Skip to main content

کرونا وائرس دنیا کے لیے ایک اور نائن الیون

کرونا وائرس ۔ دنیا کے لیے ایک اور نائن الیون

مسعود انور
نائن الیون جدید دنیا کا ٹرننگ پوائنٹ تھا جس کے بعد سے دنیا یکسر تبدیل ہوگئی ۔ نائن الیون ایک کامیاب تجربہ تھا جس کے بعد دہشت گردی کے نام پر کسی بھی ملک پر لشکر کشی اور انسان کی اپنی حفاظت کے نام پر بنیادی انسانی حقوق کی معطلی و ضبطگی دنیا کا آسان ترین کام بن گیا ۔ گزشتہ بیس برسوں میں اس دنیا کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے ، نائن الیون سے قبل اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ کچھ یہی صورتحال کرونا وائرس کے نئے ایڈیشن کے بعد دنیا کو درپیش ہے ۔ کرونا وائرس Ncovid 19 سے قبل یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کوئی بھی ملک خود ہی اپنا مقاطعہ بھی کرسکتا ہے ، خود ہی پوری دنیا سے اپنا ہر قسم کا رابطہ بھی منقطع کرسکتا ہے اور اپنے ہی پورے کے پورے شہر کو قید خانے میں تبدیل بھی کرسکتا ہے ۔ کرونا وائرس کے بعد یہ سب کچھ انتہائی کامیابی سے ہواکہ شہریوں کو ان کے اپنے گھروں میں قید تنہائی کا شکار کردیا گیا ہے  اب ایک ایک کرکے سارے ملک اپنے آپ کو ازخود لاک ڈاون کرتے جارہے ہیں ۔

دنیا بھرمیں درجنوں بیماریوں سے لاکھوں لوگ مرجاتے ہیں، مگر کبھی بھی یہ صورتحال سامنے نہیں آئی ۔ فلو اور کرونا کی علامات اور نتائج میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ، دونوں بیماریاں ایک ہی طرح سے ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتی ہیں ۔ فلو کی ہلاکت خیزی اب تک دنیا میں کرونا کے مقابلے میں انتہائی زیادہ ہے ُ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر برس ساڑھے چھ لاکھ افراد فلو کی وجہ سے موت کی نیند سو جاتے ہیں ۔ چونکہ اس کے بارے میں کہیں پر کوئی نیوز الرٹ نہیں آتا اس لیے پوری دنیا میں اس سے کوئی خوف بھی نہیں ہے ۔ فلو سے سب سے زیادہ موت کا شکار امریکا میں ہوتے ہیں ۔ اب تک رواں سیزن میں امریکا میں فلو ُسے مرنے والوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ فلو کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد 3 لاکھ 70 ہزار ہے ۔ امریکا میں ابھی تک فلو سے متاثر ہونے والوں کی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ سے زاید ہے ۔ اب اس پر حیرت ہی ظاہر کی جاسکتی ہے کہ اسی امریکا میں محض 3 ہزار 774 افراد کے کرونا سے متاثر ہونے اور صرف 69 افراد کی ہلاکت پر ہنگامی حالت کا اعلان کردیا جائے ۔ لوگ اتنے خوفزدہ ہوجائیں کہ اسٹور خالی ہوجائیں اور لوگ سپر اسٹورز میں اشیائے خورد و نوش کے لیے ایک دوسرے گتھم گتھا ہوجائیں ۔ نیویارک ائرپورٹ پر اسکریننگ کی وجہ سے ہزاروں لوگ جمع ہوجائیں اور انہیں باہر نکلنے میں سات گھنٹے لگ جائیں ۔ اس وقت پوری دنیا کو عملی طور پر بند کردیا گیا ہے  بین الاقوامی آمدورفت بتدریج صفر پر لائی جارہی ہے ۔ اندرون ملک آمدورفت بھی بیشتر ممالک میں روکی جاچکی ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی یہ کام جاری ہے ۔

کرونا سے خوفزدہ کرنے کے عمل کو جانچنے کا بہترین ٹیسٹ کیس پاکستان ہے  پاکستان میں ابھی تک کرونا کے مریضوں کی تعداد دو سوکا عدد بھی نہیں چھو سکی ہے ۔ یہاں پر ایک بھی سیکنڈری کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے یعنی ایک بھی فرد ایسا نہیں ہے جسے پاکستان میں کسی مریض سے یہ مرض منتقل ہوا ہو ۔ سارے کے سارے مریض ایران یا کسی اور ملک سے آئے ہیں ۔ پاکستان میں پہلا مریض کراچی کا یحییٰ جعفری تھا جسے پاکستان آنے کے دس دن کے بعد اسپتال میں داخل کیا گیا تھا ۔ یحییٰ جعفری میں بھی اتفاقا کرونا دریافت ہوگیا تھا کہ وہ اپنے بخار اور کھانسی کی تکلیف کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کے ساتھ آغا خان اسپتال پہنچا تھا ۔ ایران سے آمدکے بعد یحییٰ جعفری دس دن اپنے گھر والوں کے ساتھ رہا ، کراچی یونیورسٹی میں کلاس لیتا رہا اور محلے میں اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا اور کھاتا پیتا بھی رہا ۔ ان سب کے باوجود یحییٰ جعفری سے کسی بھی ایک فرد کو یہ مرض منتقل نہیں ہوا ۔ مگر سندھ میں فوری طور پر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے اور اب آہستہ آہستہ سندھ کو لاک ڈاون کی طرف لے کر جایا جارہا ہے ۔ کورو نا کے نام پر ایسے ایسے اقدامات کیے گئے جن کی کوئی توجیہہ سمجھ میں نہیں آتی ۔ شادی ہال بند ، پارکس سمیت ساری تفریح گاہیں بند  کرکٹ ٹورنامنٹ میں تماشائیوں پر پابندی ، ہر قسم کے مذہبی و سماجی اجتماع پر پابندی  مساجد میں نماز کا اجتماع مختصر ترین وغیرہ ۔

سندھ حکومت میں بیٹھا کوئی بزرجمہر بتائے کہ شادی ہال میں تو پھر بھی لوگ فاصلے پر ہوتے ہیں ، اب گھروں میں شادی ہونے کی وجہ سے تو تنگ جگہ پر زیادہ بھیڑ بھاڑ ہوگی تو اس سے کرونا وائرس زیادہ نہیں پھیلے گا ۔ میدان میں کرکٹ کھیلنے والے بچے اور پارک میں جاگنگ کرنے والے کس طرح سے کرونا وائرس پھیلائیں گے؟ رات گیارہ بجے ریسٹورنٹ بند کرنے سے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ رات گیارہ بجے سے پہلے کرونا کو کسی پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ سب سے اہم ترین بات کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے تو زیادہ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں ۔ کراچی کی پبلک ٹرانسپورٹ کو جاننے والے جانتے ہیں کہ کس طرح سے مسافر جانوروں کی طرح ویگنوں میں ٹھنسے ہوتے ہیں ۔ ایک کا چہرہ دوسرے کے کندھے پر ہوتا ہے ۔ چونکہ یہ سارے لوگ کم تنخواہ والے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے موسمی بیماریوں کا شکار بھی خوب ہوتے ہیں اور کھانس وچھینک بھی خوب رہے ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسا ہی حال چنگ چی کا ہے ۔ اگر سندھ یا کراچی میں کرونا وائرس پھیل رہا ہوتا تو اب تک آدھا کراچی کرونا وائرس میں مبتلا ہوتا ۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے مگر حکومت اور میڈیا نے مل کر کرونا وائرس کے خوف میں پورے سندھ خصوصی طور پر کراچی کو ضرور مبتلا کردیا ہے ۔ میڈیا کا تو یہ حال ہے کہ اسے پاکستان میں کرونا مریض کے دریافت ہونے سے قبل ہی اس کی ہدایات آچکی تھیں کہ کرونا کو کوریج تفصیلی دینی ہے ۔

اب خوف کا یہ عالم ہے کہ اہل کراچی راشن کا ذخیرہ کررہے ہیں اور ایک دوسرے سے خوفزدہ ہیں  یہ اس کراچی کا حال ہے جہاں پر روز صرف کتے کے کاٹے کے 150 کیس رپورٹ ہوتے ہیں مگر روز کرونا کے 15 مریض بھی رپورٹ نہیں ہورہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر حکومت میں دیے گئے املا پر چلنے والے افراد بیٹھے ہوں اور میڈیا اپنے ہاتھ میں ہو، تو اصل خطرے سے بھی لوگ خوفزدہ نہیں ہوتے اور مصنوعی خطرے سے اتنے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا بھی چھوڑ دیتے ہیں ۔ اصل میں یہ خوف ہی ہے جو انسان کو بزدل بناتا ہے اور دوسروں کا غلام بنا دیتا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں، فارماسسٹ اور صحافی جن لوگوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کو اصل حقائق سے آگاہ کرتے ، وہی اس پروپیگنڈے کا زیادہ شکار ہیں انہوں نے ہی شہریوں کو ڈرانے میں سبقت لی ہوئی ہے ۔ خوف ہی شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔

آئندہ آرٹیکل میں جائزہ لیتے ہیں کہ کرونا وائرس سے کیا کچھ مطلوب ہے ، ان شاء اللہ تعالیٰ -اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔