Skip to main content

"وادی گلوان ہماری، جو کچھ ہوا ، اس کی ذمہ دار بھارتی فوج ہے" لیکن اب بھی فوجی تحویل میں ہیں یا نہیں؟ چین نے اعلان کردیا........



بیجنگ   (ویب ڈیسک)  چین کا کہنا ہے,  کہ پوری گلوان وادی چین کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، وادی میں جو کچھ ہوا اس کی ذمہ دار بھارتی فوج ہے۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ ژاؤ لیجیان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ,  اس وقت ان کی تحویل میں کوئی بھارتی فوجی نہیں ہے۔ژاؤ لیجیان کا کہنا تھا کہ , دونوں ملک فوجی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے بات چیت کر رہے ہیں ., اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ,  گذشتہ پیر کی رات کو ہونے والی جھڑپ میں 20 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ چینی فوج نے  10 اہلکاروں کو گرفتار بھی کرلیا تھا جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور 2  میجر بھی شامل تھے۔بھارتی میڈیا کے مطابق چین کی جانب سے گرفتار کیے گئے,  بھارتی  فوجی اہلکاروں کو رہا کردیا گیا ہے۔ ادھر چینی وزارت خارجہ نے تصادم میں بھارتی فوجیوں کے مارے جانے  سے قبل کے حالات و واقعات کی مکمل تفصیل بھی جاری کردی ہے۔
ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق لداخ  کی گلوان وادی لائن آف ایکچوئل کنٹرول  (ایل اے سی)   کے چینی حصے میں واقع ہے جہاں چینی فوج کئی سال سے گشت کرتی آرہی ہیں  ۔   ترجمان کے مطابق بھارت نے   لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا اسٹیٹس بدلنے کے لیے اشتعال انگیز اقدامات اپریل میں شروع کیے، یکطرفہ طور پر گلوان وادی میں سڑکوں اور پلوں کی تعمیرات شروع کی گئیں۔
6 مئی کی رات بھارتی فورسز لائن آف ایکچوئل کنٹرول پار کرکے چینی علاقے میں گھسیں، جہاں چوکیاں اور رکاوٹیں کھڑی کرکے   چینی فوج کے گشت کا راستہ روکا گیا۔سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فورسز نے 15جون  کو ایل اے سی کو دانستہ طور پر عبور کیا اور بات چیت کے لیے جانے والے چینی   افسروں اور اہل کاروں پر بلا اشتعال حملہ کیا , جس سے جھڑپ کا آغاز ہوا۔
خیال رہے کہ گذشتہ دنوں وادی گلوان میں سرحدی خلاف ورزی کرنے پر چینی فوج نے 20 بھارتی فوجیوں کو ہلاک اور 80 کے قریب اہلکاروں  کو زخمی کردیا تھا,  جب کہ 3 افسران سمیت 10 اہلکاروں کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔واضح رہے کہ فوجیوں کی ہلاکت کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان 5 دہائیوں بعد سامنے آیا ہے ، اس سے قبل آخری بار ارونا چل پردیش کی سرحد پر ; دونوں فوجوں میں مسلح تصادم ہوا تھا جس کے نتیجے میں 4 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...