Skip to main content

آسٹریا میں لاک ڈاون میں نرمی کا بڑا فیصلہ.......................



آسٹرین حکومت نے بڑھتی ہوئی کورونا تعداد کے باوجود ریاستی گورنرز کے ساتھ مشاورت کے بعد مزید ابتدائی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ فیصلہ ; کے مطابق ایسٹر میں آو¿ٹ ڈور کیٹرنگ کھولنے کی اجازت ہوگی۔اس کے ; علاوہ رواں ماہ کے وسط سے دوبارہ نوجوانوں اور;;;  سکولوں کے کھیلوں کی اجازت دی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق اس کے لئے شرط یہ ہے کہ ;,   کورونا انفیکشن کے کیسوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا .تو یہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

وزیراعظم سبسٹین کرز نے کہا ہے کہ;  اپریل میں ثقافت کو ایک بار پھر وسیع پیمانے پر شروع ہونا چاہئے۔ یہی بات سیاحت ; پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ نیز ڈور گیسٹرونومی کے افتتاح کو اپریل تک حل نہیں کیا جائے گا ۔ یہ سب اس شرط کے تحت ہے کہ انفیکشن میں بڑے پیمانے;  پر اضافہ نہیں ہوتا۔ 


 وزیراعظم سبسٹین کرز نے پیر کی شام وفاقی وزیر;  صحت روڈلف انشوبر اور ریاستی گورنرز کے ساتھ ایک پریس کانفرنس ; میں وضاحت کی۔ گورنر مارکس والنر نے مارچ کے وسط میں اپنی وفاقی ریاست میں    گیسٹرونیومی کھولنے کا اعلان کیا تھا . جس کے تحت اب بھی ; مختلف ٹیسٹوں کی ;    مختلف حالتوں کی جانچ کی جارہی ہے۔


 وزیر صحت روڈولف انشوبر نے اعلان کیا کہ نرمی کے باوجود انفیکشن کی تعداد کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مثال کے طور پر خاص طور پر بری طرح متاثرہ علاقوں میں ایکزٹ ٹیسٹ کی ذمہ داری ہونی ;  چاہئے جیسا کہ فی الحال ٹائرول میں ایسا ہی ہے۔ اس بارے میں آئندہ دنوں ;  میں کیرنتن اور سالزبرگ کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔ کام کی  جگہوں پر ایف ایف پی 2 ماسک پہننا لازمی ہے۔ تنازعہ کا اصل نکتہ کیٹرنگ   انڈسٹری کا افتتاح تھا .جسے ریاستی سربراہوں نے فروغ دیا لیکن وزارت صحت نے;  سب سے بڑھ کر شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھاہے۔ویانا کے میئر مائیکل لڈوگ اور اوپر آسٹریا کے گورنر جوہانا میکل لیٹنر نے مذاکرات میں;  ریسٹوران کو کھولنے ; کی حمایت کی تھی۔ اپوزیشن کی طرف سے حکومتی اقدامات کے ; منصوبوں کو پذیرائی نہیں ملی۔


Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...