Skip to main content

پہلے یہ بات کہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ ہمیں کورونا انفیکشن تو نہیں ہو گیا


پہلے یہ بات کہ ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ ہمیں کورونا انفیکشن تو نہیں ہو گیا! تاکہ ہم فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

اگر مندرجہ ذیل چار علامات میں سے کوئی تین علامات آپ کے اندر اکٹھی موجود ہوں تو ضرورmedical advise لیں ورنہ پریشانی کی کوئی بات نہیں آپ کو سادہ نزلہ زکام ہے اپنا علاج گھر پر ہی کر لیں۔

1. تیز بخار (اگر بخار 100 ڈگری فارنہائٹ سے کم ہے تو آپ کو یہ علامت نہیں)

2. خشک کھانسی (اگر کھانسی کے ساتھ بلغم آ رہی ہے تو آپ کو یہ علامت نہیں ہے)

3. سانس لینے میں دشوارئ (10سیکنڈ سانس روک کر اگر آپ کو کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی تو آپ کو یہ علامت نہیں ہے

4. بند ناک (اگر آپ کی ناک بہہ رہی ہے یا بہت چھینکیں آتی ہیں تو آپ کو یہ علامت نہیں ہے)

نوٹ:
# اگر آپ کو شوگر، دل کی بیماری یا گردے خراب کا مسئلہ ہے تو پھر اوپر دی گئی علامات میں سے دو کی موجودگی میں بھی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

# اگر آپ کو ان میں سے پہلی دو علامت کے ساتھ الٹی، متلی اور موشن ہیں تب بھی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

اب آئیے ان اسباب کی طرف جن پر ہم سب کو سختی سے عملدرآمد کرنا ہو گا تاکہ ہم اپنے اور اپنی نسلوں کے تحفظ کی کوشش کر سکیں۔

1. ہر ممکن حد تک اپنے گھر کے اندر رہیں۔

2. ہوٹلز، پارکس، مالز وغیرہ میں غیر ضروری نکلنے سے مکمل پرہیز کریں۔

3. صرف اس لیے کہ چھٹیاں ہیں شہر یا شہر سے باہر سیر کی غرض یا صرف دوستوں  رشتہ داروں وغیرہ سے ملنے مت جائیں۔

4. گھر کے ضروری سامان اور راشن وغیرہ خریدنے کی زمہ داری صرف ایک فرد پر ڈالیں گھر کا ہر شخص  شاپنگ کے لیے نہ نکلے سوائے اس کے کہ بہت مجبوری ہو۔

5. جو بھی چیز خرید کر لائیں اگر خراب ہونے والی نہیں تو اس کو گھر سے باہر گاڑی یا موٹر سائیکل پر 12 گھنٹے پڑا رہنے دیں پھر اس کو گھر کے اندر لائیں۔ وگرنہ اس کو ایسی جگہ پر رکھیں جہاں اس کو کوئی نہ چھوئے۔ کیونکہ کسی بھی چیز پر یہ وائرس 12 گھنٹے سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

6- سبزی، پھل اور اسی طرح کی دیگر خراب ہونے والی چیزوں کو لانے والا شخص کسی سے ملے بغیر سیدھا کچن میں جائے، شاپر وغیرہ ڈسٹ بن میں ڈال دے اور چیزوں کو کھلے پانی سے اچھی طرح دھو لے اور پھر اپنے ہاتھ اور بازو صابن سے دھو لے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ نہا لے اور پھر گھر والوں سے ملے۔

7. گھر سے باہر کسی سے مصافحے اور معانقے سے پرہیز کریں۔. گھر کے اندر داخل ہو کر سب سے پہلے صابن سے ہاتھ دھوئیں پھر گھر والوں سے ملیں۔

9. اپنے چہرے، منہ اور آنکھوں کو حتی الامکان چھونے سے گریز کریں۔

10. اگر چھینک یا کھانسی آئے تو اپنی کہنی منہ اور ناک کے آگے کریں۔ اپنے ہاتھوں اور رومال وغیرہ پر نہ چھینکیں۔ اگر ٹشو استعمال کریں ہے تو اس کو فوراً ڈسٹ بن میں پھینک دیں اور ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں یا sanitizer استعمال کریں۔

11- اگر کوئی آپ کے قریب کھانسے یا چھینکے تو اگر ممکن ہو تو اپنے کپڑے تبدیل کر لیں ورنہ کم از کم اپنا ہاتھ اور منہ صابن سے دھو لیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس شخص کو کہیں کہ ایسا کرتے ہوئے وہ اپنی کہنی منہ اور ناک کے سامنے رکھے تاکہ مزید لوگ تنگ نہ ہوں۔

12. ماسک صرف وہ شخص استعمال کرے جس کو کھانسی ہے ورنہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ماسک کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ یہ وائرس ہوا کے ذریعے ہمارے ناک یا منہ میں نہیں جاتا بلکہ یہ ہمارے ہاتھوں کے ذریعے ہمارے ناک، منہ (اور کچھ حد تک آنکھوں) سے ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اسی لیے پوائنٹ نمبر 8 پر سختی سے عمل کریں۔

13. مارکیٹ میں sanitizer نہیں مل رہے تو آپ گھر میں سپرٹ یا after shave کو، sterile پانی یا ابال کر ٹھنڈے کیے ہوئے پانی میں 50/50 کے حساب سے ملا کر sanitizer بنا سکتے ہیں۔

14. صابن سے 20 سکینڈ ہاتھ دھوئیں یہ sanitizer سے بہتر حفاظت فراہم کرتا ہے۔ مگر یاد رہے کی صابن کی ٹکیہ کو 20 سکینڈ آپ نے ہاتھ میں رکھتے ہوئے ہاتھوں کو رگڑتے رہنا ہے۔ اس کے لیے آپ 20 تک آہستہ آہستہ گنتی گن کر ٹائم پورا کر سکتے ہیں۔

15. اپنے دفتر یا کام کی جگہ کے ٹیبل، شیلف اور دیگر ایسی جگہوں کو جہاں مختلف لوگوں کے ہاتھ لگتے رہتے ہیں، Dettol یا اسی طرح کے دوسرے antiseptic کو پانی میں مکس کر کے بار بار صاف کرتے رہیں۔

16. لفٹ، سیڑھیوں، پبلک کے استعمال کے دروازوں وغیرہ کو استعمال کرنے کے بعد اپنے ہاتھ ضرور دھوئیں یا sanitizer سے صاف کریں۔

17. کپڑے روزانہ تبدیل کریں اور اتارے ہوئے کپڑوں کو دھو کر 1-2 گھنٹے دھوپ میں سکھائیں۔ کوشش کریں کہ اترے ہوئے کپڑوں کو 12 گھنٹے کوئی ہاتھ نہ لگائے۔

18. کھانا گھر پر ہی پکائیں۔ اگر مجبوراً باہر سے کھانا منگوانا پڑے تو جو شخص اس کو وصول کرے وہ فوری طور پر کھانے کو کسی گھر کے برتن میں منتقل کرے اور اس کی پیکنگ اور شاپر کو ڈسٹ بن میں ڈال کر اپنے ہاتھ دھو لے۔ بہتر ہو گا کہ کھانے کو دوبارہ تیز گرم کر لیں تاکہ وائرس سے پاک کیا جا سکے۔

19. غیر ضروری طور پر یا کسی پرانی بیماری کے لیے ہسپتال جانے سے گریز کریں۔ صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتال جائیں کیونکہ وہاں پر وائرس کے ممکنہ مریض کثرت سے آ رہے ہیں اور آپ کو خطرہ ہے۔

20. اگر آپ کا کوئی مریض ایمرجنسی کی وجہ سے ہسپتال داخل ہے تو بھی بچے، 50 سال سے اوپر کے لوگ اور شوگر، دل، گردے، جگر اور سانس کے مریض، داخل مریض کی عیادت یا خدمت کے لیے ہسپتال نہ جائیں۔

21. کسی بھی قسم کے بخار کی صورت میں صرف اور صرف پیراسٹامول (panadol) یا عام زبان میں شیر والی گولی استعمال کریں۔ کسی بھی قسم کے NSAID جیسے Brufen, Ponston, Dicloran, Disprin وغیرہ استعمال نہ کریں کیونکہ اگر آپ کے جسم میں کورونا وائرس ہے تو یہ NSAIDs اس کے نقصان کو کئی گنا بڑھا دیں گے۔

22. مساجد میں داخل ہوتے ہوئے اگر آپ اپنے جوتوں کو ہاتھ لگاتے ہیں تو پہلے ہاتھ دھوئیں پھر نماز میں شامل ہوں۔ اسی طرح مسجد سے نکلتے ہوئے بھی اگر ہاتھ دھو لیں تو بہتر ہے ورنہ پوائنٹ نمبر 7 پر تو عمل ضرور کریں۔

23. مساجد کے امام حضرات کو کہیں کہ اس آفت سے محفوظ رہنے کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔

24. کثرت سے استغفار کرتے رہیں اور اللہ سے رحم مانگتے رہیں۔

ان چیزوں کو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ ہم سب محفوظ رہ سکیں۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے M

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...