Skip to main content

پاکستان !میں لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوگا عمران خان،کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد 1758

وزیراعظم عمران خان نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا جبکہ ملک میں کرونا وائرس سے 24 اموات ہوچکی ہیں اور اس کے کیسوں کی تعداد بڑھ کر 1758 ہوگئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے سوموار کی شب کرونا وائرس کے بحران پر قوم سے ایک اور خطاب کیا ہے۔انھوں نے ملک میں اس وائرس کے پھیلنے سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کرونا ٹائیگرز ریلیف فورس اور کرونا وائرس ریلیف فنڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کو خبردار کیا ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ ان ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے لوگ پاکستان میں بھوک کا شکار ہو کر موت کے مُنھ میں جاسکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب لوگ افراتفری میں ضرورت سے زیادہ چیزیں خرید کرلیتے ہیں تو اس سے اشیاء کی مصنوعی اور اچانک قلّت پیدا ہوجاتی ہے اور قیمتیں چڑھ جاتی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا:’’ اہم بات یہ ہے کہ کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں ملک کی صورت حال کو ملحوظ رکھا جائے۔‘‘انھوں نے بھارت کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے بعد وزیراعظم کوعوام سے معافی مانگنا پڑی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کسی سے کوئی رعایت برتتا ہے اور نہ امیر اور غریب میں کوئی تمیز کرتا ہے انھوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس کے وزیراعظم بورس جانسن کا کووِڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے
ان کا کہنا  تھا  کہ کرونا وائرس کے خلاف ہر ملک اپنے وسائل اور صلاحیت کے مطابق جنگ لڑرہا ہے اور اب تک اس جنگ میں چین سب سے کامیاب ثابت ہوا ہے۔اس نے کرونا وائرس پھیلنے کے اولین مقام ووہان شہر میں لاک ڈاؤن کیا  اور پھر وہ اس وائرس کو شکست دینے میں کامیاب رہا ہے
تاہم ان کا کہنا  تھا کہ اگر پاکستان کی صورت حال بھی چین ایسی ہوتی تو وہ بھی ملک میں لاک ڈاؤن کردیتے لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے  کہ ہماری آبادی کا ایک قابل قدر حصہ غُربت کی زندگی بسر کررہا ہے
کرونا وائرس کے کیس 
دریں اثناء صوبہ سندھ کے محکمہ صحت نے کرونا وائرس کے 31 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔اس کے بعد صوبہ میں اس مہلک وائرس کا شکار افراد کی تعداد 566 ہوگئی ہے
نئے تصدیق شدہ تمام مریض تبلیغی جماعت کے ارکان ہیں۔انھیں حیدر آباد میں واقع نور مسجد میں الگ تھلگ رکھا جارہا ہے۔قبل ازیں کراچی میں کرونا وائرس سے ایک 63 سالہ خاتون کی موت اور 27 کیسوں کی تصدیق کی گئی تھی۔ یہ تمام افراد مقامی طور پر کرونا وائرس کے متاثرہ کیسوں سے ملنے جلنے کی وجہ سےاس وَبا کا شکار ہوئے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت کے مطابق متوفیہ خاتون میں دو روز قبل ہی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔اس کو نظام تنفس کا دائمی عارضہ لاحق تھا اور وہ دس روز قبل سعودی عرب سے لوٹی تھی۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے کرونا کی وَبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیےپانچ اپریل تک جمعہ سمیت پنج وقتہ نمازوں کی مساجد میں کثیر شرکاء کے ساتھ باجماعت ادائی پر پابندی عاید کررکھی ہے۔
صوبہ سندھ کے محکمہ داخلہ کے مطابق مسجد میں صرف تین سے پانچ افراد کو باجماعت نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔یہ پابندی دوسرے مذاہب کے پیروکاروں پر بھی عاید ہوگی اور وہ بھی اپنی عبادت گاہوں میں اجتماعات منعقد نہیں کرسکتے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں کرونا وائرس سے سوموار کو مزید تین افراد کی موت ہوئی ہے جس کے بعد وہاں اس مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد نو ہوگئی ہے۔ملک کے اس سب سے بڑے صوبہ میں اب تک اس مہلک وائرس کا شکار افراد کی تعداد 638 ہوچکی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں اس وَبا کا شکار افراد کی تعداد بڑھ کر 217 ہوگئی ہے۔صوبہ بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ 152 افراد زیر علاج ہیں ہیں۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کرونا وائرس کے 51 کیسوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام آزاد جموں وکشمیر اور گلگت، بلتستان میں 134افراد کے اس مہلک مرض میں مبتلا ہوئے ہیں۔آزاد کشمیر کی حکومت نے علاقے میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کرفیو نافذ کررکھا ہے۔ریاست میں کسی کوآنے اور وہاں سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...