Skip to main content

میں کرنل کی بیوی ہوں

ویب ڈیسک — 
پاکستان میں بدھ کو سوشل میڈیا پر ایک عورت کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ راستہ بند کرنے والے پولیس اہلکاروں کو بیرئیر ہٹانے کے لیے کہہ رہی ہے اور ان کے انکار پر یہ کہہ کر گالیاں اور دھمکیاں دے رہی ہے کہ میں کرنل کی بیوی ہوں
اس واقعے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق یہ واقعہ ایبٹ آباد کے قریب ہزارہ موٹروے کا ہے جہاں قلندرآباد سے بٹگرام سیکشن تک موٹروے کا تعمیراتی کام جاری تھا اور ٹریفک کو بند کیا گیا تھا۔
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ عورت پولیس اہلکاروں سے بند سڑک کھولنے کا کہہ رہی ہے۔ پولیس اہلکار نے جواب دیا کہ صوبیدار صاحب کی اجازت نہیں ہے۔ اس پر عورت نے اس پولیس اہلکار کو سخت الفاظ میں کہا کہ صوبیدار کی کیا حیثیت ہے؟ میں کرنل کی بیوی ہوں۔
سڑک پر گاڑیوں کو روکنے کے لیے بیرئیر موجود تھا لیکن اس عورت نے وہ بیرئیر اپنے ہاتھوں سے ہٹادیا۔ اس کے بعد پولیس اہلکار ان کی گاڑی کے سامنے کھڑا ہوگیا اور لوہے کا ڈرم سامنے رکھ دیا۔ عورت نے اس ڈرم کو بھی اٹھاکر پھینک دیا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود نوجوان کو ایک طرف کرنے کے بعد وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی اور زبردستی گاڑی نکال کر لے گئی۔ پولیس اہلکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے
ویڈیو ریکارڈ کرنے والا پولیس اہلکار نے ریکارڈنگ کے دوران اپنے دوسرے ساتھیوں کو بتایا کہ وہ عورت صبح بھی بدتمیزی کرکے زبردستی گئی تھی
چار منٹ سے زیادہ دورانیے کی یہ ویڈیو مختلف ٹوئیٹر اکاؤنٹس اور فیس بک سمیت ہر طرح کے سوشل میڈیا پر موجود ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستان میں ٹوئیڑ پر کرنل کی بیوی کا ٹرینڈ چلنا شروع ہوگیا۔
اس بارے میں اے آر وائی نیوز چینل پر ٹکرز نشر کیے گئے جن میں بتایا گیا کہ ایبٹ آباد کے قریب یہ واقعہ پیش آنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے تھانہ حویلیاں میں اس عورت کے خلاف مقدمے کے لیے درخواست دیدی ہے۔ اس سلسلے میں تھانہ حویلیاں سے رابطہ کیا گیا تو صحافی کا تعارف کروانے پر رابطہ منقطع کردیا گیا۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بارے میں بہت سے لوگ اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ ٹوئیٹر پر موجود پشتون ایکٹوسٹ کے نام سے موجود اکاؤنٹ پر کہا گیا کہ اگر کرنل کی بیوی کے پاس قانون توڑنے کا اختیار ہے تو یقیناً کرنل کے پاس ریاست سے زیادہ اختیار ہوگا
یعقوب نوہری نے عورت کو روکنے کی کوشش کرنے والے پولیس اہلکار کی تصویر شئیر کی اور کہا کہ قانون پر عمل کرنے والے پولیس اہلکار کو سلام جو کرنل کی بیوی کے سامنے کھڑا رہا
صحافی اجمل جامی نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق ڈسپلنری ایکشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے
سماجی کارکن گلالئی اسمعیل نے کہا کہ یہ دھرتی یہاں ہزاروں سال سے رہنے والے قوموں کی ہے۔ اس پر ان کے سیاسی و معاشی اختیار کا حق ہے۔ ایک عام پاکستانی کو کیوں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ان کی دھرتی یرغمال ہوچکی ہے
اس واقعہ سے متعلق پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے اب تک کوئی بیان یا وضاحت جاری نہیں کی گئی

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔