Skip to main content

خدا کا خوف کرو ، اتنا ظلم نہ کرو کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں، صرف بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے وفاقی وزیرغلام سرور خان اپنی ہی حکومت پر برس پڑے


 اسلام آباد،لاہور”سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت زرعی مصنوعات پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا 

 جس میں وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ میں کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں ، ہم کہاں کہاں سے گندم امپورٹ کر رہے ہیں

 لیکن اپنے زمیندار کو حکومت کچھ دینے کو تیار نہیں ا ڑھائی تین سال میں زرعی سیکٹر

کیلئے ہم کچھ نہیں کر سکے، زرعی سیکٹر کو ہم ریلیف نہیں دے سکے ، حکومت نے انڈسٹری، سروسز سب کو ریلیف دیا مگر زراعت کو نہ دیا ، 52 بلین کے پیکیج کا اعلان ہوا تھا 

کم از کم اس کو یقینی بنایا جائے اور وہ ریلیز ہو ، غیر زرعی طبقے کی آواز میں زیادہ اثر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کابینہ میں ہوں مگر دکھ ہوتا ہے وہاں بھی ہماری بات سنی نہیں جاتی

 کابینہ میں بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے کابینہ میں بھی میں نے پوچھا تھا کہ گندم کہاں کہاں سے امپورٹ کر رہے ہیں 

امپورٹڈ گندم 2400 روپے من پڑ رہی ہے اپنے زمیندار کو 1800 دے رہے ہیں، اتنا ظلم اپنے زمیندار کے ساتھ نہ کیا جائے

سندھ نے جو ریٹ 2 ہزار رکھا وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اجلاس کے دوران رکن کمیٹی محمد فاروق اعظم ملک نے شکوہ کیا کہ محکمہ زراعت کے افسران کو کہیں کام کریں 

نہ کریں کم سے کم ہمارا فون اٹھا لیا کریں ، محکمہ زراعت کے دفتر جائیں تو ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے اسمبلی کل ختم ہونے والی ہے۔دوسری جانب اسپیکر

پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے بھی حکومت پنجاب کے کسانوں کے بارے میں اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا 

کہ کسانوں سے برا سلوک کب ختم ہو گا

حکومت کسانوں سے گندم نہیں خرید رہی تو پھر ضلع وار پابندی کس بات کی۔اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے

مسلم لیگ کسان ونگ کے وفد اور دوسری کسان تنظیموں کے نمائندوں نے لاہور میں ملاقات کی، کسانوں نے مسائل سے سپیکر کو آگاہ کیا۔ 

اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کسانوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پچھلے سال بھی یوکرائن کے کسانوں کو فائدہ پہنچایا گیا

 ہمارے کسان رل گئے تھے۔ پنجاب کے

کسانوں کا پتہ نہیں کیا حال ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے والے کسانوں سے برا سلوک کب ختم ہو گا

کسانوں کو باردانہ نہیں دیا جا رہا تو پھر ضلع وار بار دانے پر پابندی کا کیا مقصد ہے

حکومت کسانوں سے گندم کی خریداری نہیں کر رہی تو پھر پابندی کس بات کی

 بہاولپور ملتان، جنوبی پنجاب سمیت تمام اضلاع میں کاشت کار پر یشان ہیں

 سندھ حکومت اپنے کسانوں سے گندم 2 ہزار روپے میں خرید رہی ہے اورپنجاب کا کسان پریشان ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔