Skip to main content

لاہور سیالکوٹ موٹرو ے کیس کے مرکزی ملزم عابد علی ملہی کا عدالت میں بڑا شکوہ


 لاہور “دوسروں کی بہو ،بیٹیوں کی عزت پامال کرنے والے عابد علی ملہی کو اپنی بیوی اور بیٹی کی یاد ستانے لگی 

 عدالت میں جج کے سامنے شکوہ کیاکہ پولیس بیوی بچوں سے نہیں ملنے دے رہی۔تفصیلات کے مطابق سوموار کے روز ملزم عابد ملہی کو

سکیورٹی حصار میں عدالت میں پیش کیا گیا۔سماعت کے دوران ملزم نے عدالت میں بیان دیا کہ پولیس بیوی بچوں سے نہیں ملنے دے رہی

جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے یہ معاملہ دیکھ لیں پھر ملاقات ہو جائیگی،پولیس تفتیشی افسر کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم عابد ملہی سے تفتیش جاری ہے

 استدعا ہے کہ مزید پندرہ روز کا ریمانڈ دیا جائے”عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کو مزید پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا اور جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر ملزم کو 16 نومبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا

 ،یاد رہے کہ ملزم نے اپنا اعتراف جرم بھی کرلیا ہے 

 دوران تفتیش اس نے بتایا کہ 9 ‘ستمبر کو ہم لوٹ مار کی وارداتوں کے لیے کورول گائوں سے نکلے تھے

 گاڑی کے جلتے بجھتے انڈیکٹر دیکھ کر موٹروے کے اوپر چلے گئے۔ خاتون کو دیکھ کر اسے باہر نکلنے کا کہا انکار پر گاڑی کا شیشہ توڑا اور خاتون سے گھڑی، زیورات اور نقدی لوٹنے کے بعد اسے موٹروے سے نیچے جانے کوکہا۔

خاتون کے انکار پر بچوں کو نیچے لے گئے

 خاتون بچوں کو بچانے نیچے آئی تو اسے نشانہ بنایا۔ ڈولفن اہلکاروں نے آکرہوائی فائرنگ کی توفرار ہوگئے

ملزم نے مزیدبتایا کہ واردات کے بعد میں ننکانہ اور پھر بہاولپور چلا گیا” ایک مہینے کے دوران ماسک پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ میں

مختلف شہروں میں پھرتا رہاپیسے ختم ہونے پر بیوی سے رابطہ کیا تو پولیس نے گرفتار کرلیا

علاوہ ازیں ملزم کو گرفتار کرنے والی ریڈنگ ٹیم کے نام بھی سامنے آ گئے 

بتایا گیا ہے 

کہ ملزم عابد ملہی کو ایس پی سی آئی اے لاہور عاصم افتخار کمبوہ اور انچارج آرگنائزڈ کرائم سی آئی اے

ماڈل ٹائون لاہور انسپکٹر سید حسین حیدر نے ریڈنگ ٹیم کو لیڈ کیا جبکہ ریڈنگ ٹیم میں آرگنائزڈ کرائم سی آئی اے خلیل احمد شرافت علی، شبیر احمد محمد بشیر کامران انور ، مظہر حسین اور طاہر حسین شامل تھے

دوسری طرف ملزم کی نے خود گرفتاری دی یا اسے پولیس نے

گرفتار کیا اس حوالے سے نیا پنڈورا باکس کھل گیاہے 

میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ملزم کے والد نے علاقہ معزز سے عابد کو پولیس کے حوالے کرنے کی درخواست کی جس پر علاقہ معزز کی گاڑی میں ہی عابد کو سی آئی اے ماڈل ٹائون منتقل کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق عابد ملہی ننکانہ سے فرار ہونے کے بعد چنیوٹ چلا گیا، چنیوٹ میں کچھ دن بھینسوں کے باڑے میں کام کرتا رہا پولیس چھاپے سے قبل فرار ہو کر مانگا منڈی آگیا والد اور علاقہ معزز سے رابطے کے بعد عابد کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔


Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔