Skip to main content

طیارہ حادثہ کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ تیار، کسے ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟ نجی ٹی وی چینل نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا.........

طیارہ حادثہ کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ تیار، کسے ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟ نجی ٹی وی چینل نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا


اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   طیارہ حادثہ کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ تیار  کرلی گئی۔  نجی ٹی وی دنیا نیوز نے تہلکہ خیز دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے, کہ حادثے کا ذمہ دار ایئرٹریفک کنٹرولر اورکپتان کو قراردیا گیاہے۔
دنیا نیوز کے مطابق  طیارہ حادثہ کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ تیارکرلی گئی ہے. جس میں ایئر ٹریفک کنٹرولر اور کپتان کوحادثہ کا ذمہ دار قرار دیا گیا  ہے ۔ رپورٹ میں حادثات کی روک  تھام کیلئےپی آئی اے اورسی اے اے کاطریقہ کاربھی ناکام قرار دے دیا گیا۔ طیارہ حادثہ میں پی آئی اے اور سی اے اے   بھی;  ذمہ دارقرار  دیئے گئے ہیں۔

 نجی ٹی وی کے مطابق رپورٹ میں کسی فنی خرابی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا ۔حادثہ کے شکار طیارے کےآلات اور سسٹمزکی جانچ کاکام جاری ہے۔ جب کہ ڈیٹا فلائٹ ریکارڈر،کاک پٹ وائس ریکارڈرکی معلومات بھی رپورٹ میں شامل  کی گئی ہیں اس کے علاوہ  پروازکاایئرٹریفک کنٹرول سےحاصل ریکارڈبھی رپورٹ شامل کیا گیاہے۔

خیال رہےجمعہ 22 مئی کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر 25 منٹ پر لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا طیارہ  ایئربس اے 320 ہوائی اڈے کے قریب ماڈل کالونی کے قریب واقع جناح گارڈن نامی آبادی پرگر کر تباہ ہو گیا۔اس طیارے میں عملے کے آٹھ اراکین سمیت 99 افراد سوار تھے۔

سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کے مطابق طیارہ محو پرواز تھا اور فائنل لینڈنگ کے لیے پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو اپروچ کیا اور آگاہ کیا کہ,  طیارہ لینڈنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔انھوں نے بتایا کہ ایئر پورٹ پر آ کر طیارے نے 'گو اراؤنڈ' یعنی چکر کاٹنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے۔ یہ تفصیلات بلیک باکس کی جانچ پڑتال پر ہی پتا چلیں گی

فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ اور جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے ایک فیصل ایدھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے کو رن وے سے دو سے ڈھائی سو میٹر کے فاصلے پر حادثہ پیش آیا، جہاں یہ ایک گھر کی تیسری منزل پر بنی پانی کی ایک ٹنکی سے ٹکرایا اور 20 فٹ چوڑی گلی میں گھس گیا۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔