Skip to main content

’وزیر اعظم کو نہیں لگی تو انہوں نے کیسے لگوالی؟‘ بھائی کی فیملی کو ویکسین لگنے پر اسد عمر نے سخت پیغام دے دیا...........................



 نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی);  کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ کراچی میں وی آئی پیز کو کورونا ویکسین لگنا غلط ہے،;  اگر صوبے کورونا ویکسین کو کنٹرول نہیں کرسکتے';  تو وفاق یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔ 

نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ انہیں کل صبح شکایات ملیں کہ ویکسین;  ہیلتھ کیئر ورکرز کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی لگائی جا رہی ہے.   جس پر انہوں نے این سی او سی کو متحرک کیا۔ آج چھٹی کے روز ڈاکٹر فیصل سلطان کی سربراہی میں سندھ   کی حکومت سے میٹنگ ہوئی . جس میں یہ معاملہ اٹھایا گیا۔

این سی او سی سربراہ نے کہا کہ ویکسین قوم کی امانت ہے، وہ ڈاکٹرز جو اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر لوگوں کی مدد کر رہے ہیں.      سب سے پہلے یہ ان کا حق ہے لیکن   ;   ;  کراچی میں بڑی تعداد میں ویکسین ان لوگوں ; کو لگادی گئی ہے جو ہیلتھ کیئر ورکرز نہیں ہیں ; اور ان کی عمر بھی زیادہ نہیں ہے۔

اسد عمر کے ;   مطابق ویکسی نیشن شروع کرتے وقت پورا فریم ورک تیار کیا گیا تھا، اس وقت ایک تجویز آئی تھی کہ , ویکسین سٹریٹجک یونٹ بشمول وزیر اعظم اور کابینہ کو لگادی جائے لیکن اس تجویز کو مسترد کردیا گیا تھا، میں اپنے آپ کو ویکسین نہیں لگوا رہا تو انہیں کیسے لگا دی گئی،;  اگر صوبوں سے معاملہ کنٹرول نہیں ہوگا تو پھر وفاق کو یہ اپنے کنٹرول میں لینا پڑے گا ; ، ہم خاموش تماشائی بن کر تماشہ نہیں دیکھ سکتے۔, 

خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کو فرنٹ لائن ورکرز;   (طبی عملے) کیلئے کورونا ویکسین فراہم کی گئی تھی ۔ کراچی میں یہ ویکسین اسد عمر کے بھائی;   اور لیگی رہنما محمد زبیر کی بیٹی اور داماد سمیت ;  کئی سیاسی خاندانوں کے افراد کو بھی لگائی گئی .  جس پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر;  ضلع شرقی کراچی ڈاکٹر انیلہ قریشی کو    معطل کرکے ;      محکمہ صحت رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...