Skip to main content

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے علاج معالجہ اوردستیاب وسائل کی تفصیلات جاری.....................



صوبائی وزیر صحت ; ڈاکٹر یاسمین راشدکی ہدایت پر محکمہ صحت پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے ; مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے دستیاب وسائل کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر;  اینڈ میڈیکل ایجوکیشن بیرسٹر نبیل اعوان نے بتایا ہے کہ تازہ اعداد و شمار کے;  مطابق پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں سے کورونا وائرس کے متاثرہ147665مریض;  صحت یاب ہو کر اپنے گھروں  ; کو واپس جا چکے ہیں .جبکہ گزشتہ 24گھنٹوں کے ; دوران 229 کورونا وائرس سے متاثرہ مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سرکاری   ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مختص   کئے گئے,  6522بستروں میں سے 4918خالی ہیں۔ 

لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے ;  مریضوں کے لئے مختص کئے گئے 1434بستروں میں سے 895 خالی ہیں۔پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کے آئیسولیشن وارڈز میں مختص کئے گئے 3538بستروں;  میں سے 2979خالی ہیں۔ لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کے آئیسولیشن وارڈز میں ; کورونا وائر س کے مریضوں کے لئے مختص کئے گئے.  490بستروں میں سے 399خالی ہیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کےایچ ڈی یو میں مختص کئے گئے 2463بستروں میں سے 1610خالی ہیں۔ لاہور کے سرکاری ;     ہسپتالوں کےایچ ڈی یو  میں مختص کئے گئے 759بستروں میں سے 438خالی ہیں۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ,;  پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں ; میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مختص کئے گئے 521وینٹی لیٹرز میں سے 329خالی ہیں۔  لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مختص کئے گئے,;   185وینٹی لیٹرز میں سے 58خالی ہیں۔

دوسری طرف ڈاکٹر یاسمین راشد نے ویکسینیشن سنٹر  پرکورونا ویکسین ختم ہونے کے حوالے سےافواہوں  کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ,;  پنجاب کے کسی بھی ویکسینیشن سنٹر پر ویکسین کی فراہمی معطل نہیں کی گئی; ،ایسی تمام خبریں من گھڑت ہیں.  جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماسک اور ہینڈ سینیٹائزر کے  استعمال اور بار بار ہاتھ دھونے;  سے کورونا وائرس سے یقینی طور پر محفوظ رہاجا سکتا ہے، پاکستان کے عوام متحد;  ہو کر کورونا وائرس کوشکست دیں۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔