Skip to main content

ہٹلر کا مگر مچھ-روسی شہر ماسکو میں زندگی ہار گیا

روسی دارالحکومت ماسکو کے چڑیا گھر میں رکھا گیا وہ مگر مچھ دم توڑ گیا ہے، جسے دوسری عالمی جنگ کے ختم ہونے کے بعد جرمن دارالحکومت برلن سے لایا گیا تھا۔ اس بوڑھے مگر مچھ کی عمر چوراسی برس تھی
اس مگر مچھ کو جرمن نازی حکومت کے سربراہ اڈولف ہٹلر سے مبینہ طور پر وابستہ کیے جانے کی غیر مصدقہ کہانی بھی موجود رہی ہے۔ اس کے دم توڑنے کی تصدیق ماسکو کے چڑیا گھر کی جانب سے کر دی گئی ہے
تیئیس نومبر سن 1943 کے روز دوسری عالمی جنگ کے دوران برلن شہر پر کی جانے والی بمباری سے اس شہر کے چڑیا گھر کے جانوروں کی ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں اور کہا جاتا ہے کہ اسی دوران  یہ مگر مچھ اپنے جنگلے سے  فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ 
تاہم اس کہانی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
یہ بھی معلوم نہیں کہ بقیہ جنگی عرصے میں یہ معجزانہ طور پر کس طرح بچتا رہا۔ اسے سن 1943 میں برطانوی فوجیوں نے دیکھا اور پکڑنے کے لیے روسی فوج کا تعاون کیا۔
برلن کے چڑیا گھر سے فرار ہونے والے اس مگر مچھ کا نام سیٹرن تھا۔ اس کی لمبائی ساڑھے تین میٹر کے لگ بھگ تھی۔ کسی کو بھی معلوم نہیں کے چڑیا گھر سے نکلنے کے بعد یہ مگر مچھ کن حالات میں زندہ رہا اور اپنی خوراک کیونکر حاصل کرتا رہا تھا۔
پکڑے جانے کے بعد اس مگر مچھ کر روسی دارالحکومت منتقل کر دیا گیا اور اس نے بقیہ زندگی اسی شہر کے چڑیا گھر میں بغیر کسی پریشانی اور امن سے بسر کر دی۔
روسی چڑیا گھر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ سیٹرن مگر مچھ نے غیر معمولی طویل عمر پائی۔ اس کی موت کی بنیادی وجہ بڑھاپا بتائی گئی ہے اور اسے کوئی بیماری بھی لاحق نہیں تھی۔
یہ امر اہم ہے کہ ماہرینِ حیوانات مگر مچھوں کی زیادہ سے زیادہ اوسط عمر پچاس برس بتاتے ہیں۔ اس تناظر میں سیٹرن کی طویل عمر پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے۔
ماسکو کے چڑیا گھر میں یہ مگرمچھ تہتر برس زندہ رہا۔ سیٹرن کے مرنے پر جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ شہر کے بے شمار بچے اُسے جانتے تھے اور اس کی خاطر مدارت میں کوئی کمی نہیں رکھی گئی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ان تہتر برسوں میں ماسکو نے سیٹرن کو مایوس نہیں کیا۔ اس مگرمچھ کو سن 1936 میں امریکا میں پیدا ہونے کے بعد جرمن دارالحکومت میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
برلن منتقل ہونے کے فوری بعد یہ بات پھیل گئی کہ اس جانور کو اُس وقت کی نازی حکومت کے لیڈر اڈولف ہٹلر نے اپنے پالتو جانوروں میں شامل کر لیا تھا۔ ماسکو کے چڑیا گھر نے یہ تاثر بھی دیا ہے کہ یہ جانور برلن چڑیا گھر کا حصہ نہیں تھا۔
بعض مؤرخین اس افواہ کو کلی طور پر رد کرتے ہیں کہ ہٹلر کا اس مگر مچھ سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق تھا۔ ان مؤرخین کے مطابق ہٹلر سخت ویجیٹیرین یا سبزی خور تھا اور اسے جانوروں سے  کوئی خاص رغبت نہیں تھی

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔