Skip to main content

” کچھ کہنا چاہتے ہیں ، عدالت کا استفسار ، نہیں کچھ نہیں کہنا ، ملزمان کا جواب “ اسامہ قتل کیس میں گرفتار پولیس اہلکاروں کا ریمانڈ منظور ..................


اسلام آباد کی   مقامی  عدالت   نے 21 سالہ  اسامہ  ; کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کرنے والے پانچوں پولیس اہلکاروں ;  کا تین روزہ جسمانی;  ریمانڈ منظور کر لیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق اسامہ قتل کیس میں گرفتار;  پانچوں پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی جج کی عدالت میں پیش کیا گیا . جس دوران پولیس حکام نے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ، عدالت نے تین روزہ جسمانی;  ریمانڈ منظور;  کر تے ہوئے ملزمان کو پولیس کے حوالے کر دیا ۔دوران    سماعت جج نے ملزمان سے استفسار کیا کہ ,   کیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں.  اور کیا آپ کا کوئی;  وکیل ہے ؟ ملزمان نے جواب   دیتے ہوئے کہا کہ ” جی نہیں کچھ نہیں کہنا ۔“

تفتیشی افسرا نے عدالت میں ریمانڈ کی استدعا کر تے ہوئے کہا کہ , ملزمان سے تفتیش کرنی ہے ، ریمانڈ دیا جائے ; ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا واردات میں استعمال ہونے والا پستول برآمد کر لیا ؟ ، تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ تاحال برآمدگی نہیں ہوئی جسمانی ریمانڈ کے دوران برآمد کریں گے ،عدالت نے پوچھا کہ پانچوں اہلکاروں کو کیوں گرفتار کیا گیا ؟ تفتیشی افسر;  نے جواب دیا کہ پانچوں اہلکارایک ہی گاڑی میں ڈیوٹی پر تھے ۔عدالت پیشی;  کے  موقع پر تمام ملزمان کی حاضری بھی لگوائی گئی

یاد رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کے ; علاقے جی ٹین میں اے ٹی سی سکواڈ کے اہلکاروں نے نوجوان اسامہ کی گاڑی پر;  اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ;  اور موقف اختیار کیا کہ,    ڈکیتی کی کال چلی تھی;   , جس پر گاڑی کو مشکوک جانتے ہوئے رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن گاڑی نہ رکی تو تعاقب کرتے ہوئے فائرنگ کی گئی ۔

جب معاملہ میڈیا میں آیاتو دیکھا گیا کہ گاڑی کی ونڈ سکرین پر بھی گولیوں  کے نشان ہیں جو کہ,  پولیس کے گاڑی کا تعاقب     کر کے گولیاں مارنے کے بیان کی نفی کرتا ہے ۔ اسامہ قتل کیس کی تحقیقات کیلئے;  جے آئی ٹی تشکیل دیدی گئی ہے ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

ٹائیگر فورس کی تقریب، نوجوانوں نے ایسی حرکت کردی کہ زلفی بخاری کو اپنی تقریر روک کر بیچ میں سے ہی جانا پڑگیا .....

اٹک   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   اٹک میں ٹائیگر فورس کی تقریب بدنظمی  کا  شکار ہونے  کی وجہ سے وزیر اعظم  کے معاون   خصوصی زلفی بخاری  کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر  جانا  پڑگیا۔ ٹائیگر فورس کی تقریب میں 1700 سے زائد کارکنوں نے شرکت  کی اور  کورونا کے ایس او پیز کی دھجیاں اڑادیں  ۔   ٹائیگر فورس کے  جوانوں کی اکثریت  نے  نہ تو ماسک پہن رکھے تھے ,اور نہ ہی  سماجی فاصلے کی پابندی کا ہی  کوئی خیال کیا گیا۔ تقریب اس وقت بدنظمی کا شکار ہوگئی,  جب کچھ لوگوں نے اپنے علاقائی صدر کو تقریب میں مدعو نہ کرنے پر احتجاج کیا ، کچھ جوانوں نے ٹائیگر فورس ; ضلع اٹک کے فوکل  پرسن کو مدعو کرنے پر بھی احتجاج کیا ۔ تقریب میں اتنی بدنظمی ہوئی کہ وزیر اعطم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار  پاکستانی  زلفی   بخاری کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر وہاں; سے جانا پڑگیا۔

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...