Skip to main content

آدمی نے ہاتھیوں کو ان کی موت سے بچالیا، پھر اس آدمی کی موت پر ہاتھیوں نے کیا کیا؟ جان کر آپ بھی کہیں آج کل انسانوں سے زیادہ انسانیت تو جانوروں میں ہے............

آدمی نے ہاتھیوں کو ان کی موت سے بچالیا، پھر اس آدمی کی موت پر ہاتھیوں نے کیا کیا؟ جان کر آپ بھی کہیں آج کل انسانوں سے زیادہ انسانیت تو جانوروں میں ہے

 جنوبی افریقہ میں ایک آدمی نے ہاتھوں کے ایک گروہ کو شکاریوں کے ہاتھوں مرنے سے بچایا اور اب 20سال بعد جب اس آدمی کی موت ہوئی , تو ان ;  ہاتھیوں نے ایسا کام کر دیا کہ سن کر حیرت گم ہو جائے۔   انڈیا ٹائمز کے مطابق اس آدمی کا نام لارنس انتھونی تھا , جو جنوبی افریقہ کے علاقے;  زولولینڈ میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا تھا۔ وہ جانوروں کے   حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے لگا۔   20سال قبل اسے ہاتھیوں کے ایک گروپ کے بارے میں پتا چلا جسے انتہائی   محدود جگہ پر قید رکھا جا  رہا تھا,  کیونکہ ان ہاتھیوں کی شکاریوں کے ہاتھوں موت ہونے کا خطرہ تھا۔ 

انتھونی نے ہاتھیوں کے اس گروہ کو اس محدود جگہ سے نکالا;  اور زولولینڈ میں واقع تھولا تھولا گیم ریزرو میں لا کر چھوڑ دیا جو سینکڑوں ایکڑ رقبے پر محیط ایک سینکچری تھی۔ اس کے بعد انتھونی مسلسل ان ہاتھیوں کی نگہداشت بھی کرتا رہا۔2012ءمیں جب انتھونی کی ہارٹ اٹیک کے باعث اچانک موت واقع ہوئی تو اس کے گھر کے اردگرد پھیلے   اس سینکڑوں ایکڑ رقبے میں گھومتے;  ہاتھیوں کو جیسے خبر ہو گئی اور وہ اس کے گھر کی طرف کھنچے چلے آئے۔ یہ تمام ہاتھی انتھونی کے گھر کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے,  اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔  وہ اس طرح سوگوار کھڑے تھے,  جس طرح انتھونی  کے گھر والے اس کی موت پر سوگوار تھے۔ تمام ہاتھی;  2دن تک انتھونی کے گھر کے باہر افسردگی کے عالم میں کھڑے رہے اور پھر واپس سینکچری میں چلے گئے ۔آج تک کوئی یہ نہیں سمجھ سکا کہ سینکڑوں میل کے اس علاقے میں گھومتے   ان ہاتھیوں کو یہ علم کیسے ہو گیا کہ , ان کے محسن کی آج موت واقع ہو گئی ہے , اور وہ کس طرح اس کے گھر کے باہر پہنچ گئے , اور وہیں ; دو دن تک غم و الم کی تصویر بنے کھڑے رہے؟ 

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔