Skip to main content

السلام علیکم 2020 شروع ہوتے ہی بہت سی طاقتیں!

السلام علیکم2020 
شروع ہوتے ہی بہت سی طاقتیں خاص طور بلڈ لائن کے 13 خاندان دنیا کی کسی بھی جگہ اپنا کنٹرول ثابت کرنے کے لئیے اور اپنے پورے اثرو رسوخ  جانچنے کے لئیے کرونا کا آزمائشی حیاتیاتی ہتھیار تجربہ کر رھا ہے ...ان بلڈ لائن کو کوئی غرض نہیں کتنے لوگ مریں گے یا مارے جا رہے ہیں ....جب بھی کوئی ملک حیاتیاتی ہتھیار  تیار کرتا ہے اس کا  کنٹرول اور ریکور چانسیس 90 فیصد نہ ہو دنیا میں نہیں آزمایا جاتا .... جانوروں سے حاصل کیا جانا والا یہ وائرس اور اس کی طاقت کو اور کنٹرول کو پوری طور پہ لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا گیا ....سائنسدانوں کی ٹیم نے یہ وائرس بیمار جانوروں سے حاصل کر کے اس میں ردو بدل اور چھیڑ چھاڑ کر اس کے اسکی گروتھ ریٹ بڑھا کے اس کو سریع الاثر The most efficient agent/live element انسانی جسم میں اتارا ....سائنسدانوں کی یہ ٹیم میں سب سے پہلے جس نے کرونا وائرس دریافت اور اس کا سلوشن بنایا اس کو پہلا شکار بنایا گیا عمومی طور پہ یہ اتنا چست وائرس نہیں تھا مگر اس وائرس کی ریسرچ کرنے اور ان پہ کئی تجربات کرنے سے یہ بہت طاقتور اور مؤثر بنا دیا جو کہ انسانوں میں با آسانی اور   قدرتی طور پہ شکار کے طور پر آزمایا...جہاں یہ وائرس ہے وہیں اس کی ویکسینیشن بھی موجود ہے اب دیکھتے ہیں یہ بلڈ لائن کس صورت اور کس طور پر دنیا کو اس کی ویکسینیشن فراہم کریں گی ....

دنیائے عالم سے موصول ہونے والے ویڈیوز پیغامات اور ارسلات سے تو کرونا کے بیانک شکلیں اور صورت حال دیکھی. جا سکتی ہیں .....ان میں دنیا کی با اثر شخصیات کو متاثر شدگان میں دیکھا جا سکتا ہے تاکہ کسی بھی صورت میں دنیا ان بلڈ لائن کے اگے مجبور اور بے بس ہو جائیں ...اور پوری دنیا ان کے اگے گھٹنے ٹیک کر ان بلڈ لائن کی شرائط ماننے پہ مجبور ہو جائے ...
اگر ھم جائزہ لیں پچھلے تمام حیاتیاتی ہتھیاروں کا تو کچھ چیزیں سامنے آتی ہیں..
1چوہوں سے پھیلنے والی بیماریاں طاعون /پلیگ 
2مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریاں ملیریا /ڈینگی 
3مکھی house flyسے پیدا ہونے والی بیماریاں اسہال قے 
4گائے بھینیسوں میں موجود انتھریکس  کے وائرس سے انسانی جسم میں منتقل شدہ انتھریکس 
5گھوڑوں کے منہ کے ذریعے جراثیم گھل کھوڑوں بیماریوں سے سارس انسانی جسم میں منتقل شدہ سارس
6چمگادروں اور دیگر حشرات میں موجود جراثیم کرونا سے انسانی جسم مین کرونا
7انسانوں سے انسانوں میں پھیلنے والا حیاتیاتی ہتھیار ایڈز ھم جنس پرستی سے پیدا ہونے والے اور لاتعداد بیماریاں جو کہ ابھی تک تجربات کے تابع ہے اب تک .............
اور کتنے ہی ہیں...............................
 اک اندازے کے مطابق  شمالی قطب کی جانب موجود اٹلانٹک اوشن میں اس قدر اور خطرناک جراثیم موجود ہیں اگر وہ ساری برف پگلا دی جائے اور اس سے نمودار ہونے والے جراثیم سےتو دنیا ہی مر جائے اور اس سی اسکی تباہی کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا ....اس کے لئیے سازگار ماحول.بہت. ضروری ہوتا ہے ماحول کے کنٹرول اور بیماریوں کی وائرس کے کنٹرول کے لئیے ہارپ ٹیکنالوجی جیسی خطرناک ہتھیار موجود ہے جس کو صرف وہی طاقتوں کی مرضی کے مطابق ہی دسترس ہے ...
اوپر حیاتیاتی ہتھیاروں کا ذکر کیا اس میں  قدرتی طور پہ حاصل وائرس کو لیبارٹری میں تیز تر کیا جاتا ہے اور پھر انسانوں پہ قدرتی طور پر ہی داخل کیا جاتا ہے جیسے کھانے والی اشیاء جن کے استعال سے کینسر جو کچھ بھی بیماری نہیں ہے (اشیائے خوردنی)
کوک سپرائٹ چکن گوشت انڈے دودھ چائے کی پتی دالیں مصنوعی سبزیاں. نمک صابن برتن کپڑے جوتے لنڈے کے چند سؤر کی کھال سے بنے مخصوص کپڑے. برتن نان سٹیک اور دیگر متشبہ اشیائے خوردنی اور اشیائے استعمال 
متذکرہ اشیائے خوردنی و استعمالات سے ہمیشہ مغرب کا ہی فائدہ ہوا ہے اور انسانیت کی تباہی کا سامان ہوا ہے 
کچھ بیماریاں قدرتی طور پر آفت کے طور پر انسان پر اتری ضرور ہے پر شفاء بھی اللہ پاک نے ہی اتاری ہے اپنے وقت اور غضب کے مطابق
چونکہ 13 بلڈ لائن خود کو سمجھتے ہیں اس لئیے وہ اپنی مرضی اپنے ٹارگٹ کے مطابق. اور شرائط پر ہی عطا کرے گے .... 
آپ نے خود بھی اندازہ کیا ہو گا موسمی تبدیلی کا جو کہ گزشتہ تمام سالوں کی نسبتأ  زیادہ ہے کیونکہ کرونا کے لئیے سازگار ماحول سرد ھی ہے ...موسمی تغیر وتبدل کا بد دستور قائم رہنا جب تک مطلوبہ اہداف حاصل نہ کر لیے جائیں...........اور دنیا کی اکانومی اور سٹاکس ایکسچینج کریش نہ کر جائیں .......کیونکہ 

یہ وہ ایجنڈہ ہے جس کے لئیے دنیائے عالم کو مجبور کیا جا رھا ہے کہ کرونا کا حل چاہئیے تو 13 بلڈ لائن کے اگے جھکو گے تو نجات حاصل کرو گے .....
آپ نے دیکھا ہو گا کہ کرونا کا زور ہے یا نہیں ہے مگر یہ پروپگنڈہ کیا جا رھا ہے کہ لوگ مجبور ہو رہے ہیں ....اور محصور ہو گئے ہیں ....رئیل کیسیز ہیں مگر کچھ جگہوں پہ نہیں لیکن بڑھا چڑھا کر پیش کیاجا رہا ہے ....تاکہ دنیا میں ثابت کیا جا سکے کے یہ لوگ ہی تم پر رحم کرنے والے ہیں ....
خطرہ تو بہر حال ہے اس سی انکار نہیں مگر حقائق سے انکار بھی نہیں 
بات وہیں آ جاتی ہے کہ اب وہ وقت گیا ...جب چپ چاپ مرنے کوہی ترجیح دی جائے موت برحق ہے اور مومن کے لئیے موت اک خوش آئیند پیغام ہے اللہ کا اگلی اچھی زندگی کا وعدہ .......بے شک -.ہم نے 13 بلڈ لائن کی چالوں ریشہ دوانیوں اور سازش کو سمجھنا ہے ورلڈ کی کیا گیم کھیلی جا رہی ہے اس کو دیکھنا سمجھنا اور مقابلہ بھی کرنا ہے ....ایسی ہی مرنے نہیں دیا جائے گا ان یہود و نصاری کی ایماء اور عیشہ پر لوگوں کو ...ہم اللہ کے سوا کسی حاکمیت کو برداشت نہیں کرتے اور نہ مانتے ہیں...
اسلام میں قران وسنت میں صاف صاف بیان ہے کہ
"ہر بیماری کا علاج اس کے ظاہر ہونے سے پہلے موجود ہوتا ہے " 
آپ سوچ سکتے ہیں کتنی بڑی سازش رچی جا رہی ہے..
حقائق سامنے رکھ دئیے گئے ہیں باقی "والقلم سے جنگ آپ جاری رکھیں ....
قائداعظم محمد علی جناح رح کا فرمان یاد رکھنا
"مسلمان مشکل میں گھبرایا نہیں کرتے "
نوٹ:اگر قدرتی دھوپ زیادہ تیزی سے آئے تو بھی وائرس کے اثرات کم ہو سکتے ہیں ....یعنی اس کا زور ٹوٹ سکتا ہے 
وطن عزیز کو بے حد دعا 
اللہ کرونا وائرس جیسے مہلک حیاتیاتی ہتھیاروں سے نجات دے اور مسلمانوں پہ یہود ونصاری کی یلغار سے بچائے ...اور طاغوتی قوتوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دے اور انہیں نیست و نابود کر دے ....

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

لاہور سمیت کئی شہروں میں موسلادھاربارش سےموسم خوشگوار

لاہور: لاہورسمیت ملک کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارش سےموسم خوشگوار ہوگیا۔ محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں  تفصیلات کے مطابق لاہورسمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں صبح سویرے موسلادھار بارش سے موسم خوشگوارہوگیا  بارش کے باعث گرمی کا زور ٹوٹ گیا   اسلام آباد ، مری اور نتھیا گلی میں بھی بادلوں نے خوب رنگ جمایا اور ان علاقوں میں بارش کے ساتھ ژالہ باری بھی ہوئی  فیصل آباد ،شاہ کوٹ ، بھکر، وزیرآباداورچیچہ وطنی میں بھی بادل کھل کر برسے   کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی رم جھم جبکہ سوات میں بھی تیزہواوں کے ساتھ ژالہ باری ہوئی ۔تیز  بارش سے متعدد علاقوں میں فیڈر ٹرپ کرگئے جس سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوئی