Skip to main content

”جہانگیر ترین بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ان پانچ لوگوں نے کیا ہے “وہ لوگ کون ہیں ؟ سینئر صحافی سلیم صافی نے بڑا دعویٰ کر دیا .........

”جہانگیر ترین بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ان پانچ لوگوں نے کیا ہے “وہ لوگ کون ہیں ؟ سینئر صحافی سلیم صافی نے بڑا دعویٰ کر دیا

”جہانگیر ترین بخوبی جانتے ہیں کہ ,  ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ان پانچ لوگوں نے کیا ہے “وہ لوگ کون ہیں   ؟ سینئر صحافی سلیم صافی نے بڑا دعویٰ کر دیا
لاہور   (ڈیلی پاکستان آن لائن )  سینئر صحافی سلیم صافی نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ترین صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ زلفی بخاری، اسد عمر، خاتونِ اول، علی زیدی اور اعظم خان نے مل کر کیا لیکن  نام صرف اعظم خان کا لیتے ہیں۔ لندن جانے سے قبل ان سے ملاقات ہوئی تو اعظم    خان  کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ , میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ,  یہ شخص میرے ساتھ ایسا کرےگا۔
سینئرصحافی سلیم صافی کا کالم مقامی اخبار ” جنگ نیوز “ میں شائع ہواہے جس میں انہوں نے بتایا کہ سیاسی لوگوں کو تو چھوڑیں   موجودہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے بھی عمران خان تک پہنچنے کے لئے ان کا روٹ استعمال کیا تھا۔ جہانگیر ترین نے ہی انہیں خان سے ڈائریکٹ کروا کر پہلے پختونخوا کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور پھر چیف سیکرٹری بنوا دیا  ۔ جہانگیر ترین اور خان کے ساتھ ڈائریکٹ ہو جانے کے بعد اعظم خان وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور ترین ہی کے گھر پر خفیہ ملاقاتوں کے ذریعے الٹا خان اور ترین کو ان کی رپورٹنگ کیا کرتے تھے۔
اب ترین صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ زلفی بخاری، اسد عمر، خاتونِ اول، علی زیدی اور اعظم خان نے مل کر کیا لیکن نام صرف اعظم خان کا لیتے ہیں۔ لندن جانے سے قبل ان سے ملاقات ہوئی تو اعظم خان کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ شخص میرے ساتھ ایسا کرےگا۔جہانگیر ترین ڈٹ کر عمران خان کے ساتھ تھے اور اگر ان کا پیسہ، ذہن اور محنت بروئے کار نہ آتے  تو خان صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا تھا ۔ وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہے,  کہ میری اور    خان صاحب کی دوستی کرا دیں۔ آخری کوشش انہوں نے تین ماہ قبل کی ۔ مجھے چائے پر گھر بلایا۔ وہاں پہنچا تو وزیرخزانہ حفیظ شیخ بھی موجود تھے۔
ان کا کہناتھا کہ گفتگو ترین صاحب نے شروع کی لیکن پھر  وزیر خزانہ بولتے رہے۔ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ سلیم آپ اور خان جیسے لوگوں کی دوستی ملک کی ضرورت ہے۔ میں جواباً عرض کرتا رہا کہ  میری خان صاحب سے دشمنی ہے اور نہ دوستی۔ وہ اگر انٹرویو دینا چاہیں تو میں ایک صحافی کی حیثیت سے کل ان کی خدمت میں حاضر ہو جاﺅں گا,.  لیکن دوستی اس لئے نہیں ہو سکتی کہ میری ان کے بارے میں رائے اس سے یکسر الٹ ہے جو آپ جیسے لوگوں کی ہے۔ میں تنقید چھوڑ نہیں سکتا  اور وہ تنقید برداشت نہیں کر سکتے۔ حفیظ شیخ صاحب نے بہت تنگ کیا تو میں نے جان چھڑانے کے لئے عرض کیا کہ , شیخ صاحب! پہلے تو آپ وزیراعظم اور جہانگیر ترین کی صلح کرا دیں پھر میری صلح کی  فکر کریں۔ شیخ صاحب نے کہا کہ,  یہ سب آپ میڈیا والوں کی افواہیں ہیں ۔ وزیراعظم اور ترین صاحب آج بھی اسی طرح قریب ہیں جیسے پہلے تھے۔
سلیم صافی نے لکھا کہ اس دوران جہانگیر ترین نے مداخلت کی اور کہا کہ میری تو خان صاحب سے صلح ہے اور ہم ابھی بھی وزیراعظم ہاﺅس میں ان سے مل کر آئے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ بے , شک آپ مل کے آئے ہوں لیکن میرے اندازے کے مطابق اب آپ کی ضرورت ختم ہو گئی ہے,  اور آپ سے جان چھڑانے کی کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔
گزشتہ روز جہانگیر ترین سے فون پر بات ہوئی۔ میں نے ازراہِ مذاق ان سے کہا کہ آپ تو میری صلح کرارہے تھے لیکن خود عمران خان کی حکومت میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ وہ ہنس دیے اورچپ رہے کیونکہ اب بھی کچھ لوگوں کا پردہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے,  کہ اصل محسنوں کے بارے میں خان صاحب کی یا پھر خان صاحب کے بارے میں ان کی رائے کب بدلتی ہے,  کیونکہ جہانگیر ترین کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو پھر کسی کو ; استثنیٰ حاصل نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔