Skip to main content

بریکنگ نیوز!! بچوں کی موجیں لگ گئیںسکول اب یکم فروری کو نہیں کھلیں گے نئی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا

خیبر پختونخواہ میں سردی کی شدت میں اضافے کی وجہ موسم سرما کی تعطیلات میں اضافہ کردیا گیا ہے
اب سکول 14 فروری تک بند رہیں گے اور دوبارہ پڑھائی کا سلسلہ 15 فروری سے شروع ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق صوبے کے اپر ایریاز میں سردی کی شدت کی وجہ سے چھٹیوں میں اضافہ کیا گیا ہے ، اس سے پہلے ان علاقوں میں سکول یکم فروری سے کھولے جانے تھے ، دوسری جانب فیڈرل 

 منسٹری ایجوکیشن نے بھی اپنا سال 2020-21 کلیندڑ جاری کردیا ہے۔وزارت تعلیم کے مطابق نیا تعلیمی سال 2 اگست سے شروع ہوگا 

، گرمیوں کی تعطیلات کی مدت 2 سے 31 جولائی تک ایک ماہ کردی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق  پانچویں اور آٹھویں جماعتوں کے امتحانات 18 سے 31 مئی تک ہوں گے

اسکول ایک سے چار اور چھٹی اور ساتویں کے یکم سے 15 جون تک امتحانات منعقد کریں گے۔وزارت تعلیم کے جاری کردہ کیلنڈر کے مطابق ، پانچویں اور آٹھویں کلاس کے نتائج کا اعلان 30 جون کو کیا جائے گا ، جبکہ پہلی سے چوتھی اور ساتویں اور آٹھویں کلاسوں کے نتائج کا 

اعلان یکم جولائی کو کیا جائے گا۔وفاقی وزیر تعلیم نے 15 جنوری 2021 کو اعلان کیا تھا کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے ایک مرحلہ وار طریقے سے کھولے جائیں گے

انہوں نے کہا تھا کہ نویں  دسویں ، گیارہویں اور بارہویں جماعتیں 18 جنوری کو شروع ہوں گی۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ کلاسز جو 25 جنوری کو شروع ہونے والی تھیں 

اب یکم فروری سے شروع ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یکم فروری سے اعلی تعلیمی ادارے بھی کھلے رہیں گے

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پچھلے سال 15 مارچ سے تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے تھے

چھ ماہ کی طویل بندش کے بعد ، 15 ستمبر کو تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ، لیکن وبائی امراض کی دوسری لہر کی وجہ سے 26 نومبر کو ایک بار پھر بند ہوگئے۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

ٹائیگر فورس کی تقریب، نوجوانوں نے ایسی حرکت کردی کہ زلفی بخاری کو اپنی تقریر روک کر بیچ میں سے ہی جانا پڑگیا .....

اٹک   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   اٹک میں ٹائیگر فورس کی تقریب بدنظمی  کا  شکار ہونے  کی وجہ سے وزیر اعظم  کے معاون   خصوصی زلفی بخاری  کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر  جانا  پڑگیا۔ ٹائیگر فورس کی تقریب میں 1700 سے زائد کارکنوں نے شرکت  کی اور  کورونا کے ایس او پیز کی دھجیاں اڑادیں  ۔   ٹائیگر فورس کے  جوانوں کی اکثریت  نے  نہ تو ماسک پہن رکھے تھے ,اور نہ ہی  سماجی فاصلے کی پابندی کا ہی  کوئی خیال کیا گیا۔ تقریب اس وقت بدنظمی کا شکار ہوگئی,  جب کچھ لوگوں نے اپنے علاقائی صدر کو تقریب میں مدعو نہ کرنے پر احتجاج کیا ، کچھ جوانوں نے ٹائیگر فورس ; ضلع اٹک کے فوکل  پرسن کو مدعو کرنے پر بھی احتجاج کیا ۔ تقریب میں اتنی بدنظمی ہوئی کہ وزیر اعطم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار  پاکستانی  زلفی   بخاری کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر وہاں; سے جانا پڑگیا۔

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...