Skip to main content

فلیسین کابوگا: روانڈا میں نسل کشی کا ملزم فرانس میں گرفتار ......

فلیسین کابوگا


روانڈا میں نسل کشی کے الزام میں سب سے زیادہ مطلوب فلیسین کابوگا کو فرانس میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فرانس کی وزارت قانون نے اعلان کیا ہے کہ انھیں پیرس کے قریب سے گرفتار کیا گیا ہے۔
وہ ایک جھوٹی شناخت کے ساتھ وہاں رہائش پذیر تھے۔ کابوگا کو فرانس کے نیم فوجی دستے نے گرفتار کیا ہے۔
روانڈا کے لیے بنائے گئے انٹرنیشنل کریمنل ٹرائبیونل نے 84 سالہ کابوگا,  پر نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی فرد جرم عائد کر رکھی ہے۔
ان پر الزام ہے کہ وہ اس ہوتو نسل کی انتہا پسند گروہ کی مالی معاونت کرنے;  والوں میں مرکزی کردار رکھتے تھے جس نے سنہ 1994 میں آٹھ لاکھ افراد کو قتل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

وہ تسی نامی اقلیتی برادری اور سیاسی حریفوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔
امریکہ نے کابوگا کی گرفتاری   سے متعلق معلومات دینے پر 50 لاکھ ڈالر کے   انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔

فلیسین کابوگا کون ہیں؟

بی بی سی کے افریقہ ایڈیٹر ویلیم راس بتاتے ہیں کہ فلیسین کابوگا ایک کاروباری    شخصیت تھے جن کا تعلق نسلی گروہ ہوتو سے ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے روانڈا میں نسل کشی کرنے   والی ملیشیا کی مالی معاونت کی تھی۔
کئی برس تک یہ خیال کیا جاتا رہا کہ وہ کینیا میں رہائش پذیر ہیں جہاں کے طاقتور سیاست دانوں پر الزام تھا کہ وہ ان کی گرفتاری کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں۔
اس نسل کشی کے 25 سال سے زیادہ عرصے کے بعد ان پر ایک بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

انھیں کیسے ڈھونڈا گیا؟

فرانس میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر اور پولیس نے بتایا ہے کہ کابوگا اپنے بچوں کی مدد سے غلط شناخت ظاہر کر کے ایک فلیٹ میں رہ رہے تھے۔
انھیں سنیچر کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے گرفتار کیا گیا۔ دی ہیگ میں روانڈا میں ہونے والے جنگی جرائم سے متعلق ٹرائبیونل سے منسلک چیف پراسیکیوٹر سرج برامتز نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقات کے دوران کئی مقامات پر چھاپے مارے گئے تھے۔
سرج برامتز نے ایک بیان میں کہا کہ ’آج فلیسین کابوگا کی گرفتاری یہ.,  یاد دلاتی ہے کہ جرم کے 26 سال بعد بھی نسل کشی کے ذمہ داروں کے ; خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔‘
روانڈا، نسل کشیتصویر کے کاپی رائٹAFP
ان کا کہنا تھا کہ ’کابوگا کی گرفتاری اس بات کی مثال ہے کہ اگر عالمی برادری کی مدد حاصل ہو تو عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی میں ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔‘
سرج برامتز نے فرانس میں حکام کی تعریف کی لیکن کہا کہ روانڈا، بیلجیئم، برطانیہ، ہالینڈ، آسٹریا، لیگزمبرگ، سوئٹزرلینڈ، امریکہ، یورپ ; اور انٹرپول نے بھی خاص معاونت کی ہے۔
فرانس کے قوانین کے مطابق کابوگا کو عالمی عدالت انصاف دی ہیگ کے ٹرائبیونل کے حوالے کیا جائے گا۔
کابوگا پر 1997 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی ۔ ان کے خلاف نسل کشی میں معاونت، اشتعال انگیزی، سازش اور اقلیتوں پر مظالم جیسے الزامات ہیں۔
تاہم اب بھی دو مرکزی ملزم تاحال گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔

یہ نسل کشی کیسے ہوئی؟

6 اپریل 1994 کو ہوتو برادری سے تعلق رکھنے والے اس وقت کے روانڈا کے صدر ایک طیارے پر سوار تھے جب اسے مار گرایا   ا۔ ہوتو انتہا پسندوں نے اس کارروائی کا الزام تتسی باغی گروہ ’روانڈن پیٹریاٹک فرنٹ‘ (آر پی ایف  ) پر لگایا تھا جس نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
قتل عام کی ایک منظم کارروائی میں ملیشیاؤں کو تتسی برادری سے       تعلق رکھنے والے افراد کی    فہرستیں دی گئیں جن میں سے کئی افراد کو انتہائی سفاکی سے قتل کیا گیا۔
ان میں سے ایک ملیشیا کا تعلق حکمراں جماعت کے طلبہ ونگ تھا جس نے توتسیوں کو پکڑنے کے لیے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں، ریڈیو پر ان کے خلاف نفرت پر مبنی پیغامات; کے ذریعے عوام کو اکسایا اور گھر گھر چھاپے مار کر اقلیتی برادری توتسی کے افراد کو ڈھونڈا گیا۔
عالمی سطح پر اس نسل کشی کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گیے تھے۔ روانڈا میں اقوام متحدہ اور بیلجیئم کی فورسز موجود تھیں لیکن اقوام متحدہ کے مشن کو کارروائی کرنے کی ;اجازت نہیں ملی تھی بلکہ یہ امن دستے علاقے سے نکل گئے تھے۔
تتسی باغی گروہ آر پی ایف کو یوگینڈا کی حمایت حاصل تھی اور اس نے دارالحکومت کِگالی کی جانب مارچ کیا جس کے نتیجے میں ہوتو برادری کے تقریباً 20 لاکھ جمہوریہ  کانگو ہجرت کر گئے۔
آر پی ایف پر بھی ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ہزاروں افراد کے قتل عام کا الزام لگا جس کی اس نے تردید کی تھی۔
ہوتو برادری سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد کو عالمی عدالت انصاف کی جانب سے;  سزائیں ہوئیں اور سینکڑوں ہزاروں افراد کے خلاف روانڈا کی مقامی عدالتوں میں کارروائی کی گئے۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...