Skip to main content

پی آئی اے کے لیز پر لیے گئے طیارے کی کمپنی کے مالک اور ڈائریکٹر بھارتی نکلے ، نجی ٹی وی کا بڑا دعویٰ ..........................


گزشتہ روز ملائیشین حکام نے عدالتی احکامات کی روشنی میں پاکستان انٹر نیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے ) کے طیارے کو لیز کے ; واجبات کی عدم ادائیگی پر قبضے میں لے لیا تھا تاہم اب  ; اس معاملے میں نیاموڑ آ گیاہے .  جس نے نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ لیزپر دیئے گئے طیارے کی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر;   بھارتی شہری ہیں اور ” پری گرائن “ کمپنی کا دفتر دبئی میں قائم ہے ۔گزشتہ روز پی  ; آئی اے کا طیارہ کوالالمپور کے ایئر پورٹ پر عین اس وقت روک لیا گیا جب وہ پاکستان واپسی کیلئے اڑان بھرنے کیلئے تیار تھا اور مسافر سوار ہو چکے تھے .   تاہم بعدازاں مسافروں کو متبادل پرواز فراہم کی گئی ، مسافر آج متبادل فلائٹ کے ذریعے اسلام آبادپہنچیں گے۔118 مسافر براستہ دبئی پرواز نمبر ای کے 614 کے ذریعے شب 11 بجے اسلام آباد پہنچیں گے جبکہ 54 مسافر براستہ دوہا پرواز ;    نمبر قیو آر 632 سے کل صبح 1 بج کر 40 منٹ پر ;   اسلام اباد پہنچیں گے۔ کوالالمپور میں موجود پی آئی اے کا عملے کو بھی واپسی کی اجازت دیدی گئی ہے ۔ 

ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے کا اٹارنی کوالالمپورمیں موجود ہے.    جبکہ طیارے کے کیس سے متعلق تمام دستاویزات ; ملیشیا ارسال کردی گئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق پی آئی اے کا زمینی عملہ دوبئی ;  اور دوہا میں مسافروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہے، مسافروں کی تمام ضروریات;       اور آرام کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

ٹائیگر فورس کی تقریب، نوجوانوں نے ایسی حرکت کردی کہ زلفی بخاری کو اپنی تقریر روک کر بیچ میں سے ہی جانا پڑگیا .....

اٹک   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   اٹک میں ٹائیگر فورس کی تقریب بدنظمی  کا  شکار ہونے  کی وجہ سے وزیر اعظم  کے معاون   خصوصی زلفی بخاری  کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر  جانا  پڑگیا۔ ٹائیگر فورس کی تقریب میں 1700 سے زائد کارکنوں نے شرکت  کی اور  کورونا کے ایس او پیز کی دھجیاں اڑادیں  ۔   ٹائیگر فورس کے  جوانوں کی اکثریت  نے  نہ تو ماسک پہن رکھے تھے ,اور نہ ہی  سماجی فاصلے کی پابندی کا ہی  کوئی خیال کیا گیا۔ تقریب اس وقت بدنظمی کا شکار ہوگئی,  جب کچھ لوگوں نے اپنے علاقائی صدر کو تقریب میں مدعو نہ کرنے پر احتجاج کیا ، کچھ جوانوں نے ٹائیگر فورس ; ضلع اٹک کے فوکل  پرسن کو مدعو کرنے پر بھی احتجاج کیا ۔ تقریب میں اتنی بدنظمی ہوئی کہ وزیر اعطم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار  پاکستانی  زلفی   بخاری کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر وہاں; سے جانا پڑگیا۔

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...