Skip to main content

کورونا وائرس کس طرح آپ کو متاثر کرتا ہے!

اس وقت پوری دنیا میں کوویڈ ۔19 کے سبب بننے والا وائرس پھیل رہا ہے۔ تقریباً 6 اقسام کے کورونا وائرس انسانوں کو متاثر کرتے ہیں جس میں سے کچھ عام سردی اور کچھ سارس اور مرس جیسی وبا کا سبب بنتے ہیں۔
کورونا وائرس کا نام اس کی شکل کی مناسبت سے رکھا گیا ہے جس میں تاج کی طرح کے سپائکس اس کی سطح سے نکلے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ وائرس تیل لپڈ مالیکیولز کے بلبلے میں لپٹا ہوا ہوتا ہے، جو صابن سے الگ ہوجاتا ہے۔
یہ وائرس ناک، منہ یا آنکھوں میں جسم کے ذریعے داخل ہوتا ہے، پھرراستے میں موجود خلیوں سے منسلک ہوتا ہے جو ACE2 نامی پروٹین بناتے ہیں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ اِس وائرس کی ابتدا چمگادڑوں میں ہوئی ہےجس کی وجہ اسی طرح کا پروٹین ہے۔
اس کے بعد وائرس سیل کی جھلی کے ساتھ اس کی تیل کی جھلی کو فیوز کرکے سیل کو متاثر کرتا ہے۔ ایک بار اندر داخل ہونے پر کورونا وائرس جینیاتی مواد کا ایک حصہ جاری کرتا ہے جسے آر این اے کہتے ہیں۔
وائرس کا جینوم 30،000 سے کم جینیاتی حروف جتنا ہوتا ہے(انسانوں کا 3 ارب سے زیادہ ہے)۔ متاثرہ سیل آر این اے کو پڑھتا ہے اور پروٹین بنانا شروع کردیتا ہے۔ اس سے مدافعاتی نظام مستحکم رہتا ہے اور وائرس کی نئی اشکال بنانے میں مدد کرتا ہے۔ اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا کو ہلاک کرنے میں مدد دیتے ہیں مگر وائرس کے خلاف کارآمد نہیں ہوتے ہیں۔ محققین اینٹی ُوائرل دوائیوں کے لئے تحقیقُ کر رہے ہیں جو وائرل پروٹین کو خراب کر سکتے ہیں اور انفیکشن کو روک سکتے ہیں
جیسے یہ انفیکشن بڑھتا ہے سیل کی مشینری نئی اسپائکس اور دیگر پروٹینوں کو نکالنا شروع کردیتی ہے جو کورونا وائرس کی مزید شکلیں تشکیل دیتی ہیں  یہ نئی شکلیں  جمع ہو کر سیل کے بیرونی کناروں تک پہنچائی جاتی ہیں
اس کے بعد انفیکشن پھیلنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ہر متاثرہ سیل خلیہ ٹوٹنے اور ختم ہونے سے پہلے وائرس کی لاکھوں نئی شکلیں جاری کرسکتا ہے۔ یہ وائرس مزید قریبی خلیوں کو متاثر بھی کر سکتا ہے یا پھیپھڑوں میں بوندوں کی صورت میں ختم ہوسکتا ہےُ
کورونا وائرس کا یہ انفیکشن بخار کا سبب بنتا ہے کیونکہ مدافعاتی نظام وائرس کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سنگین صورتوں میں قوت مدافعت کا نظام ہار مان جاتا ہے اور پھیپھڑوں کے خلیوں پر حملہ کرنا شروع کرسکتا ہے۔ پھیپھڑوں میں سیال اور مرتے خلیے رکاوٹ بنتےہیں، جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے ُانفیکشن کی ایک چھوٹی سی مقدار شدید سانس کی تکلیف کا سنڈروماور ممکنہ طور پر موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔