Skip to main content

"وہ کمرہ جہاں یہ سب کچھ ہوتا رہا"،جان بولٹن کی انکشافات سے بھرپور کتاب......



امریکی صدر کے قومی سلامتی کے سابق مشیر نے حالیہ دنوں اپنی وائٹ ہاؤس کی یادداشتوں میں پر مشتمل کتاب تحریر کی  ہے۔  کتاب کا عنوان نہایت دلچسپ ہے۔

“The Room Where It Happened: A White House Memoir,”

اس کتاب نے انتخابات سے قبل پہلےہی سے کرونا وائرس اور نسلی فسادات کے گرداب میں پھنسے ٹرمپ کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔ اس کتاب کے چند اقتباسات نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئے جو تہلکہ آمیز ہونے کے ساتھ ساتھ توقعات کے عین مطابق ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کتاب کو ”حماقت پر مبنی اور انتہائی بیزار کن“ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ یہ کتاب جھوٹ اور من گھڑت کہانیوں کا پلندا ہے۔ اپنے ایک ٹویٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ جان بولٹن ایک ایسی احمق اورکینہ پرور شخصیت کے مالک ہیں جس کے سر پر صرف جنگی جنون سوار رہتا ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے عدالت میں ایک دعوی دائر کیا ۔  جس کا مقصد بولٹن کو ان کی کتاب شائع کروانے سے روکنا ہے۔
اس کتاب میں بولٹن نے ٹرمپ کے ;سیاسی عزائم، امریکی نظام انصاف ، خارجہ پالیسی اور اپنے عہدے کے دوران ٹرمپ کے ساتھ گزرے وقت کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے۔ جان بولٹن نے انکشافات سے بھرپور کتاب میں کہا ہے کہ ٹرمپ اور پومپیو کی سوچ یکساں نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں  کہ امریکی وزیر خارجہ پومپیو ، جو بظاہر ٹرمپ کے سب سے زیادہ وفادار اور حامی نظر آتےہیں ، حقیقت میں ایسا نہیں ہے، انہوں نے درپردہ ٹرمپ کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ علاوہ ازیں پومپیو ٹرمپ کی شمالی کوریا سے متعلق پالیسی پر نالاں تھے۔
اے ایف پی نے 17 جون کو نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی  اس کتاب کے ایک اقتباس کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سنگاپور میں ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے مابین پہلی ملاقات کے دوران پومپیو نے بولٹن کو ایک نوٹ سونپ دیا جس میں ٹرمپ کے لئے کہا تھا کہ "یہ بہت برا ہے۔"
برطانوی میگزین "ٹائمز" کی ویب سائٹ نے نشاندہی کی ہے کہ ان کی یاداشتوں میں بولٹن نے ٹرمپ کی لاعلمیوں کا خلاصہ بھی بیان کیا ہے۔ بولٹن کے لئے یہ واقعات چونکا دینے والے تھے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جب ٹرمپ نے 2018 میں      برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے سے ملاقات کی تو ایک برطانوی اہلکار نے  برطانیہ کو "ایٹمی طاقت" کہا اور ٹرمپ نے مداخلت کی: "اوہ ، کیا آپ ایٹمی طاقت ہیں؟" ؟ "بولٹن نے لکھا ہے کہ ، یہ سوال کوئی مذاق نہیں تھا , بلکہ واقعتاً ٹرمپ  اس حقیقت سے لا علم تھے۔
بولٹن نے تصدیق کی کہ ان کا خیال ہے   کہ ٹرمپ نے یوکرائن پر دباؤ ڈالنے کے لئے امریکی امداد کو استعمال کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے حریف جو بائیڈن سے تفتیش کرسکیں۔ بولٹن نے دو ٹوک الفاظ میں ٹرمپ کو "من موجی" قرار دیا جو اپنے محدود جغرافیائی اور سیاسی علم کی وجہ سے جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ان کے عملے کے بھی  بہت سے تحفظات ہیں۔
بولٹن نے لکھا کہ ٹرمپ نے کہا تھا , کہ وینزویلا پر حملہ "زبرست" ہوگا کیونکہ یہ "واقعی امریکہ کا ایک حصہ ہے"۔ بولٹن نے یہ بھی لکھا ہے,  کہ ٹرمپ بار بار افغانستان کے موجودہ اور سابق صدر ایک دوسرے کے ساتھ  الجھا دیتے ہیں۔
ماہرین  کہتے ہیں کہ قومی سلامتی کے سابق مشیر کی کتاب  ریپبلکن صدر اور ان کے طریقہ حکومت کے بارے میں ایک آئنہ ہے۔
دوسری طرف کہا جا رہا ہے جان بولٹن نے اپنی کتاب کے پورے متن کے لیے منظوری حاصل نہیں کی۔ اس کے سبب وہ ان دستخط شدہ سمجھوتوں کی کھلی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں , جن کے تحت یہ شرط عائد کی گئی تھی وہ انتہائی خفیہ معلومات سے آگاہ نہیں کریں گے۔ بولٹن کی کتاب کو رواں ماہ کی 23 تاریخ کو شائع ہونا ہے۔ متنازع سیاسی شخصیت جان بولٹن نے ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر کام کیا۔ گذشتہ برس ستمبر میں امریکی صدر کے ساتھ اختلافات کے بعد بولٹن کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ ان اختلافات میں شمالی کوریا اور افغان طالبان تحریک سے متعلق امور خاص طور پر شامل ہیں ۔ بولٹن کے مستعفی ہونے کے بعد ان کے اور ٹرمپ کے درمیان تعلق اعلانیہ ; عداوت میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔

امریکہ کی سب سے بڑی ریاست میں 7 اعشاریہ 8 شدت کا زلزلہ، کتنا نقصان ہوا؟ ......

 امریکہ کی رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑی ریاست الاسکا میں 7 اعشاریہ   8 شدت کے زلزلے نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا، حکام کی جانب سے پہلے سونامی کی وارننگ جاری کی گئی تھی لیکن کچھ گھنٹوں  بعد ہی واپس لے لی گئی۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے  مطابق زلزلے کا مرکز پیرویل کے جنوب مشرق سے 105 کلومیٹر دور ساحلی علاقہ تھا، زلزلے  کی گہرائی 28 کلومیٹر تھی۔ زلزلے سے متاثرہ علاقے کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی پوسٹ   کی ہیں , جن میں انہیں ایک   ہائی سکول کی طرف بھاگتے ہوئے,  دیکھا جاسکتا ہے، اس ہائی سکول میں زلزلے اور دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کیلئے شیلٹر بنایا گیا ہے۔ 7 اعشاریہ 8 شدت کا شدید زلزلہ آنے کے;  بعد الاسکا میں سونامی وارننگ جاری کی گئی اور لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا گیا,   لیکن کچھ گھنٹوں بعد ہی یہ وارننگ واپس لے لی گئی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق شدید زلزلے کے باعث عمارتیں ہل کر رہ گئیں  ., اور لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ,  لیکن زلزلے کے باعث نہ تو کسی عمارت کو نقصان پہنچا اور نہ ہی...