Skip to main content

صبح صبح گھسڑ گھسڑ کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی میں نے رضائی صبح صبح گھسڑ گھسڑ کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئ


 صبح صبح گھسڑ گھسڑ کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی میں نے رضائی صبح صبح گھسڑ گھسڑ کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی۔

 میں نے رضائی کے ایک کونے سے دیکھا میری بیوی ادھر ادھر پھر رہی ہے

کمرے کی مین لائٹس بجھی ہوئی تھیں، اور باتھ روم کی ہلکی لائٹ روشن تھی۔ میں نے کھڑکیوں کے شیشوں کو دیکھا

 باہر ابھی اندھیرا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کوئی پانچ پونے پانچ بجے کا وقت ہو گا۔


میں کچی پکی نیند میں اٹھا اور واش روم چلا گیا۔ میں نے دیکھا وہ زارا کی یونیفارم پریس کر رہی ہے

میرے ذہن میں اس کی ستائش اور پذیرائی کے دو تین جملے آئے ”کونٹریبیوشن تو ہے نا یہ بھی

 اور شائد بہت بڑی۔ ساری زندگی اسی طرح کیا ہے، کبھی بچوں کو میلی یا بغیر استری یونیفارم میں سکول نہیں بھیجا ہر روز یونیفارم واش کرنا اور رات کو پریس کر کے سونا اس کی روٹین میں شامل رہا “۔


سردی کے احساس سے میرا سارا جسم کپکپا اٹھا

 میں بازو اکڑا کر سردی کے احساس کو کم کرتا ہوا  پھر لیٹ گیا۔ رضائی تھوڑی سی ٹھنڈی ہو چکی تھی

 لیکن کافی حد تک گرم ہی تھی۔ ایک دو جھرجھریاں لینے کے بعد میں اپنے آپ کو اپنی بیوی کا ممنون اور احسانمند محسوس کرتا کرتا، دوبارہ سو گیا۔


دراصل زارا ابھی خود سو رہی تھی

اور میرا خیال تھا پانچ ابھی نہیں بجے۔ پانچ بجے تو وہ اٹھ کر تیاری پکڑ لیتی ہے، اور ساڑھے پانچ بجے حسن کا الارم بول اٹھتا ہے

 مجھے عام طور پر چھ بجے جگایا جاتا ہے، اور میں پندرہ بیس منٹ میں تیار ہو کر حسن کو بس سٹاپ تک چھوڑنے چلا جاتا ہوں۔


مجھے سوئے ابھی پانچ منٹ بھی نہیں گذرے ہوں گے، کہ مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی:

”حسن کے پاپا، گیزر نہیں چل رہا اس کا الارمنگ لہجہ کچھ اتنا تیز تھا، کہ مجھے لگا میں سویا ہی نہیں تھا۔

”کیوں، کیا ہوا میں نے اسے اپنے سرھانے کھڑے دیکھ کر پوچھا۔

”پتہ نہیں رات ٹینکی میں پانی ختم ہو گیا تھا

 اور گیس بھی چلی گئی تھی۔ میرے خیال میں گیس نہیں جل رہی گیزر میں“۔

”اچھا ٹینکی بھری ہے ابھی  میں رضائی ایک طرف کے کر چارپائی پر اٹھ بیٹھا۔

”بھر رہی ہے لیکن گیزر والی ٹونٹی میں پانی نہیں آ رہا“۔

”یار پانی تو آنا چاہئے، ٹھنڈا ہی آئے  میں نے اس کی طرف دیکھ کر اپنی بات میں ریزن سمجھانے کی کوشش کی۔

”بہرحال پانی بھی نہیں آ رہا وہ سختی سے بولی۔

”اچھا اب کیا کروں پھر  میں نے جھلا کر پوچھا۔

”اوپر جا کر دیکھیں، کسی ہمسائے کے بچے نے والو نہ بند کر دیا ہو گیزر کے پانی کا“۔


مجھے ایک دم کچیچی سی چڑھی۔ بھلا ہمسائے کے بچے کو کیا ضرورت ہے والو بند کرنے کی

 لیکن مجھے اپنی بیوی کی لاجک، اور ریزنز کا خوب پتہ تھا۔

”اچھا دیکھتا ہوں جا کر میں کھج کر بولتا ہوا اوپر ممٹی میں چلا گیا۔

”ہوڈی چڑھا لو سر پر مجھے اپنے پیچھے ممٹی میں اس کی آواز آئی۔


میں نے ہوڈی چڑھا لی 

ان سردیوں میں تو میں دو دو ٹراؤزر اور دو دو جرسیوں کے اوپر جیکٹیں پہن کر سوتا رہا ہوں۔ کوئی کمپرومائز نہیں کیا میں نے سردی سے۔

بہرحال رات کے اس پہر میں نے ممٹی کے دروازے کو ہاتھ لگایا تو جیسے میرے پورے جسم میں کپکپی کی ایک لہر دوڑ گئی۔

میں نے دھکے سے ممٹی کا دروازہ کھولا تو جیسے رات کے سناٹے میں پہاڑ گرا دیا ہو

دروازہ کھٹاک سے کھلا اور دیوار سے جا ٹکرایا۔


میں چھت پر نکلا تو سامنے دھند ہی دھند تھی۔ مجھے اپنی چھت کی منڈیریں تک اوجھل نظر آ رہی تھیں

 ہر سمت ایک جیسی تھی۔ نہ کوئی مکان نظر آ رہا تھا، نہ کوئی ممٹی، اور نہ کوئی مسجد کا مینار

خاموشی سے محسوس ہو رہا تھا جیسے صبح ہونے میں ابھی کافی وقت تھا۔

میں نے دیکھا گیزر میں گیس جل رہی تھی

والو دیکھا وہ بھی اون تھا۔ گیزر کے پائپس میں پانی بہنے کی آواز آ رہی تھی 

مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔


”گیس تو جل رہی ہے، پانی بھی گرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا مجھے پائپس میں میں نے ٹھروں ٹھروں کرتے ہوئے نیچے اتر کر اپنی بیوی کو بتایا اور واپس اپنی رضائی میں گھس گیا۔

”والو چیک کیا تھا  وہ کچن میں جاتی جاتی بولی۔

”دیکھا تھا، مجھے تو اون ہی لگ رہا تھا

میں نے رضائی میں ٹھٹھرتے ہوئے جواب دیا۔

”پانی کیوں نہیں آ رہا پھر  اس نے کچن کا ٹیپ اون کر دیا۔

”یار ابھی پانی گر رہا ہے، کچھ دیر بعد بھر کر ٹیپس میں بھی آ جائے گا“ میں نے اپنا سا جواب دیا۔

”ٹیپ میں تو اسی وقت آ جاتا ہے

 اچھاوہ خاموش ہو گئی، اور میں اسی طرح پھر سو گیا۔


ابھی کوئی خواب شروع بھی نہ ہوا تھا، کہ مجھے اپنی بیوی کے حسن کو بولنے کی آواز سنائی دی۔

”تونے بھی آج ہی سر دھونا ہے

 پتہ ہے گرم پانی نہیں ہے اس لئے“ وہ تیز تیز سیڑھیاں چڑھتی اوپر آئی۔

”کیا ہوا ہے میں نے بیزار ہو کر پوچھا۔

”پانی کا ایک قطرہ نہیں آیا ابھی تک 

اور یہ ٹھنڈے پانی سے سر دھونے لگا ہے“۔

”یار حسن کیا مسئلہ ہے تمہیں“ میں نے اکتا کر کہا۔

”پاپا نہیں دھو رہا، ماما کو ایسے ہی لگ رہا تھا

 حسن چپ کر کے برش کرنے چلا گیا۔

”میں کہہ رہی ہوں، گیزر نہیں جل رہا

 اس کا والو بند ہے، میری کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔ بچوں نے پانی استعمال کرنا ہے، میں نے کچن کا کام کرنا ہے

تمہارے باپ کو سونے کی پڑی ہوئی ہے

 زارا، مجھے موبائل کی لائٹ اون کر کے دو، میں خود دیکھوں جا کرمیں ابھی دوبارہ لیٹا ہی تھا کہ مجھے ایک بار پھر اپنی بیوی کی آواز سنائی دی۔

”یار تم لوگوں کو تکلیف کیا ہے

تم لوگ آرام سے کیوں نہیں بیٹھ سکتے، چوتھی بار جگایا ہے مجھے۔ میں نے سارا دن کام کرنا ہے

میرا دماغ خراب ہو جائے گا، اتنی جلدی اٹھ کر“ میں چیخ کر اٹھا اور بغیر ہوڈی اوپر کیے دوبارہ ممٹی میں چلا گیا۔


دراصل مجھے ڈر تھا، کہ اگر میری بیوی اکیلی چلی گئی تو آ کر کہے گی مجھے سردی لگ گئی ہے


صبح صبح باہر نکل کر۔ بہتر ہے میں ساتھ چلا جاؤں، تاکہ کہوں میں بھی تو نکلا تھا سردی میں۔


بہرحال میرے ساتھ چڑھ کر اس نے آگ بھی جلتی ہوئی دیکھی گیزر کی، اور والو بھی۔ میں نے سب کچھ چیک کر کے دکھایا، کہ میرے حساب سے سب ٹھیک ہے۔

”ابھی گیزر بھرا نہیں ہے پوری طرح، بھر جائے گا، تو پانی آ جائے گا“ میں نے پھر وضاحت کی۔


نیچے اتر کر میں دوبارہ اپنی چارپائی کی طرف چلا گیا، اور وہ کچن میں۔

لو میں نے کہا تھا نا، والو بند ہے

 اب والو کھلا ہے، تو پانی آیا ہے۔ پہلے یہ دیکھ کر ہی نہیں آیا تھا تمہارا باپ

ایسے ہی آ کر کہہ دیا تھا مجھے سب ٹھیک ہے۔ اب میرے سامنے چیک کیا ہے، اور اب کھلا ہے، تو پانی آ نہیں گیا۔ میرے سارے دشمن ہیں، جیسے میں کچھ اپنے لئے کرتی ہوں۔ کیا بچے اور کیا باپ۔“

اس نے بڑبڑا کر ساری سچوایشن زارا کو ایکسپلین کر دی۔

”یار حسن، میں نے کچھ نہیں چھیڑا

 والو جیسا تھا، ویسے ہی ہے، پتہ نہیں کیا ہے یہ تیری ماما“ میں نے سرگوشی میں کہا۔

”پاپا مجھے پتہ ہے ماما ایسے ہی کرتی ہیں

 آپ نہ بولیں“ حسن نے ہلکے سے انداز میں کہا۔

”اوئے کیا سکھا رہے ہو میرے لال کو“ وہ نیچے کچن سے بولی۔

”چلو!“ میں ایک بار پھر اپنی رضائی میں جا لیٹا اور منہ سر لپیٹ لیا۔

”ماما کچھ نہیں، آپ میرا بریک فاسٹ تیار کر دیں جلدی سے“ حسن نے آواز دی


یہ لڑائی نہیں ہے، یہ بدزبانی نہیں ہے یہ ایک عام سا گھریلو ماحول ہے، اس کی خوبصورتی کو پہچانیں۔ کے ایک کونے سے دیکھا میری بیوی ادھر ادھر پھر رہی ہے

کمرے کی مین لائٹس بجھی ہوئی تھیں، اور باتھ روم کی ہلکی لائٹ روشن تھی۔ میں نے کھڑکیوں کے شیشوں کو دیکھا، باہر ابھی اندھیرا تھا

مجھے لگ رہا تھا کوئی پانچ پونے پانچ بجے کا وقت ہو گا۔


میں کچی پکی نیند میں اٹھا اور واش روم چلا گیا۔ میں نے دیکھا وہ زارا کی یونیفارم پریس کر رہی ہے

میرے ذہن میں اس کی ستائش اور پذیرائی کے دو تین جملے آئے ”کونٹریبیوشن تو ہے نا یہ بھی، اور شائد بہت بڑی

ساری زندگی اسی طرح کیا ہے، کبھی بچوں کو میلی یا بغیر استری یونیفارم میں سکول نہیں بھیجا

 ہر روز یونیفارم واش کرنا اور رات کو پریس کر کے سونا اس کی روٹین میں شامل رہا ہے“۔


سردی کے احساس سے میرا سارا جسم کپکپا اٹھا

میں بازو اکڑا کر سردی کے احساس کو کم کرتا ہوا  پھر لیٹ گیا۔ رضائی تھوڑی سی ٹھنڈی ہو چکی تھی، لیکن کافی حد تک گرم ہی تھی۔ ایک دو جھرجھریاں لینے کے بعد میں اپنے آپ کو اپنی بیوی کا ممنون اور احسانمند محسوس کرتا کرتا، دوبارہ سو گیا۔


دراصل زارا ابھی خود سو رہی تھی، اور میرا خیال تھا پانچ ابھی نہیں بجے۔ پانچ بجے تو وہ اٹھ کر تیاری پکڑ لیتی ہے

اور ساڑھے پانچ بجے حسن کا الارم بول اٹھتا ہے۔ مجھے عام طور پر چھ بجے جگایا جاتا ہے، اور میں پندرہ بیس منٹ میں تیار ہو کر حسن کو بس سٹاپ تک چھوڑنے چلا جاتا ہوں۔


مجھے سوئے ابھی پانچ منٹ بھی نہیں گذرے ہوں گے، کہ مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی:

”حسن کے پاپا، گیزر نہیں چل رہا

 اس کا الارمنگ لہجہ کچھ اتنا تیز تھا، کہ مجھے لگا میں سویا ہی نہیں تھا۔

”کیوں، کیا ہوا؟“ میں نے اسے اپنے سرھانے کھڑے دیکھ کر پوچھا۔

”پتہ نہیں رات ٹینکی میں پانی ختم ہو گیا تھا اور گیس بھی چلی گئی تھی۔ میرے خیال میں گیس نہیں جل رہی گیزر میں“۔

”اچھا ٹینکی بھری ہے ابھی“ میں رضائی ایک طرف کے کر چارپائی پر اٹھ بیٹھا۔

”بھر رہی ہے، لیکن گیزر والی ٹونٹی میں پانی نہیں آ رہا“۔

”یار پانی تو آنا چاہئے، ٹھنڈا ہی آئے“ میں نے اس کی طرف دیکھ کر اپنی بات میں ریزن سمجھانے کی کوشش کی۔

”بہرحال پانی بھی نہیں آ رہاوہ سختی سے بولی۔

”اچھا اب کیا کروں پھر؟“ میں نے جھلا کر پوچھا۔

”اوپر جا کر دیکھیں، کسی ہمسائے کے بچے نے والو نہ بند کر دیا ہو گیزر کے پانی کا“۔


مجھے ایک دم کچیچی سی چڑھی

بھلا ہمسائے کے بچے کو کیا ضرورت ہے والو بند کرنے کی۔ لیکن مجھے اپنی بیوی کی لاجک، اور ریزنز کا خوب پتہ تھا۔

”اچھا دیکھتا ہوں جا ک

 میں کھج کر بولتا ہوا اوپر ممٹی میں چلا گیا۔

”ہوڈی چڑھا لو سر پر“ مجھے اپنے پیچھے ممٹی میں اس کی آواز آئی۔


میں نے ہوڈی چڑھا لی۔ ان سردیوں میں تو میں دو دو ٹراؤزر اور دو دو جرسیوں کے اوپر جیکٹیں پہن کر سوتا رہا ہوں۔ کوئی کمپرومائز نہیں کیا میں نے سردی سے۔

بہرحال رات کے اس پہر، میں نے ممٹی کے دروازے کو ہاتھ لگایا تو جیسے میرے پورے جسم میں کپکپی کی ایک لہر دوڑ گئی۔

میں نے دھکے سے ممٹی کا دروازہ کھولا تو جیسے رات کے سناٹے میں پہاڑ گرا دیا ہو۔ دروازہ کھٹاک سے کھلا اور دیوار سے جا ٹکرایا۔


میں چھت پر نکلا تو سامنے دھند ہی دھند تھی۔ مجھے اپنی چھت کی منڈیریں تک اوجھل نظر آ رہی تھیں۔ ہر سمت ایک جیسی تھی۔ نہ کوئی مکان نظر آ رہا تھا، نہ کوئی ممٹی، اور نہ کوئی مسجد کا مینار۔ خاموشی سے محسوس ہو رہا تھا جیسے صبح ہونے میں ابھی کافی وقت تھا۔

میں نے دیکھا گیزر میں گیس جل رہی تھی۔ والو دیکھا وہ بھی اون تھا۔ گیزر کے پائپس میں پانی بہنے کی آواز آ رہی تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آیا۔


”گیس تو جل رہی ہے، پانی بھی گرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا مجھے پائپس میں“ میں نے ٹھروں ٹھروں کرتے ہوئے نیچے اتر کر اپنی بیوی کو بتایا اور واپس اپنی رضائی میں گھس گیا۔

”والو چیک کیا تھا“ وہ کچن میں جاتی جاتی بولی۔

”دیکھا تھا، مجھے تو اون ہی لگ رہا تھا“ میں نے رضائی میں ٹھٹھرتے ہوئے جواب دیا۔

”پانی کیوں نہیں آ رہا پھر؟“ اس نے کچن کا ٹیپ اون کر دیا۔

”یار ابھی پانی گر رہا ہے، کچھ دیر بعد بھر کر ٹیپس میں بھی آ جائے گا“ میں نے اپنا سا جواب دیا۔

”ٹیپ میں تو اسی وقت آ جاتا ہے، اچھا“ وہ خاموش ہو گئی، اور میں اسی طرح پھر سو گیا۔


ابھی کوئی خواب شروع بھی نہ ہوا تھا، کہ مجھے اپنی بیوی کے حسن کو بولنے کی آواز سنائی دی۔

”تونے بھی آج ہی سر دھونا ہے، پتہ ہے گرم پانی نہیں ہے اس لئے“ وہ تیز تیز سیڑھیاں چڑھتی اوپر آئی۔

”کیا ہوا ہے؟“ میں نے بیزار ہو کر پوچھا۔

”پانی کا ایک قطرہ نہیں آیا ابھی تک، اور یہ ٹھنڈے پانی سے سر دھونے لگا ہے“۔

”یار حسن کیا مسئلہ ہے تمہیں“ میں نے اکتا کر کہا۔

”پاپا نہیں دھو رہا، ماما کو ایسے ہی لگ رہا تھا“ حسن چپ کر کے برش کرنے چلا گیا۔

”میں کہہ رہی ہوں، گیزر نہیں جل رہا، اس کا والو بند ہے، میری کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔ بچوں نے پانی استعمال کرنا ہے، میں نے کچن کا کام کرنا ہے، تمہارے باپ کو سونے کی پڑی ہوئی ہے۔ زارا، مجھے موبائل کی لائٹ اون کر کے دو، میں خود دیکھوں جا کر“ میں ابھی دوبارہ لیٹا ہی تھا کہ مجھے ایک بار پھر اپنی بیوی کی آواز سنائی دی۔

”یار تم لوگوں کو تکلیف کیا ہے، تم لوگ آرام سے کیوں نہیں بیٹھ سکتے، چوتھی بار جگایا ہے مجھے۔ میں نے سارا دن کام کرنا ہے، میرا دماغ خراب ہو جائے گا، اتنی جلدی اٹھ کر“ میں چیخ کر اٹھا اور بغیر ہوڈی اوپر کیے دوبارہ ممٹی میں چلا گیا۔


دراصل مجھے ڈر تھا، کہ اگر میری بیوی اکیلی چلی گئی تو آ کر کہے گی مجھے سردی لگ گئی ہے، صبح صبح باہر نکل کر۔ بہتر ہے میں ساتھ چلا جاؤں، تاکہ کہوں میں بھی تو نکلا تھا سردی میں۔


بہرحال میرے ساتھ چڑھ کر اس نے آگ بھی جلتی ہوئی دیکھی گیزر کی، اور والو بھی۔ میں نے سب کچھ چیک کر کے دکھایا، کہ میرے حساب سے سب ٹھیک ہے۔

”ابھی گیزر بھرا نہیں ہے پوری طرح، بھر جائے گا، تو پانی آ جائے گا“ میں نے پھر وضاحت کی۔


نیچے اتر کر میں دوبارہ اپنی چارپائی کی طرف چلا گیا، اور وہ کچن میں۔

لو میں نے کہا تھا نا، والو بند ہے، اب والو کھلا ہے، تو پانی آیا ہے۔ پہلے یہ دیکھ کر ہی نہیں آیا تھا تمہارا باپ۔ ایسے ہی آ کر کہہ دیا تھا مجھے سب ٹھیک ہے۔ اب میرے سامنے چیک کیا ہے، اور اب کھلا ہے، تو پانی آ نہیں گیا۔ میرے سارے دشمن ہیں، جیسے میں کچھ اپنے لئے کرتی ہوں۔ کیا بچے اور کیا باپ۔“

اس نے بڑبڑا کر ساری سچوایشن زارا کو ایکسپلین کر دی۔

”یار حسن، میں نے کچھ نہیں چھیڑا، والو جیسا تھا، ویسے ہی ہے، پتہ نہیں کیا ہے یہ تیری ماما“ میں نے سرگوشی میں کہا۔

”پاپا مجھے پتہ ہے ماما ایسے ہی کرتی ہیں، آپ نہ بولیں“ حسن نے ہلکے سے انداز میں کہا۔

”اوئے کیا سکھا رہے ہو میرے لال کو“ وہ نیچے کچن سے بولی۔

”چلو!“ میں ایک بار پھر اپنی رضائی میں جا لیٹا اور منہ سر لپیٹ لیا۔

”ماما کچھ نہیں، آپ میرا بریک فاسٹ تیار کر دیں جلدی سے“ حسن نے آواز دی


یہ لڑائی نہیں ہے، یہ بدزبانی نہیں ہے،

یہ ایک عام سا گھریلو ماحول ہے، اس کی خوبصورتی کو پہچانیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...