Skip to main content

قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس، اپوزیشن کا سپیکر ڈیسک کا گھیراﺅ، فواد چوہدری کا دھواں دار خطاب، الزامات کی بارش..........



 قومی اسمبلی کا ایک اور ہنگامہ خیز اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا اور سپیکر ڈیسک کا  ا گھیراو   [  کیا۔ اپوزیشن ارکان نشستوں پر کھڑے ہو کر سیٹیاں اور ڈیسک بجاتے رہے۔

وفاقی وزیر فواد چودھری نے قومی    اجلاس میں وفقہ سوالات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن این آر او لینے ;  کیلئے تمام حربے آزما رہی ہے، اپوزیشن جو مرضی کرلے این آر او نہیں ملے گا، چوروں کا سرغنہ خود لندن چلا گیا، ارکان کو یہاں چھوڑ گیا، لیگی خواتین ارکان نے   آئین کی کتاب کو ڈیسک بجانے کیلئے استعمال کیا، کتاب کو ڈیسک بجانے کیلئے استعمال کرنا آئین کی توہین ہے۔

فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ , ایوان میں   ایسے لوگ بھی آگئے ہیں . جوسرگودھامیں ٹرک چلاتے تھے، ایک صاحب تنظیم سازی کرتے کرتے ایوان میں پہنچ گئے; ، ایک صاحب ٹرک چلاتے، ;  دوسرے کے اپنے رکشے ہیں ،ایک نے ایوان میں جوتالہرایاان کوتمیزہی نہیں سکھائی گئی، اپوزیشن ارکان سے مذاکرات کاکوئی فائدہ نہیں۔

ان کا کہناتھا کہ مریم نوازنے عباسی صاحب اورصفدراعوان کے بھائی کو کہاکہ استعفے دےدو،یہ دونوں اسپیکرکے پاس آئے اورپاوں میں بیٹھ کر کہنے لگے کہ ,   ہم نے استعفے نہیں دیئے،;      26ویں آئینی ترمیم اہم ہے ; ،ایوان میں اپوزیشن کارویہ غیرجمہوری ہے، شازیہ مری نے چور;چور کے پوسٹرچوروں کے ہاتھوں میں دےدیئے، زرداری اورنوازشریف نے ووٹ خریدنے میں ماسٹرکیاہواہے۔ 

ان کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی کے 20 ارکان کے ووٹ بیچنے کاانکشاف ہواتو عمران خان نے 20 ارکان کوووٹ بیچنے پرپارٹی سے باہر اٹھا پھینکا، ن لیگ کے سارے چمچے ترمیم کے ;  مخالف کھڑے ہیں، پاکستان کے;  مستقبل کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہے تووہ یہ اپوزیشن ہے، نوازشریف نے ارکان اسمبلی کوخریدنے کی شروعات کی، بلاول،نویدقمر  ،شازیہ مری     آج بینظیربھٹو کے لکھے ہوئے ; کیخلاف جارہے ، یہ بینظیربھٹوکے تحریری        وعدے کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ان کا کہناتھاکہ,  ن لیگ   اسامہ بن لادن سے   بھی پیسے لے کر کھا گئی ، فضل الرحمان کے گھراوردفاتربھی لیبیا،عراق کے پیسوں سے بنے۔

مراد سعید کا کہنا ہے تھا کہ استعفوں پر یہ ;   وزیراعظم کو ڈیڈ لائن دیتے رہے ہیں، یہ چور آج بھی این آر او کیلئے گھوم رہے ہیں،;  کہتے تھے استعفے منہ پر دے ماریں گے، چوروں کو عمران خان ;  این آر او نہیں دیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔