Skip to main content

کرونا وائرس-نیویارک کے ویران ریستوران گاہکوں کی راہ تک رہے ہیں

واشنگٹن — 
کرونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں اقتصادی شعبے میں جس طرح تباہی مچائی ہے وہ تصور سے باہر ہے۔ کرہ ارض کے تمام ممالک یکساں طور پر اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں چاہے وہ کسی خطے ہی میں کیوں نہ واقع ہوں۔ 
بعض ترقی پزیر ملکوں میں فاقہ کشی کی نوبت آپہنچی ہے اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ، چاہے ان کا تعلق امیر ملکوں سے ہو یا غریب ملکوں سے، بیروزگاری کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس صورت میں مستقبل کے لئے کوئی اچھی پیش گوئی محال ہے اور بے یقینی اور مایوسی کے بادل بدستور چھائے ہوئے ہیں۔
بہت سے شہر جہاں ہر وقت چہل پہل رہتی تھی اور جو اقتصادی مواقع اور خوشحالی کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب اپنی رونقوں سے گویا محروم ہوگئے ہیں۔ ان میں نیویارک کا شہر بھی شامل ہے جہاں زندگی کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔
نیویارک شہر کے ریستوران بھی ان میں شامل ہیں، جو اپنی گہما گہمی اور انواع و اقسام کے کھانوں کے لئے مشہور تھے، اب ویرانی کا منظر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کاروبار عملاً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
اس منظر نامے میں وہ لوگ جن کا اس کاروبار میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے، یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ مستقبل کیا ہوگا اور اس صنعت کو اب کس طرح بچایا جائے اور اس کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑیں گے۔ مالکان سخت پریشان ہیں
اس لئے کہ ان کا بزنس صرف گاہکوں کے آرڈر اور ڈیلوری سروس تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور ماضی کے مقابلے میں یہ انتہائی درجے سکٹر چکا ہے۔
وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار دینا ٹرین نے تاجروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ موجودہ حالات میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ بحالی کب اور کتنی جلد ہو سکے گی؟ 
شہرت یافتہ شیف ٹوم کولیکیو کا کہنا ہے کہ شہر کے ریستورانوں کو اپنی بقا کے لئے طویل المدت بنیاد پر مالی اعانت درکار ہوگی
۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بندشوں میں نرمی کے بعد جب کاروبار کھلیں گے تو بہرحال حفاظتی ضوابط پر عمل کرنا ہوگا، جن سے اخراجات میں اضافہ ہوگا، جبکہ دوسرے کاروبار کی طرح ریستوران بھی پہلے ہی سے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں۔
ٹوم کولیکیو نے ریستورانوں کی بحالی کے لئے ایک ادارہ قائم کیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت کو ایک امدادی پیکج دینا چاہئے جس سے آٹھ سے بارہ مہینوں تک اس صنعت کو سنبھالا مل سکے۔
نیویارک سٹی کونسل کی ایک تجویز میں کہا گیا ہے کہ بعض حصوں میں سڑکوں کو بند کرنے کے لئے عمل کو وسعت دے دی جائے، تاکہ فوڈ اسٹریٹ کی طرز پر کاروبار پھل پھول سکے۔ ساتھ ہی کشادہ فٹ پاتھوں پر نشتوں کا طریقہ کار بھی اختیار کیا جائے۔
لیکن، نیویارک سٹی جیسی آبادی میں جہاں ستائس ہزار کے قریب ریستوران موجود ہیں، یکساں نظام اپنانا دشوار ہے۔ ایک اور تجویز یہ بھی ہے کہ جبکہ بیروزگاری اور بھوک کا مسلہ برقرار ہے ریستورانوں کو فنڈ مہیا کئے جائیں، تاکہ وہ کمیونٹی کے فوڈ سینٹر کا کام سرانجام دے سکیں۔ 
ریستوران کی صنعت سے وابستہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا خدشہ جو منڈلا رہا ہے وہ یہ کہ ریستورانوں کا کاروبار تو شروع ہوگا لیکن ہوسکتا ہے کہ جلد ہی ان کا سرمایہ ختم ہوجائے اور ان میں ہمیشہ کے لئے تالہ لگ جائے۔ 
انھوں نے کہا کہ ایک ایسا شہر جو کبھی نہیں سوتا، اب اپنے مستقبل سے پریشان، گویا نیند کی کیفیت میں مبتلا ہے، جس کی مکمل بحالی کے آگے سوالیہ نشانات تو زیادہ ہیں لیکن ان کے جواب بہت ہی کم ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...