Skip to main content

"وعدہ معاف گواہ نہیں بننا چاہتا ، ہر گناہ میرے سر تھوپا جا رہا ہے" کونسی معروف شخصیت نے معذرت کرلی؟ تہلکہ خیز خبر ..........


کراچی     (ویب ڈیسک)    سابق رکن رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم لندن محمد انور نے کہا ہے کہ عمران فاروق کے قتل میں میرا کوئی عمل دخل نہیں تھا، وعدہ معاف گواہ نہیں بننا چاہتاصرف اپنا نام کلیئرکرنا چاہتاہوں ہر گناہ اور   جرم محمد   انورکے سر تھوپا جارہا ہے جبکہ کراچی والے صاف ستھرے بن رہے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں غلط کررہا تھا , تو باقی لوگ کیا منہ دیکھ رہے تھے، پہلے بھی تعاون کیلئے تیار تھا , اب بھی جو مجھ سے کہیں گے وہ کرنے کیلئے تیار ہوں،۔پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ولید اقبال ،سپریم کورٹ بار ایسوسی  ایشن کے صدر سید قلب حسن اور ن لیگ کے رہنما احسن اقبال بھی ریک تھے۔
سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ بانی متحدہ اور   محمد انور کو سزا نہیں دی گئی بلکہ مفرور قرار دیا گیا ہے، برطانوی حکومت کی مرضی کے بغیر پاکستانی حکومت وہاں سے کسی شخص کو واپس نہیں لاسکتی، تعلیمی اداروں کو ایس او پیزکے ساتھ کھولنے پرغورکیا جارہاہے، شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل نے این ایف سی ایوارڈ میں مالی عدم توازن پرندامت کا اظہار کیا تھا۔
سید قلب حسن نے کہا کہ,  عمران فاروق قتل کیس میں عدالتی فیصلے کے بعد بانی متحدہ اورمحمد انور کو پاکستان لایا جاسکتا ہے، اٹھارہویں   ترمیم میں تبدیلی کرنا صوبوں کے ساتھ زیادتی ہوگی، حکومت اوروکلا ءتنظیموں کے تعلقات میں آئندہ کشیدگی بڑھے گی۔احسن اقبال نے کہا کہ , کسی سیاستدان یا سیاسی جماعت کیخلاف کوئی بات ہے تو میڈیا ٹرائل طریقہ نہیں ہے، حکومت یا ریاستی اداروں کے پاس ثبوت ہیں توریفرنس بنا کر عدالت کے سامنے پیش کریں۔
مولانا فضل الرحمٰن اورا ختر مینگل کی بات چیت سیاسی و جمہوری عمل  کا حصہ ہے، آئندہ باقی اتحادیوں کیلئے بھی حکومت کے ساتھ رہنا مشکل ہوجائے گا۔سابق رکن رابطہ کمیٹی ایم کیو ایم لندن محمد انور نے کہا کہ , عمران فاروق کے  قتل میں میرا کوئی عمل دخل نہیں تھا، خالد شمیم سے کبھی نہیں ملا کیسے اسے عمران فاروق کو فارغ کرنے کا کہہ سکتا ہوں۔
خالد شمیم کہتے ہیں کہ اس نے عمران فاروق کو  کال کی جہاں میں بھی موجود تھا، کیا یہ بات قابل فہم ہے کہ عمران فاروق کے قتل کا منصوبہ ان کے  سامنے بنایا گیا، اسکرپٹ رائٹرکوکچھ توعقل ہونی چاہئے، عمران فاروق کے بانی ایم کیو ایم سے اختلاف کا مجھے علم نہیں ہے۔
عمران فاروق کو یہی تحفظات ہوں گے کہ فیصلہ رابطہ کمیٹی سے کروایا جاتا پھر ایک فون پر فیصلے تبدیل ہوجاتے،عمران فاروق کوشکایت تھی کہ,  فیصلے کراچی سے ہونے ہیں تووہیں سے کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔