گذشتہ ہفتے میں پانی کی بوتل خریدنے دکان گیا اور یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ بوتلوں کے شیلف خالی تھے۔ بڑے سٹوروں میں ٹوکریاں خالی پڑی تھیں۔ آلو، گاجروں کا سٹاک بھی ختم ہو چکا تھا۔
دکان میں کام کرنے والے افراد نے ماسک پہن رکھے تھےُ- اور داخلی راستے پر ٹرالی کا ہینڈل صاف کرنے کے لیے جراثیم کش ٹشو بانٹ رہے تھے۔ُ
دکان کے ملازم نے ُمجھے بتایا 'چیزیں سیکنڈوں میں غائب ہو رہی ہیں۔
اس نے مجھ سے کہا کہ پانی کی بوتلیں حاصل کرنے کے لیے مجھے اگلی صبح دکان کھلنے کے وقت آنا پڑے گا۔ لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ مجھے پانی ملے گا۔
اگلی صبح بھی دکان لوگوں سے بھری ہوئی تھی “اور سٹاک ہاتھوں ہاتھ بک رہا تھا۔

Comments
Post a Comment
Please do not enter any spam link in the comment box.