Skip to main content

کرونا وائرس سے ریکارڈ 57 اموات، 2636 نئے مریض رپورٹ -

کرونا وائرس نے ايک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجادی، ملک بھر میں ایک ہی روز میں ریکارڈ 57 اموات جبکہ 2 ہزار 636 کيسز بھی رپورٹ ہوئے
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہيں ايک دن ميں وینٹی ليٹر پر سب سے زيادہ 157 مريض ہيں، عوام سے بار بار احتياط برتنے کی اپيل کی جارہی ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر طفر مرزا کا کہنا تھا کہ ملک میں وینٹی لیٹرز اور بستروں کی دستیابی سے متعلق صورتحال کنٹرول میں ہے، اس وقت تمام وینٹی لیٹرز میں سے 18 سے 20 فیصد زیر استعمال ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں ایک ہی روز میں ریکارڈ 57 اموات جبکہ 2 ہزار 636 کيسز بھی رپورٹ ہوئے، ايک دن ميں وینٹی ليٹر پر سب سے زيادہ 157 کرونا وائرس کے مريض موجود ہيں،
صحت کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں کیونکہ آنیوالے دنوں میں ملک میں کرونا کے کیسز کی تعداد اور اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور مختلف متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے صورتحال کے مطابق حکمت عملی اختیار کی جائے گی، لوگ لاک ڈاؤن کے حوالے سے نازک صورتحال کا ادراک نہیں کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ کرونا سے جاں بحق ہونے والوں کی تدفین کیلئے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں، میت سے کرونا وائرس کی منتقلی کی اب تک کوئی شہادت نہیں ملی میت کو غسل دینے والوں اور اس کی تدفین کرنے والوں کو ذاتی تحفظ کے سامان کے استعمال سمیت تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
معاون خصوصی صحت کے مطابق متاثرہ ميت سے کرونا وائرس زندہ لوگوں ميں منتقل نہيں ہوتا، ميت کو غسل ديا جاسکتا ہے، کفن استعمال کرنے ميں بھی کوئی ممانعت نہيں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ عید کی تعطیلات کے دوران ٹیسٹ کرنے کا عمل سست ہوگیا تھا تاہم اس وقت اس عمل میں تیزی آگئی ہے، پاکستان میں 35 فیصد لوگ اس وباء سے مکمل طور پر صحت یاب ہوچکے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

ٹائیگر فورس کی تقریب، نوجوانوں نے ایسی حرکت کردی کہ زلفی بخاری کو اپنی تقریر روک کر بیچ میں سے ہی جانا پڑگیا .....

اٹک   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   اٹک میں ٹائیگر فورس کی تقریب بدنظمی  کا  شکار ہونے  کی وجہ سے وزیر اعظم  کے معاون   خصوصی زلفی بخاری  کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر  جانا  پڑگیا۔ ٹائیگر فورس کی تقریب میں 1700 سے زائد کارکنوں نے شرکت  کی اور  کورونا کے ایس او پیز کی دھجیاں اڑادیں  ۔   ٹائیگر فورس کے  جوانوں کی اکثریت  نے  نہ تو ماسک پہن رکھے تھے ,اور نہ ہی  سماجی فاصلے کی پابندی کا ہی  کوئی خیال کیا گیا۔ تقریب اس وقت بدنظمی کا شکار ہوگئی,  جب کچھ لوگوں نے اپنے علاقائی صدر کو تقریب میں مدعو نہ کرنے پر احتجاج کیا ، کچھ جوانوں نے ٹائیگر فورس ; ضلع اٹک کے فوکل  پرسن کو مدعو کرنے پر بھی احتجاج کیا ۔ تقریب میں اتنی بدنظمی ہوئی کہ وزیر اعطم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار  پاکستانی  زلفی   بخاری کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر وہاں; سے جانا پڑگیا۔

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...