Skip to main content

پاکستان کی مہنگی ترین شادی کے میڈیا پر چرچے لیکن دراصل اس پر کتنا پیسہ خرچ کیا گیا ؟ مولانا طارق جمیل نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا ............



حالی ہی میں معروف کاروباری برینڈ جلال سنز کے صاحبزداے کی شادی ماسٹر ٹائلز کے مالک کی بیٹی کے ساتھ ہوئی .جس میں پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا ; اور اطلاعات گردش کرتی رہیں کہ اس میں دو سو کروڑ روپے   خرچ کیے گئے ہیں ، اس معاملے پر بھارتی معروف عالم دین ; ” شیخ خلیل الرحمان سجاد نعمانی “ کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آیا اور انہوں نے اصراف اور فضول خرچی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ;  پاکستان کے کسی شہر میں ایک شادی میں;   دو ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں ; ، اس خبر کو سن کر کتنی سخت تکلیف پہنچی ۔ 

مولانا شیخ خلیل الرحمان سجاد نعمانی کے پیغام کو سننے کے بعد اب مولانا طارق جمیل نے ان سے رابطہ کرتے ہوئے.;  اس شادی کی ; حقیقت بیان کر دی ہے اور اس شادی پر آنے والے اخراجات سے بھی پردہ اٹھا دیاہے   ۔مولانا طارق جمیل کا کہناتھا کہ,  میں نے شادی کے اخراجات کے بارے میں معلوم کیا تو بتایا گیا کہ,  اس میں 10 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں;  200 کروڑ والی بات جھوٹ ہے۔

مولانا طارق جمیل کا اپنے وائس میسج پیغام میں کہناتھا کہ ”محترم مولانا سجاد نعمانی صاحب ، پتا چلا کہ , اللہ کے فضل سے آپ اور اہلیہ دونوں کورونا سے شفایاب ہو گئے ہیں ، اللہ آپ کا سایہ سلامت رکھے، آپ امت کیلئے ایک سرمایہ ہیں، دوسری گزارش یہ ہے کہ آپ کا ایک کلپ ; مجھ تک پہنچا. جس میں آپ نے ایک شادی پر تبصرہ کیاہے کہ 200 کروڑ کی شادی ہوئی ہے ;    ، میں آپ سے گزارش کروں گا کہ میرا میڈیا سے سب سے ; زیادہ تعلق ہے ، میڈیا نے بالکل جھوٹ بولا ہے ،اس گھر سے میرا تعلق 28 سال پرانا ہے ، اس وقت سے ہے;  جب یہ چھوٹے سے تاجرتھے ،  یہ تبلیغ میں آئے تو وہاں سے محبت کا تعلق بنا ،;  ان کے والد اور والدہ کا جنازہ میں نے پڑھایا ، تو اس تعلق کی وجہ سے میں نکاح پر گیا تھا ۔

مولانا طارق جمیل کا اپنے پیغام میں کہناتھا کہ جب یہ خبر پھیلی کہ 200 کروڑ کی شادی ہے ، تومیں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مولانا ہمارا ٹوٹل 10 کروڑ اس پر لگا ہے ، یہ 200 ارب کی خبر یں جھوٹی ہیں ، ان کا بیٹا میرے بھتیجے کا قریبی دوست ہے ، یہ بھی خبر تھی کہ دس لاکھ مولانا طارق جمیل کو نکاح کا دیا ہے ، اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے اچھے گھر میں پیدا کیا ، اللہ مجھے بڑے بول اور تکبر سے بچائے ،; ;   اللہ نے مجھے خوشحال زندگی عطا فرمائی ، ہم جدی پشتی زمیندار ہیں ، اللہ نے اپنا فضل کیا کہ , مجھے اس راستے پر پھیر لیا اس کا کرم اور احسان ہے ، شادی میں اپنے تعلق کی وجہ سے گیا تھا ، مجھے بھی وہ منظر اتنا اچھا نہیں لگا لیکن جو کہا جارہاہے کہ 2,  ارب کی شادی ہوئی اور مولانا طارق جمیل کو دس لاکھ دیا گیا ،سراسر  جھوٹ ہے ، میڈیا کی خبر پر کبھی کوئی تبصرہ نہ کیا کریں ، کبھی کوئی ; کلپ ریکارڈ نہ کروایا کریں ، میڈیا والے99 فیصد جھوٹ بولتے ہیں ۔

مولانا طارق جمیل کا کہناتھاکہ مجھے تو ان محفلوں میں جانا ہوتا ہے ، شائد کوئی طوائفوں کے پاس گیا ہو لیکن میں ان کے محلوں اور گھروں میں جاتا ہوں ،وہا ں بیٹھ کر ان سے بات کرتاہوں ، میرے تلمبہ شہر میں طوائفوں کا ایک محلہ ہے جو کہ 200 سال پرانا ہے ،1818 رنجیت سنگھ نے قائم کیا تھا ، دس سال محنت کرتے کرتے یہاں تک لایا ہوں کہ میں نے ان کے وظیفے مقرر کیے   اور ان سے برائی چھڑوائی ، میں انہیں مہینے کا 40 لاکھ روپے وظیفہ دیتا تھا ،;  کیونکہ 235 لڑکیاں تھیں جو یہ کام کرتی تھیں ; ، تو مجھے ہر جگہ جانے میں کوئی عار نہیں ہے.,  تو مجھے تو پیغام پہنچانا ہے ، اگر میں طوائفوں کے پاس جا سکتا ہوں تو وہاں بھی جا سکتا ہوں ، مجھے اللہ کی بات ہی کرنی ہوتی ہے ،اور کیا کرنا ہوتاہے ، یہ اختلاف رائے ہے ، کوئی مخالفت نہیں ہے ، میں اس سے اختلاف کرتاہوں کہ,  ایسی محلفوں میں نہیں جانا چاہیے ، بطور شریک نہیں جانا چاہیے;  لیکن اگر آپ نے اللہ کی بات سنانی ہے تو ضرور جانا چاہیے ۔

ان کا کہناتھا کہ, 10 لاکھ مجھے دیا یہ بکواس ہے ، 200کروڑ شادی پر لگا یہ بھی بکواس ہے ،شادی کروانے   والوں کے اہل خانہ نے بتایا کہ,  دس کروڑ شادی پر لگایا ہے ، وہ کھربوں   پتی لوگ ہیں . دس کروڑ ان کیلئے کیا مسئلہ ہے لیکن پھر بھی اصراف تو ہے ، میں پرانے تعلق کی وجہ سے شادی میں گیا ہوں، میں صفائی پیش نہیں کرتا اوراپنے پر بات لے لیتا ہوں;  لیکن جب اللہ کے نیک بندوں کے دل میں بات آجائے تو میرے لیے نقصان دہ ہے ، میں نے اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے آپ سے بات کی ہے ، دو چار لقمے روٹی کے کھائے اورمیں پھر واپس آ گیا ، ان پر بھی یہ جھوٹا الزام ہے کہ, .  انہوں نے اتنے پیسے خرچ کیے ،;    اگر میری کوئی بات بری لگی ہوتو میں معذر ت چاہتاہوں ، میں سب کے پاس جاتاہوں ، ان سے بات کرتاہوں ، ان کے بڑے اچھے نتائج ہیں ، ; ہدایت اللہ دیتا ہے ،اللہ مجھے اور آپ کو اپنے حفظ امان میں رکھے ۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔