Skip to main content

سوشل میڈیا پہ موجود سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کو اکثر ویلا اور فارغ سمجھا جاتا ہے

تمام سوشل میڈیا کے سپاہیوں کے نام... ..
سوشل میڈیا پہ موجود سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کو اکثر ویلا اور فارغ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لوگ فارغ ہیں کہ ہر وقت آن لائن رہتے ہیں کوئی کام نہیں انکا.
بس یہ ہیں فیس بک ہے، ٹوئیٹر ہے، وٹس ایپ پے اور یہ دنیا کے سب سے ویلے بندے.
گھر والے اور دوست احباب سمجھتے ہیں کہ کسی کے عشق میں پاگل ہوگئے ہیں شاید، ہر وقت بس محبوبہ کے ساتھ بزی رہتے ہیں، دوستوں کا گلہ کہ یار جب سے گرل فرینڈ ملی ہے بس سارا دن تم موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ بس اور تو کوئی کام ہی نہیں سارا دن لڑکیوں کے پیچھے بھاگتے ہو، فیس بک وٹس ایپ اور تم بس.
لڑکیوں کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ سارا دن موبائل میں لگی رہتی ہو پتہ نہیں کو مل گیا وغیرہ وغیرہ.
 یہ جملہ تقریباً ہر ایکٹویسٹ نے سنا ہوگا اس کے بدلے ہمارے پاس سوائے مسکراہٹ کے اور کوئی جواب نہیں ہوتا.
 کیا واقعی ایسا ہے؟ اگر یہ سوشل میڈیا کے ویلے نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟
کیا یہ بہتر نہیں سوشل میڈیا کو صرف شغل میلے کی بجائے جنگی مورچے بنا کر استعمال کیا جائے؟

آج کل جہاں جدید سے جدید ہتھیاروں اور دفاعی ٹیکنالوجی میں جدت آتی جارہی ہے وہیں جنگ کا دائرہ کار سرحدوں کی قید سے نکل کر عام افراد تک پہنچ چکا ہے اور اب جنگ عوام کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنے اور آپسی میں نفرتوں کا بیج بو کر مٹا ڈالنے کا نام بن گیا ہے.

اسی کو ہی فیفتھ جنریشن وار کا نام دیا جاتا ہے میں اسے سائیکالوجیکل وار فئیر کہوں گا جس میں ملکی سرحدوں کی بجائے اس ملک کے شہریوں جو اپنے محافظوں کے پشت پناہ اور انکا حوصلہ ہوتے ہیں کو نشانہ بنا کر انہی محافظوں کے خلاف کرتے ہیں، ایک ہی ملک میں رہنے والوں کو سیاست اور فرقہ واریت کے نام پر ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا جاتا یے، جہاں ایک مذہب کے ماننے والوں کو کافر کافر کہنے پہ لگا دیا جاتا ہے.
جہاں ملکی معیشت، سلامتی اور ملکی دفاعی اداروں کے خلاف جھوٹا پروپگنڈہ کرکے ملک میں انتشار پھیلایا جاتا ہے جو عوام کو بےچینی اور ذہنی انتشار کا شکار بنا کر اپنے ہی ملک سے متنفر کر دیتا ہے.

یہ ففتھ جنریشن وار کتنی خطرناک ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ سرحد پہ لڑی جانے والی جنگ میں دشمن آمنے سامنے ہوتا ہے جسکی پہچان کافی آسان ہوتی ہے لیکن ففتھ جنریشن وار جس میں آپکو دوست اور دشمن کا علم بھی نہیں ہو پاتا دشمن آپکے بھیس میں آپکے سامنے ہوتا ہے اور آپ کو اسی سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے جو آپ کے ساتھ رہ کر آپکی ہی جڑیں کاٹنے کی تگ ودو میں رہتا ہے.

پاکستان ایسے ایک وارفئیر کا شکار ہے جس میں ہماری قوم کو ایک نہیں بلکہ کئی ملکوں کی طرف سے اس وار کا سامنا ہے جن میں سرِ فہرست بھارت اور بدقسمتی سے نمک حرام افگاندستان، امریکہ، اسرائیل کے کی حکومتوں کے زیرِ سایہ چلنے والے پروپگنڈہ آئی ٹی سیل شامل ہیں جن کو ان ممالک کی ایجنسیوں کی بھرپور مدد حاصل ہوتی ہے بلکہ بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ دشمن تو دشمن ہمیں ملک کے اندر ہی کئی ایسے غداروں کا سامنا ہے جو دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کی پوری کوشش میں رہتے ہیں ان میں سیاسی آئی ٹی سیلز، پی ٹی ایم، کنکترے قابلِ ذکر ہیں.....

ان سب کا ایک ہی کام ہے جھوٹ جھوٹ جھوٹ بول کر پاکستانیوں کو اسلام ، پاکستان، پاک فوج، نظریہِ پاکستان کے خلاف بدظن کرکے،جمہوریت اور سیاست کے نام پہ اتحاد کو پارہ پارہ کرکے، فحاشی عریانی اور بےراہروی کی طرف گامزن کر دیں تاکہ یہ ملک خود ہی اندر سے کھوکھلا ہو کر ریت کی دیوار بکھر جائے.

اب آتے ہیں اس صورت میں جب کہ الحمدللہ پاک فوج نے پاکستان کی سرحدوں کو تو ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے ہمیں جسمانی طور پر جغرافیائی طور پر کسی دشمن سے یہ خطرہ نہیں کہ وہ ہمارے اندر گھس کر ہمیں مارے یا ہم پر فوجیں اتار کر جنگ مسلط کردے.

تو یہاں سے شروع ہوتی ہے سائیکلوجیکل وار جسے پاک فوج نہیں بلکہ عوام نے لڑنا ہوتا ہے.

ملک کے خلاف اٹھتی افواہوں کو عوام ہی نے رد کرنا ہوتا ہے لیکن اک انتہائی محبِ وطن قوم ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہماری قوم جتنی اپنے وطن اپنی افواج سے محبت کرتی ہے اتنی ہی جلدی سچ جھوٹ کی تصدیق کیے بغیر اڑتی افواہوں پر یقین کرکے مایوس بھی ہو جاتی ہے اور اِنکی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں حرف بہ حرف سب کو سامنے رکھ کردیا جائے جو کہ نہیں ہوسکتا بس دشمن اسی بات کا فائدہ اٹھا کر ہمیں تصویر کا منفی رخ پیش کر مایوس کرتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہوتا.
جو کچھ  دیکھ رہے ہوتے ہیں سوچ رہے ہوتے ہیں اس میں اور ان چند لوگوں کی سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے جو کچھ انکے سامنے ہوتا ہے وہ ہم کبھی نہیں دیکھ سکتے اسی لیے انہیں انتہائی مشکل فیصلے لینے پڑتے ہیں اور ہمارا دشمن ہمارے جذباتی پن سے اسی موقع پر فائدہ اٹھاتا ہے.

ایسے میں پھر پاکستان کے کچھ گمنام بیٹے، بیٹیاں ایک بار پھر دشمن کے ان اعصاب شکن حملوں کا سامنا کرنے میدان میں اترتے ہیں جنہیں عام طور پہ "سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس" اور ناسمجھوں کی زبان میں ویلا، فارغ، عاشق، لڑکیوں کا متلاشی کہا جاتا ہے مگر وہ یہ سب کچھ سن کر بھی خاموش ہی رہتے ہیں.

کبھی کسی نے سوچا کے یہ لوگ کون ہیں یہ کیا کررہے ہیں کہاں کس طرح لڑ رہے ہیں؟ کیا جھیل رہے ہیں؟ کس طرح جھیل رہے ہیں کتنے ہی آئے اور چلے گئے کہاں گئے کسی کو رتی برابر بھی علم نہیں یہ لوگ کسی بھی غرض کسی بھی لالچ سے عاری ہوتے ہیں.

ان کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے پاکستان دشمن کے سائیکالوجیکل وار فئیر جس کا حملہ اس قوم کے ذہنوں پہ کیا جاتا ہے ان حملوں کو اپنے دماغوں پہ جھیلنا انکا توڑ کرنا، وہ ساری سچائی تلاش کرنا جس کی بنیاد پہ دشمن جھوٹا پروپگنڈہ کررہا ہے اسی پروپگنڈہ کو ناکام بنانا.

آپکے حق کے لیے آواز اٹھانا آپکی آواز حکومت تک پہنچانا، انڈیا، افگاندی، امریکی اسرائیلی سائیکالوجیکل حملوں کو روکنا اور اس میں سے حقیقت کو کھنگال کے سامنے لانا آپکو آپکے بچوں کو اپنے ملک و مذہب کے خلاف ہونے والی سازشوں سے آگاہ رکھنا یہ سب یہی ویلے کرتے ہیں.
اگر یہ ویلے نہ ہوتے تو دشمن اب تک اپکو لڑوا کے مروا چکا ہوتا.

اس حالیہ مثال منظور پشتین تھا جنہوں نے جنگ کا میدان ہی سوشل میڈیا کو بنایا ان کے خلاف فوج نے ہتھیار نہیں اٹھائے بلکہ اس قوم کے ویلوں نے گھروں سے، دفتروں سے، دکانوں سے، کالجوں سے غرض جس کو جہاں جہاں سے موقع ملا اس نے یہ لڑائی لڑی اور الحمدللہ نہ صرف اس پروپگنڈہ کا توڑ کیا بلکہ دشمن کی اربوں کی انویسٹمنٹ بھی برباد کردی.

یہ ویلے اپنے اپنے دماغوں پہ کتنا کچھ برداشت کرتے ہیں، کن کٹھن مراحل سے اور شدید ترین نفسیاتی دباؤ سے گزرتے ہیں، کس تنہائی کس تکلیف کا شکار رہتے ہیں کوئی سوچ ہی نہیں سکتا لیکن دشمن کا حملہ آپ کو مایوس کرے آپ کو خوفزدہ کرے اس سے پہلے یہ ویلے سارا دباؤ اپنی ذات پہ جھیل کر، سارے کام کاج چھوڑ کر آپکو سچائی سے آگاہ کرچکے ہوتے ہیں اور اسطرح دشمن کا یہ وار بھی خالی جاتا ہے.

آپ کسی وقت غور کریں یہ ویلے ہر وقت موجود رہتے ہیں تو انڈیا اور افگاندستان، اسرائیل، امریکہ میں پاکستان کے خلاف چلنے والے سینکڑوں آٹی سیلز پوری مستعدی سے جھوٹ کا پلندہ پاکستانیوں تک پہنچا رہے ہوتے تو یہ ویلے اسی لمحے سچ کی تلاش میں لگ جاتے ہیں. آپ کو پریشان کرنے والی ہر چال کو جواب لیے یہ لوگ ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں.

اگر کوئی اپکو اتحاد، برادری،اسلام، اور پاکستانیت کادرس دیتے نظر آئے تو یہ وہی ویلے ہوتے ہیں. آپکو معلوم بھی ہے کہ یہ ویلے کیا کچھ برداشت کرتے ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں، نظر نہیں اتے، چیختے چلاتے نہیں، واویلا نہیں کرتے.

میں اپنی مثال دوں تو خدا کی قسم مجھے یہ بھی نہیں یاد کے میں آخری بار اپنی فیملی کے پاس ایک گھنٹہ کب بیٹھا تھا، مجھے یہ بھی نہیں یاد کے میں کس دوست سے کب ملا؟

کب دوستوں کی آخری محفل سجی،کب دوستوں کو وقت دے پایا. پورے دن میں بمشکل ہی دو سے تین گھنٹے سونا. مجھے یہ بھی نہیں یاد میں نے پچھلے کئی سالوں میں ایک بھی پوری رات سو کے گزاری ہو. کھانا کھاتے موبائل ہاتھ میں چلتے اٹھتے بیٹھتے، محفل میں، ڈیوٹی کے دروان، کام کاج کے دوران، چلتے پھرتے، باہر گئے تو موبائل ایکٹیو، روم میں آئے تو کمپیوٹر پہ ایکٹیو کمپیوٹر بند ہوا تو لیپ ٹاپ پہ ایکٹیو، اور صرف یہ میں ہی نہیں سوشل میڈیا پہ موجود تمام گمنام سپاہیوں کا یہی حال ہوتا ہے.

اپنی ذات کے لیے تو بالکل بھی نہیں کیونکہ اس چیز سے شاید ہی کچھ لوگوں کو کوئی ذاتی فائدہ ہوتا ہو لیکن اکثریت کا مقصد پاکستان دشمنوں کو فیفتھ جنریشن وار میں منہ توڑ جواب دینا اور اپنے لوگوں کو ان کے نفسیاتی حملوں سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے جب آپ لوگ فیس بک اور ٹوئیٹر پہ انجوائے کرنے جاتے ہو اور دشمن کو پروپگنڈہ کا جواب ملنے پہ خوشی محسوس کررہے ہوتے ہو کبھی سوچو اس کے پیچھے کتنے دماغ لگے ہوں گے کس کس کی نیند چین سکون لگا ہوگا.

ہم لڑتے ہیں اپنے موبائل اور کمپیوٹرز کو ہتھیار بناکر ہم لڑتے ہیں سرحدوں کی قید سے آزاد ہو کر.
یہ سوشل میڈیا کی جنگ دنیا کی سب سے ذیادہ مشکل، صبر آزماء جنگ ہوتی ہے جہاں ذرا سا لڑکھڑا جانا زندگی ہار جانے کے مترادف ہوتا ہے.
مایوسی اور نفسیاتی شکست کی ایسی دیوار کھڑی ہوجاتی ہے جس سے پھر نکلنا ناممکن ہوتا ہے.

یہ ویلے صرف سائبر فورس ہی نہیں ہوتے بلکہ فیلڈ میں بھی نکلتے ہیں سچائی کی تلاش میں، ملک دشمنوں کے منصوبوں سے آگاہ رہنے کے لیے دشمنوں کا تعاقب بھی کرتے ہیں.

یہ ویلے اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا کے لڑتے ہیں، اپنا گھر خاندان دشمن سے ویلوں کے خاندان صرف ایک غلطی کی دوری پہ ہوتے ہیں جہاں انہیں ملک کے لیے لڑنا ہوتا ہے وہیں ہمہ وقت چوکس رہنا پڑتا کے کہ انکے گھر بار بھی ہیں جن کی بےشک خبر نہیں رہتی مگر ہمیں بےحد عزیز ہیں لیکن پاک وطن کے لیے یہ سب داؤ پہ لگانے کو تیار رہتے ہیں.

یہ کہاں ہیں کب تک ہیں تک ہیں کوئی نہیں جانتا.ہم خاموشی سے چلے جاتے ہیں لیکن کسی کو معلوم نہیں ہوتا یہ کہاں گئے زندہ بھی ہیں یا نہیں،
کن حالات میں ہیں صرف اللہ جانتا ہے یہ ہیں وہ ویلے یہ ہیں وہ فارغ لوگ جو بنا مطلب، بےلوث انداز سے اپنی قوم کے خلاف دشمن کی چالوں سے نبردآزما رہتے ہیں. 
لیکن یہ ویلے ہرگز نہیں ہوتے انکی ملازمتیں بھی ہوتی ہیں یہ اپنا گھر بھر بھی سنبھالتے ہیں، فیملی کو بھی وقت دیتے ہیں.

خوشی غمی بھی ساتھ رہتی ہے لیکن ہر صورت میں یہ پاک وطن کی خدمت میں لگے رہتے ہیں صرف آپکے لیے اس پاک وطن کے لیے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک پرسکون روشن کل کے لیے اس میں انکی کمائی انکا حاصل صرف آپکے چہرے کی مسکان، اپنے وطن اپنی افواج سے پیار، اتحاد اور اپنے وطن کے خلاف اٹھنے والی آواز پہ لبیک کہنا.

آپ کا سکھ یہ سب ہماری کمائی ہے. ہم جانتے ہیں یہاں کوئی چھٹی نہیں ہوتی، کوئی آرام نہیں ہوتا. نہ عید کی چھٹی نہ اتوار کی چھٹی مگر یہ لڑائی تب تک جاری رہے گی ان شاءاللہ جب تک اس پاک وطن کا ایک بھی دشمن باقی ہے ہم ہتھیاروں سے بھی لڑیں گے ہم دماغوں سے بھی لڑیں گے ان شاءاللہ.

میں ایسے تمام دوستوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو کسی بھی طرح کسی بھی محاذ پر کسی بھی طرح دشمن سے نبردآزما ہیں ایک لکھاری سے لیکر کاپی پیسٹر تک تمام دوست اس جنگ کا اہم ترین حصہ ہیں. میں ان تمام خواتین کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو تمام تر مجبوریوں کے باوجود اس ففتھ جنریشن وار میں دشمن کے خلاف مورچہ بند ہیں.

پاکستان زندہ باد 
پاک فوج پائندہ باد 

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...