Skip to main content

گلگت بلتستان انتخابات میں بڑا اپ سیٹ، سابق وزرائے اعلیٰ اپنی نشستوں پر ہار گئے، تحریک انصاف نے 9نشستوں کیساتھ میدان مار لیا..........



گلگت بلتستان انتخابات   میں بڑے بڑے برج گر گئے; ، مسلم لیگ[ ن ] اور پیپلزپارٹی کے سابق وزرائے اعلی حافظ حفیظ الرحمن اور;  سید مہدی شاہ اپنے نشستوں پر ہار گئے،گلگت بلتستان کا میدان تحریک;  انصاف نے مار لیا، نو نشستوں پر فاتح، سات حلقوں میں آزاد امیدوار جیت گئے،پیپلز پارٹی;  چار اور ایم ڈبلیو ایم ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب، الیکشن امتحان میں ن لیگ کے صرف دو امیدوار پاس قرار پائے۔ 

گلگت بلتستان الیکشن کے 23 حلقوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں جس میں پاکستان تحریک انصاف ; 9، آزاد امیدوار 7 نشستوں پر کامیاب رہے ., جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 4، .; ایم ڈبلیو ایم 1 اور مسلم لیگ ن 2 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو سکی۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق جی بی ; 1، گلگت 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے امیدوار; امجد حسین 11 ہزار178ووٹ لےکرکامیاب جبکہ آزاد امیدوار مولانا سلطان رئیس;; 2051 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔جی بی 2، گلگت 2 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے جمیل احمد 8 ہزار817 ; ووٹ لے کر کامیاب ;, جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار فتح اللہ 6 ہزار607 ووٹ لے کردوسرے نمبرپر رہے۔

جی بی 4، نگر 1 کے غیر حتمی اور غیر ; سرکاری نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے امجد حسین 4 ہزار716 ووٹ لے;  کرکامیاب اسلامی تحریک پاکستان (آئی ٹی پی) کے امیدوار محمد ایوب 4 ہزار 291 ; ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 5، نگر 2 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار جاوید علی منوا 2570 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے امیدوار حاجی رضوان علی 1850 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔جی بی 6، ہنزہ کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے عبیداللہ بیگ 5 ہزار 622 ووٹ لےکرکامیاب.;  جبکہ آزاد امیدوار نور محمد 4 ہزار 584 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 7، سکردو 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار راجہ;  زکریا مقپون 5290 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ 4114 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔جی بی 8، سکردو 2 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلد وحدت المسلمین کے;    امیدوار محمد کاظم 7534 ووٹ لے کر کامیاب قرار ہوئے ; جبکہ ان کے  مدمقابل پیپلز پارٹی کے محمد علی شاہ کو 7146 ووٹ ملے۔

جی بی 9، سکردو تھری کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6865;    ووٹ کے کر کامیاب قرار پائے جبکہ فدا محمد ناشاد 5236 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔  جی بی 10، سکردو 4 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق;  آزاد امیدوار راجہ ناصر علی 5124 ووٹ لے کر کامیاب رہے ;جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار وزیر حسن 3684 ووٹ لے کر دوسرے ; نمبر پر رہے۔

جی بی 11، کھرمنگ کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سید امجد علی 5872;  ووٹ لے کر جیت گئے ہیں ; جبکہ ان کے مدمقابل آزاد   امیدوار سید محسن;  رضوی صرف 1396 ووٹ لے سکے اور دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 12، شگر کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے اس حلقے سے بھی میدان مار لیا ہے۔ پی ٹی آئی امیدوار راجہ اعظم خان 9322 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے;  جبکہ ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار عمران ندیم کو 7663 ووٹ ملے اور ; وہ دوسرے نمبر پر رہے۔ج 

جی بی 13، استور 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے خالد خورشید 4 ہزار 836 ووٹ لےکرکامیاب,   جبکہ پیپلز پارٹی کے عبدالحمید 3 ہزار 117 ووٹ لے سکے۔

جی بی 14 استور 2 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے شمس الحق 5 ہزار 354 ووٹ لےکرکامیاب جبکہ پیپلزپارٹی کے مظفر علی خان نے 3 ہزار 479 ووٹ لیے۔جی بی 15، دیامر 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار حاجی;  شاہ بیگ 2 ہزار 713 ووٹ لےکرکامیاب ;  جبکہ آزاد امیدوار محمد دلپذیر2 ہزار309 ووٹ لے کردوسرے نمبر پررہے۔

جی بی ایل اے 16 دیامر ٹو کے مکمل پولنگ سٹیشنز کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار انجینئر محمد انور 4 ہزار 813 ووٹ لے کر کامیاب قرار ہائے;  جبکہ ازاد امیدوار عطا اللہ 4 ہزار;   314 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔جی بی 17، دیامر 3 کے غیر  حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار;  حیدرخان 5 ہزار 389 ووٹ لےکرکامیاب جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے رحمت خالق 5 ہزار162ووٹ لےکردوسرےنمبرپررہے۔

ی بی 18، دیامر 4 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری; نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے حاجی گلبر خان 6793 ووٹ لے کر کامیاب رہے;  جبکہ آزاد امیدوار ملک کفایت الرحمان 5986 ووٹ حاصل کر سکے۔جی بی 19، غذر 1 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق آزاد ; امیدوار;  وزیر نواز خان ناجی 6 ہزار 208 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار;   سید جلال علی 4 ہزار 967 ووٹ لیکر دوسرے نمبرپر رہے

جی بی 2ی بی 22، گھانچے 1 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار مشتاق حسین نے اس حلقے میں میدان مار لیا ہے۔ انہوں نے 6051 ووٹ حاصل کرکے پی ٹی آئی کے امیدوار کو شکست دی۔ تحریک انصاف کے امیدوار ابراہیم ثنائی نے 4945 ووٹ حاصل کئے اور دوسرے نمبر پر رہے۔0، غذر 2 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے نذیراحمد 5 ہزار 582 ووٹ لےکرکامیاب;  جبکہ ق لیگ کے خان اکبرخان 3 ہزار 815 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔جی بی 21، غذر 3 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے ; مطابق مسلم لیگ  (ن) کے غلام محمد 4 ہزار 334 ووٹ لے کر کامیاب;  جبکہ پیپلزپارٹی کے ایوب شاہ 3 ہزار 430 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی 23، گھانچے 2 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار حاجی عبدالحمید 3 ہزار 666 ووٹ لے کرکامیاب ;  جبکہ تحریک انصاف کی آمنہ انصاری نے 3 ہزار296 ووٹ لیے 

جی بی 24 گھانچے 3 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق اس حلقے سے پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا ہے۔ پی پی کے امیدوار محمد اسماعیل نے 6206 ووٹ لے کر جیت اپنے نام کی۔ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی ; کے امیدوار سید شمس الدین کے حصے میں 5361 ووٹ آئے۔

الیکشن کا عمل بغیر کسی وقفے.;    کے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان  ;   نے پولنگ سٹیشن کے اندر موبائل فون لے جانے پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ دس اضلاع کے 23 حلقوں سے 7 لاکھ سے زائد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ گلگت حلقہ 3 میں تحریک انصاف کے صدر جعفر شاہ کی اچانک موت کے بعد اس حلقے میں انتخابات 22 نومبر کو ہونگے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...