Skip to main content

پاکستان کیلئے اہم خبر، ایشین انویسٹمنٹ بینک پاکستان کو 50 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا

حکومت کے کووڈ 19 پروگرام کے لیے مذکورہ رقم ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے فراہم کی جائے گی-
مجوزہ پروگرام کے بارے میں اے آئی آئی بی کی ایک رپورٹ میں کہا کہ وبا نے پاکستان کی معاشی بحالی کے جاری پروگرام سمیت بہترین شرح نمو کو برقرار رکھنے کی صلاحیت پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔
اے ڈی بی نے اندازہ لگایا ہے -کہ جون 2020 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران برآمدات اور ترسیلات زر میں 2 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوگی۔
اے ڈی بی نے توقع ظاہر کی کہ کُل آمدنی میں تقریبا 6 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوگی۔
رپورٹ کے “مطابق مذکورہ بالا سارے اثرات پہلے ہی باضابطہ اور غیر رسمی دونوں شعبوں میں ہی ملازمت کے نقصانات کا باعث بنے ہیں۔
اے آئی آئی بی کا کہنا تھا کہ پروگرام اے ڈی بی کے سیف گارڈ پالیسی بیان (ایس پی ایس) کی شق کے مطابق تیار کیا گیا جو پالیسی پر مبنی قرضوں پر لاگو ہوتا ہے۔
حکومت صحت کے شعبے میں ترقیاتی اخراجات کے پروگرام کی منظوری کے لیے متحرک ہوگئی ہے اور 7.2 ارب ڈالر پر مشتمل شبعہ صحت کے تین حصوں پر کام ہوگا جس میں صحت، سوشل سیفٹی نیٹ اور معاشی طورپر متحرک کرنے سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
مزید برآں حکومت نے ایک وبا سے متعلق جامع 19 حکمت عملی تیاری کی اور رسپانس پلان کی بھی منظوری دے دی جس میں گزشتہ ماہ ترجیحی سرگرمیوں کے لیے 59 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی فنانسنگ بھی شامل ہے۔
ان اخراجات میں خواتین سمیت غریبوں اور کمزوروں کی حفاظت کے لیے مخصوص حکمت عملی شامل ہے۔
صحت کے شعبے کی صلاحیت اور رسد کو بڑھانے، پیداواری شعبوں اور چھوٹے کاروباروں کو معاشی بدحالی سے بچانے جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔
دو روز قبل عالمی بینک کے ایگزیکٹیو بورڈ نے پاکستان کو صحت، تعلیم، خواتین کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور کووڈ-19 کے خلاف اقدامات کے تحت سماجی تحفظ میں تعاون کے لیے 50 کروڑ قرض کے اجرا کی منظوری دی۔
عالمی بینک کی جانب سے یہ قرض فوری جاری کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر 30 جون کو رواں مالی سال کے اختتام سے قبل دستیاب ہوگا۔
عالمی بینک سے ملنے والا یہ قرض 5سال کی رعایتی مدت کے ساتھ 30 سال پر محیط ہوگا اور اس قرض کو عالمی بینک کا ذیلی ادارہ انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن فراہم کرے گا۔
خیال رہے کہ سینڑل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے ایک ارب 70 کروڑ ڈالر کے بیرونی قرضوں کے حصول کے لیے دیگر 6 منصوبوں کی بھی منظوری دی تھی۔
سی ڈی ڈبلیو پی کے منظور کردہ پروگرامز میں سے عالمی بینک سے 28 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے لیے منصوبے تیار کیے جائیں گے جس میں 10 کروڑ ڈالر سولڈ ویسٹ ایمرجنسی ایفیشنسی پروگرام اور ہائیڈرومنٹ اینڈ ایکوسسٹم ریسٹوریشن سروسز کے منصوبے کے لیے 18 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور آج بھی مزید کیسز اور اموات کے بعد ملک میں مصدقہ کیسز 56 ہزار 792 ہوگئے جبکہ اموات 1169 تک پہنچ گئیں۔
سرکاری سطح پر فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق آج ابھی تک 1024 نئے کیسز اور 13 اموات رپورٹ ہوئیں۔
خیال رہے کہ ملک میں عالمی وبا کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سامنے آیا تھا جس کے بعد سے اس وبا کو اب تک 3 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...