Skip to main content

انڈیکس میں 96پوائنٹس کمی، سرمائے میں 2ارب روپے اضافہ

کراچی ( کامرس رپورٹر ) پاکستان اسٹاک ایکس چینج میںمسلسل دوسرے روز جمعرات کو بھی کاروبار حصص میں مندی کا رجحان برقرار رہا جس کے باعث کے ایس ای100انڈیکس مزید 96.20 پوائنٹس کی کمی سے33836.61پوائنٹس کی سطح پر آگیاجب کہ 55فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی لیکن مندی کے باجود مہنگے شیئرز کی قیمتیں بڑھنے کے سبب مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت2 ارب 80کروڑ51لاکھ روپے بڑھ گئی تاہم کاروباری حجم بدھ کی نسبت 10.83فیصد کم رہا ۔نمایاں کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے ٹی آر جی پاک،ہیسکول پٹرول،،میپل لیف،کے الیکٹرک، ہم نیٹ ورک ، ، یونٹی فوڈز ،ایونشن لمیٹیڈٖ،ڈی جی خان سیمنٹ،پاک الیکٹران اورسوئی نادرن گیس کمپنی کے حصص سرفہرست رہے ۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج میںگزشتہ روزکاروبار کا آغاز مثبت ہواجس کے سبب ابتدائی اوقات میںکے ایس ای100 انڈیکس 34 ہزار کی نفسیاتی حد کو بحال کرتے ہوئے 34046پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تاہم بعد ازاں عید اور ہفتہ وار تعطیلات کے باعث سرمایہ کار حصص فروخت کو ترجیع دینے لگے جس کے باعث تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی اور ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر انڈیکس 33757پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا بعد میں ریکوری آنے سے مزکورہ حد برقرار نہ رہ سکی لیکن مندی کے اثرات غالب رہے اورمارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 96.20 پوائنٹس کی کمی سے 33836.61پوائنٹس ہو گیا ۔ سرمائے کا مجموعی حجم 64کھرب 68ارب 75کروڑ63لاکھ روپے سے بڑھ کر64کھرب71ارب56کروڑ14لاکھ روپے ہو گیا
جب کہ کاروباری حجم 14کروڑ72لاکھ 13ہزار شیئرز رہا جو بدھ کی نسبت ۱یک کروڑ78لاکھ 87ہزار شیئرز کم ہے ۔گزشتہ روز مجموعی طور پر340کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 135کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،187میں کمی اور 18کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا فیس بک نے آن لائن کاروبار کیلئے شاپس کے نام سے نیا فیچر متعارف کرا دیا
فیس بک نے آن لائن کاروبار کیلئے شاپس کے نام سے نیا فیچر متعارف کرا دیا

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

ٹائیگر فورس کی تقریب، نوجوانوں نے ایسی حرکت کردی کہ زلفی بخاری کو اپنی تقریر روک کر بیچ میں سے ہی جانا پڑگیا .....

اٹک   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   اٹک میں ٹائیگر فورس کی تقریب بدنظمی  کا  شکار ہونے  کی وجہ سے وزیر اعظم  کے معاون   خصوصی زلفی بخاری  کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر  جانا  پڑگیا۔ ٹائیگر فورس کی تقریب میں 1700 سے زائد کارکنوں نے شرکت  کی اور  کورونا کے ایس او پیز کی دھجیاں اڑادیں  ۔   ٹائیگر فورس کے  جوانوں کی اکثریت  نے  نہ تو ماسک پہن رکھے تھے ,اور نہ ہی  سماجی فاصلے کی پابندی کا ہی  کوئی خیال کیا گیا۔ تقریب اس وقت بدنظمی کا شکار ہوگئی,  جب کچھ لوگوں نے اپنے علاقائی صدر کو تقریب میں مدعو نہ کرنے پر احتجاج کیا ، کچھ جوانوں نے ٹائیگر فورس ; ضلع اٹک کے فوکل  پرسن کو مدعو کرنے پر بھی احتجاج کیا ۔ تقریب میں اتنی بدنظمی ہوئی کہ وزیر اعطم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار  پاکستانی  زلفی   بخاری کو اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر وہاں; سے جانا پڑگیا۔

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...