Skip to main content

وزراء کاردگی بہتر بنائیں ورنہ چھ ماہ میں معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے، عمران خان کی کابینہ اراکین کو ہدایت لیکن دراصل خود ان کا کیا قصور ہے؟ سینئر صحافی نے آئینہ دکھا دیا ........

 وزراء کاردگی بہتر بنائیں ورنہ چھ ماہ میں معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے، عمران خان کی کابینہ اراکین کو ہدایت لیکن دراصل خود ان کا کیا قصور ہے؟ سینئر صحافی نے آئینہ دکھا دیا


اسلام آباد   (ویب ڈیسک)   سیئنر صحافی انصار عباسی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کے  اراکین کو ہدایت کی ہے کہ ,  وزراء کاردگی بہتر بنائیں ورنہ چھ ماہ میں معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے، اب کئی وزرا ء کھل کر اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر بات بھی کررہے ہیں,  لیکن اس میں عمران خان کا اپنا بھی قصور ہے کہ  اُنہوں نے اپنی حکومت کے پہلے دن سے  سیاسی ماحول خراب کیے رکھا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ اور اُن کے وزراء اپوزیشن سے ہر وقت لڑائی جھگڑے کے موڈ میں ہی رہیں۔
روزنامہ جنگ میں چھپے اپنے کالم میں انصار عباسی نے لکھا کہ "گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کے اراکین سے کہا ہے کہ وزراء کاردگی بہتر بنائیں ورنہ چھ ماہ میں معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ حقیقت میں حالات تو پہلے ہی ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ خان صاحب کے وزراء آئندہ چھ ماہ کے دوران کیا کچھ ایسا کر لیں گے جو وہ پہلے کرنے میں ناکام رہے۔ سچ پوچھیں تو پاکستان کو اس موجودہ حالت تک لانے میں خان صاحب اور ان کے وزراء کا اہم کردار رہا ہے۔
معیشت کا کوئی حال نہیں، گورننس بہت خراب ہو چکی، ایک کروڑ نوکریاں ملنا تو درکنار، لاکھوں کروڑوں اپنا روزگار گنوا بیٹھے۔ ملکی قرضوں میں موجودہ حکومت کے 22ماہ کے دوران ریکارڈ اضافہ ہوا جو پچھلے 71سال کے کُل قرضوں کے چالیس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔روپے کے مقابلہ میں ڈالر اتنا گرا دیا کہ اب سنبھلنے کا نام نہیں لے رہا۔ کہا جا رہا تھا کہ ڈالر مہنگا ہوگا تو ملک کی برآمدات میں اضافہ ہو گا لیکن ملک کو کھربوں کا نقصان پہنچا دیا لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا۔
وعدہ کیا گیا تھا کہ جب ہم آئیں گے تو ٹیکس دگنا اکٹھا ہوگا لیکن حقیقت میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گزشتہ دو سال سے جو ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہے وہ اُس سے بھی کم ہے جو نون لیگ کے آخری سال کے دوران اکٹھا ہوا۔ معیشت کی خرابی ہو، قرضوں میں سنگین اضافہ کی بات ہو یا کوئی اور خرابی، موجودہ حکمرانوں کا عموماً یہی جواب ہوتا ہے کہ پچھلے حکمران حالات اتنے خراب کر گئے کہ یہ سب تو ہونا ہی تھا۔
اپنی نااہلی اور نالائقی پر بات نہیں کرتے، کب تک پچھلے حکمرانوں کو ہر خرابی اور اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے رہیں گے ۔ اگر ہم مان بھی لیں کہ موجودہ حکمران بڑے صاف ستھرے اور پرانے سارے چور اچکے تھے تو ایسا کیوں ہے کہ ٹیکس ’’ایمانداروں‘‘ کی حکومت کے دوران ’’چوروں‘‘ کے دور سے کم اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ عمران خان کے اپنے وزیر فواد چوہدری نے جو کہا وہ دراصل اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کی کارکردگی خراب ہے اور حکومت اپنے وعدے پورے,  کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عوام نے ہمیں معمولی نٹ بولٹ ٹھیک کرنے کیلئے منتخب نہیں کیا بلکہ عمران خان کو پورے نظام کی اصلاح کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے تسلیم کیا کہ لوگوں کی توقع کے مطابق  تبدیلی نہیں لا سکے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم کے وژن پر جس طرح عملدرآمد ہونا چاہئے; تھا، وہ نہیں ہو سکا۔
حکومتی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم ایک معمول کی حکومت چلا رہے ہیں، لوگوں کی حکومت سے توقعات پوری نہیں ہوئیں، حکومت اپنی سیاست اور گورننس کو بہتر نہیں کرتی تو کسی وقت بھی چیزیں سرک سکتی ہیں۔اسی دوران تحریک انصاف کے ایک رہنما راجہ ریاض نے کہا کہ , تحریک انصاف کی حکومت آئی تو کرپشن میں تین گنا اضافہ ہو گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ غیر منتخب افراد کو اہم عہدے دے دیے گئے جبکہ اُن کے لیے وزیراعظم کو ملنا بھی مشکل ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ,  وزیراعظم سمجھتے ہیں , کہ سیاسی لوگ صرف  اپنے مفاد کی ہی بات کرتے ہیں یعنی اب حکومت کے اپنے لوگ بھی عمران خان کی  حکومت کی ناکامیوں اور نااہلیوں پر بول پڑے ہیں۔عمران خان بظاہر اپنے وزراء کی کاردگی سے خوش نہیں اور اسی لیے وہ اُن کی پرفامنس کو بہتر بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن سچ پوچھیں  تو قصور وزیروں مشیروں کا نہیں بلکہ عمران خان کا اپنا ہے جنہوں نے یہ ٹیم چنی۔
قصور عمران خان کا اس لیے بھی ہے کہ , اُنہوں نے اپنی حکومت کے پہلے دن سے سیاسی ماحول خراب کیے رکھا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ  وہ اور اُن کے وزراء اپوزیشن سے ہر وقت لڑائی جھگڑے کے موڈ میں ہی رہیں ۔  بار ہا کہا گیا کہ اس طرح حکومتیں نہیں چلتیں۔کتنی بار یاد دہانی کرائی گئی , کہ معیشت کو مستحکم کرنا ہے تو اس کے لیے سیاسی استحکام لازم ہے لیکن خان صاحب نے نہ پہلے ایسا کوئی مشورہ مانا نہ وہ اب ایسی کوئی بات سننے کے لیے تیار ہیں۔ایسے میں وزیر اچھے بھی ہوں تو خراب ماحول میں وہ کچھ کرنے;  سے قاصر رہیں گے لیکن عمران خان کو کون سمجھائے!"۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...