سعودی عرب کے حقیقی فرمانروا ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر سینیئر شہزادوں کی گرفتاریوں سے چہ مگوئیوں کی ایک نئی لہر چل نکلی ہے کہ آخر انھیں اچانک کیوں ہٹایا گیا ہے۔
محمد بن سلمان جنھیں عرف عام میں ایم بی ایس کہا جاتا ہے ”ان کے لیے تنازعات کوئی نئی چیز نہیں۔ سنہ !،2015 میں جب سے ان کی تابناک ترقی کی شروعات ہوئی، تب سے انھوں نے سیاسی نظام میں ،سب سے اوپر پہنچنے کے لیے ؛بے رحمانہ عزائم کا مظاہرہ کیا ہے”اور اس کے لیے انھوں نے اپنے ہر طرح کے مخالفین اور نقادوں کو خاموش کروایا ہے۔
اس بار ایم بی ایس کے عزائم کا شکار سعودی شاہی خاندان کے اراکین ہوئے ہیں جن میں ان کے ایک چچا اور سابق وزیر داخلہ شہزادہ احمد بن عبد العزیز، اور ایک کزن شہزادہ محمد بن نائف (ایم بی این) شامل ہیں جو کہ سابق ولی عہد اور وزیر داخلہ رہ چکے ہیں۔
انھیں حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے غداری کے ُمتعلق تفتیش ہو رہی ہے ہر چند کہ ان پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا ہے۔

Comments
Post a Comment
Please do not enter any spam link in the comment box.