Skip to main content

ماسک کی پابندی نے جرائم پیشہ افراد کی چاندی کرادی مگر کیسے؟ پریشان کن خبرآگئی........

ماسک کی پابندی نے جرائم پیشہ افراد کی چاندی کرادی مگر کیسے؟ پریشان کن خبرآگئی

لاہور (لیاقت کھرل) ماسک نے ڈاکوئوں اور جرائم پیشہ افراد کی پہچان بھی ختم کر کے رکھ دی ہے۔ گزشتہ 94دنوں میں قتل۔ ڈکیتی قتل  اغواسمیت ڈکیتی اور راہزنی کے واقعات میں 50فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تیار کردہ فہرست کے مطابق لاک ڈائون کے دوران قتل و غارت اور لڑائی جھگڑے کے واقعات میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ قتل و غارت کے واقعات میں زیادہ تر لاک ڈائون کے دوران معمولی نوعیت لڑائی جھگڑوں کے باعث پیش ہوئے ہیں۔
 گزشتہ 94 دنوں میں ڈکیتی مزاحمت پر 18شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا  ہ پولیس صرف 9واقعات میں ڈاکوئوں کا سراغ لگا سکی ہے جبکہ 10 واقعات میں ماسک پہننے کی وجہ سے ڈاکوئوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے ۔ 43خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ جس میں 19واقعات میں ملزمان نے ماسک پہنے ہوئے تھے اور ان 19واقعات سمیت 29واقعات کا پولیس تاحال سراغ نہیں لگا سکی ہے۔ اسی طرح لاک ڈائون میں نرمی کے ساتھ ہی شہر میں اندراج مقدمات کی شرح میں 30سے 40فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ہوم ڈیپارٹمنٹ کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈا ون میں نرمی کر کے مارکیٹیں او ربازار کھلنے پر شہر میں واقع مارکیٹوں،بازاروں اور ڈیپارٹمنٹل سٹوروں سمیت شا پنگ سنٹروں میں وارداتیں زیاد ہوئی ہیں اور اس میں 1090وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں جن میں زیادہ تر ڈیپارٹمنٹل سٹوروں اور بڑے بڑے شاپنگ مالز میں وارداتیں کی گئی ہیں اور اس میں 1090وارداتوں میں سے 40 سے 50 فیصد واقعات میں ڈاکوئوں نے ماسک پہن رکھے تھے۔پولیس صرف دو واقعات میں ایک ایک ڈاکو کو گرفتار کر سکی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے بچائو کے لیے جہاں ماسک کا پہننا سود مند ثابت ہو رہا ہے وہاں ماسک کا ڈاکوئوں کو کورونا سے بچائو کے ساتھ ساتھ لوٹ مار میں بھی فائدہ ہورہا ہے۔ محکمہ پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کورونا میں لاک ڈائون میں نرمی کے دوران لاہور میں ڈکیتی اور راہزنی   کے واقعات بڑھے ہیں اور اس میں گزشتہ 94دنوں میں خاص طور پر گزشتہ اڑھائی ماہ جن  میں اپریل اور مئی میں ڈاکوئوں نے لوٹ مار زیادہ کی ہے۔
گزشتہ دو ماہ 21 دنوں میں ڈکیتی اور لوٹ مار کے ڈیپارٹمنٹل اور شاپنگ مالز میں 251 واقعات پیش آئے ہیں۔ڈکیتی اورراہزنی کے پیش آنے والے 1090 واقعات میں سے 661 واقعات کے مقدمات درج کر سکی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈائون میں نرمی کے دوران ڈاکو وں  کے ہاتھوں ہونے والے لوٹ مار میں 50 فیصد واقعات میں ڈاکو وں نے ماسک پہن رکھے تھے جس کے باعث ڈاکووں کا سراغ لگانے میں دشواری کا سامنا رہا ہے۔ اس حوالے سے,  ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا ہے کہ لاک ڈا ون کے باعث پولیس کی زیادہ تر توجہ پہلے مارکیٹوں اور بازاروں کی سیکیورٹی سمیت مارکیٹوں اور بازاروں کو بند کروانے پر تھی,  اور اب سیل کئے گئے علاقوں پر ہے جس میں پولیس کی ذمہ داری زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جس میں ڈاکو وں اور اور راہزنوں کو موقع مل رہا ہے۔
تاہم اس حوالے سے تھانوں کی سطح پر محافظ فورس، پیروسکواڈ اور ڈولفن فورس کی گشت بڑھا دی گئی ہے جس میں گزشتہ چند دنوں کے;   دوران مختلف واقعات میں ڈاکو وں اور راہزنوں کو موقع سے گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔