Skip to main content

ہم خزانہ پر بوجھ نہیں بلکہ سرکار ہماری قرض دار ہے، اس تاریخ تک پنشن بڑھا دیں پنشنرز نے ڈیڈ لائن دے دی


 اسلام آباد”آل پاکستان پینشنرزایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچیس فیصد 

اضافہ میں پینشنرز کو نظر انداز کرنا ناانصافی ہے، ہم خزانہ پر بوجھ نہیں بلکہ سرکار ہماری قرض دار ہے، 

حکومت ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں پچیس فیصد اضافہ پینشن میں جوتفریق رکھی ہے 

اسے ختم کیاجائے، پانچ مارچ تک پینشن میں پچیس فیصد اضافہ نہ کیاگیا 

تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے

ان خیالات کا اظہار آل پاکستان پینشنرزایسوسی ایشن کے سنٹرل ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ سید حفیظ سبزواری

 ممبران سید قائم عباس شاہ پروفیسر مسعود، میجر ریٹائرڈ نعیم الدین  رانا

محمد اسلم، رانا اشفاق احمد، محمد توقیر نے پیر کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کے دوران

ریٹائر ملازمین کو نظر انداز کرنا سراسر ناانصافی ہے۔حکومت کی جانب سے پنشن میں اضافے سے محعروم کئے جانے پر ریٹائر ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے 

حکومت کی جانب سے ریٹائر ملازمین کو خزانے پر بوجھ سمجھنا ناانصافی ہے ہم حکومت پر بوجھ نہیں بلکہ سرکار ہماری قرض دار ہے

انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے احتجاج مین پنشنرز بھی شریک تھے وعدے کے باوجود اضافہ نہ کیا گیا 

فنانس ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ہونے والی سمری میں ریٹائر ملازمین کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا سرکاری ملازمین کی طرح ریٹائر ملازمین بھی مہنگائی اور دیگر مسائل کا شکار ہیں 

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ریٹائر ملازمین کو نظر انداز کیا گیا ہے کیا حکومت یہ چاہتی ہے کہ ریٹائر ملازمین بھی مہنگائی 

اور دیگر مسائل کا شکار ہین ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو نظر انداز کیا گیا ہے کیا حکومت یہ چاہتی ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین احتجاج کا راستہ اختیار کرے۔

بزرگ افراد اور خواتین بھی سڑکوں پر نکلیں ہم اپنے جائز مطالبات کی منطوری تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے 

لاکھوں ریٹائرڈ ملازمین کی طرف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کرے

جن ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات رہتے ہیں حکومت فی الفور ادا کرے۔حکومت کی جانب سے جو پنشن میں تفریق رکھی گئی ہے اس کو ختم کرے

آل پاکستان پنشنرز ایسوسی ایشن میں وفاق، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے ہزاروں کی تعداد میں ریٹائر ملازمین شامل ہو رہے ہیں

 اور ملک بھر سے لاکھوں کی تعداد میں ریٹائرڈ ملازمین ہمارے ساتھ کھڑے ہیں حکومت کو 5 مارچ 2021 تک کی ڈیڈلائن دی جاتی ہے

اور حکومت نے 5 مارچ تک پنشن میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا تو اس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔