتے تھے ... سیالکوٹ سے نسبت نے ہمیں قریب کر دیا........پھر وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے...انٹر نیشنل ختم نبوتﷺ موومنٹ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر احمدعلی سراج کویت سے لاہور تسریف لائے تو جماعت اسلامی کے ہر دل عزیز سابق امیر جناب قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت کرنا چاہتے تھے...میں نے برادر عزیز قیصر شریف کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ امیر جماعت سید منور حسن مرکز ہی ہیں آپ آجائیں..یہ میری ڈاکٹر صاحب کے ساتھ منصورہ پہلی حاضری تھی ......جناب منور حسن اتنے تپاک سے ملے اور اتنی چاہت بھری چائے پلائی کہ ان کے بارے الیکٹرانک میڈیا کا پیش کردہ منفی تاثر اسی وقت زائل ہو گیا اور وہ نکھرا چہرہ لیکر ہمارے سامنے بیٹھ گئے......دھیما مزاج.... مسکراہٹ سےمزین نپی تلی گفتگو.......فاتحہ خوانی کے بعد قاضی صاحب کی باتیں ہوتی رہیں........گپ شپ کے دوران میں نے متحدہ مجلس عمل اور قاضی صاحب پر بات کرتے کرتے پوچھ لیا کہ اچھا یہ بتائیں ایم ایم اے کیوں ٹوٹی اور کب بحال ہوگی؟؟؟؟زیر لب مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ بات مولانا فضل الرحمان سے پوچھیں....

جناب منور حسن سے یہ پہلی اور آخری ناقابل فراموش ملاقات ہے...دوسری بار جناب سراج الحق کی پہلی مرتبہ امارت کی تقریب حلف برداری پر منصورہ جانا ہوا....قیصر شریف نے بڑی محبت سے بھلایا اور ہم بھی جماعت اسلامی کے اس مرد درویش کو قریب سے دیکھنا چاہتے تھے..سو منصورہ چل دیے... جناب سراج الحق نے بانی جماعت مولانا مودودیؒ کے نظریے سے عہد نبھانے کا عہد کرتے ہوئے بڑی متاثر کن تقریر کی ...قاضی صاحب کی بات چلی تو عرض ہے کہ "جماعتیہ "نہ ہوتے ہوئے بھی ہمیں قاضی صاحب پیارے لگے... اسلامک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے ظالمو !قاضی آر ہا ہے کا نعرہ مستانہ اور واجپائی کی آمد پر دھرنے میں لاٹھیوں کی بوچھاڑ پر ڈٹ جانے کا منظر کبھی نہیں بھولے گا....باتوں باتوں میں ایک اور بات یاد اگئی.....


مشرف دور کے ابتدائی ایام تھے ...وہ شکرگڑھ تشریف لائے ...انہوں نے چند روز قبل پہلے چئیرمین جنرل امجد کے خلاف ریفرنس دائر کرنے اعلان کیا تھا....پریس کانفرنس کے دوران میں نے سوال کیا کہ قاضی صاحب وہ ریفرنس کا کیا ہوا؟؟ کہیں آپ کا بیان صرف سستی شہرت...کسی بارگین اور مک مکا کے لئے تو نہیں؟؟؟نرم مزاج امیر جماعت برہم ہوگئے,  اور کہا مجھے کسی سے کیا لینا دینا...حقائق تھے سامنے لے آیا....خیر چائے پر وہ پھر ہنستے مسکراتے ہم سے گھل مل گئے . ....جماعت اسلامی کی بات چلیتو یاد آیا کہ لاہور پریس کلب کے 2013کے الیکشن میں اپنے تئیں ایک لبرل صحافی دوست نے ایک سنئیر اخبار نویس سے کہا کہ امجد عثمانی کو ووٹ مت دینا کہ وہ "جماعتیہ "ہے......
اسلامسٹ کالم نگار نے جواب دیا کہ پھر تو اس کا ووٹ بنتا ہے........اور پھر الحمد للہ ہم بھرے میلے میں جیت گئے . .یہ وہی صاحب ہیں , جنہوں نے ایک بار پھر اپنے مخالف سیکرٹری کے امیدوار کو بھی منصورہ کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے عہد ساز یونینسٹ صحافی سے کہا کہ آپ کا ووٹ میرا حق ہے کہ میرا حریف جماعتیہ ہے .۔.انہوں نے جواب دیا کہ پہلی بات تو یہ کہ اس بات کا پریس کلب;  کے الیکشن سے کوئی تعلق نہیں اور دوسرا یہ بتائیے کہ کیا جناب کارل مارکس سے پڑھتے رہے ہیں...؟؟؟؟؟موصوف اپنی" اوور ایکٹنگ" سے جیتی بازی ہار گئے.......پریس کلب اور "جماعتیے "کی بات چلی ہے تو ایک بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں، جس کے گواہ سنئیر کالم نگار اعجاز حفیظ خان بھی ہیں .... جب سائیکل سوار سفید پوش بزرگ صحافی جناب ادریس بٹ گھرکی ہسپتال میں بستر مرگ پر نام نہاد صحافی نیتائوں کا انتظار کرتے کرتے سسک سسک کر دنیا چھوڑ گئے تو اس مشکل گھڑی میں ہمارا " جماعتیہ دوست"قیصر شریف ٹھٹھرتی دھند آلود رات میں ادریس بٹ کے اہلخانہ کی مدد کو پہنچ گیا تھا.....اس سے پہلے سنئیر صحافی فواد بشارت نے غمزدہ بیٹے کے آنسو پوچھے یا پھر خاتون صحافی محترمہ ناصرہ عتیق امریکہ بیٹھ کر بھی ان کی فیملی کے دکھ میں برابر برابر شریک تھیں........

بات سید صاحب سے چلی اور کہاں پہنچ گئی.....قاضی صاحب...اور .سید منورحسن اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کا پرچم لہراتے لہراتے اللہ کے حضور پیش ہو گئے...امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق بھی اپنے پیش رو امرا کی طرح  صبح شام اسلام کے نغمے گنگنا رہے ہیں..الحمد للہ...ہم اسلامسٹ ہیں اور ہمیں اسلام پسندوں کی ہر اس جماعت .....جمعیت اور تنطیم سے دلی محبت ہے.,  جو اللہ اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کرتی ہے...
رہے نام اللہ کا ....!



Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...