Skip to main content

اگر حکومت قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا چاہتی ہے تو اِن سے۔۔۔ دینی جماعتوں نے دبنگ اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم سے مطالبہ کر دیا ............

اگر حکومت قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا چاہتی ہے تو  اِن سے۔۔۔ دینی جماعتوں نے دبنگ اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم سے مطالبہ کر دیا


لاہور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)    ملک کی اہم ترین دینی جماعتوں نے وزیر اعظم کی ہدایت پر قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی منظوری کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے , کہ  قادیانی بطور غیر مسلم آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہوئےاس کمیشن میں شامل ہونے;  کا اعلان کریں  تو ٹھیک ہے وگرنہ حکومت فوری طور پر اپنے فیصلے کو واپس لے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور وفاق المساجد کے سربراہ  علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نے عالمی  مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا اللہ وسایا قاسم ،انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا ڈاکٹر سعید  احمدعنایت اللہ ،متحدہ جمعیت اہل حدیث کے سربراہ علامہ سید ضیا اللہ شاہ بخاری ،جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی ،مولانا سید محمد یوسف شاہ ،جمعیت علمائے پاکستان کے مولانا محمد خان لغاری سے ٹیلی فونک مشاورت کے بعد متفقہ منظور کئے جانے والے اعلامیہ کو جاری کرتے ہوئے کہا,  ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں جو کہ قادیانی تسلیم نہیں کرتے،; اگر حکومت قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا چاہتی ہے تو  اِن سے آئین اور قانون کو تسلیم کروائے کہ قادیانی بطور غیر مسلم آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہوئےاس کمیشن میں شامل ہونے کا اعلان کریں ،اگر قادیانی پاکستانی آئین اور قانون کو تسلیم نہیں کرتے اور بطور "مسلم " اس کمیشن میں شامل ہوتے ہیں , تو پھر حکومت اپنے اس فیصلے کو واپس لے۔انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کے پراپیگنڈے کی وجہ سےقوم حساس امور میں اضطراب کا شکار ہوتی ہے , لہذا وزارت مذہبی امور کو اس حوالے سے  فوری طور پر وضاحت کرنی چاہئے
یاد رہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم کی ہدایت پر  قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی منظوری دیتے ہوئے  , نظرثانی شدہ ٹی اور آرز ترتیب دے دیے  ہیں جس کے مطابق کمیشن کے آفیشل ممبرز کی کل تعداد, 7 جبکہ نان آفیشل ممبران کی تعداد8 ہوگی,  جبکہ نان آفیشل مسلم ممبران میں مولانا سید محمد عبدالکبیر آزاد اور مفتی گلزار احمد نعیمی شامل ہیں،; ہندو ، سکھ ، پارسی اور کیلاشی برادری کے ممبران بھی کمیشن میں شامل کئے گئے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔

امریکہ کی سب سے بڑی ریاست میں 7 اعشاریہ 8 شدت کا زلزلہ، کتنا نقصان ہوا؟ ......

 امریکہ کی رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑی ریاست الاسکا میں 7 اعشاریہ   8 شدت کے زلزلے نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا، حکام کی جانب سے پہلے سونامی کی وارننگ جاری کی گئی تھی لیکن کچھ گھنٹوں  بعد ہی واپس لے لی گئی۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے  مطابق زلزلے کا مرکز پیرویل کے جنوب مشرق سے 105 کلومیٹر دور ساحلی علاقہ تھا، زلزلے  کی گہرائی 28 کلومیٹر تھی۔ زلزلے سے متاثرہ علاقے کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی پوسٹ   کی ہیں , جن میں انہیں ایک   ہائی سکول کی طرف بھاگتے ہوئے,  دیکھا جاسکتا ہے، اس ہائی سکول میں زلزلے اور دیگر قدرتی آفات سے بچاؤ کیلئے شیلٹر بنایا گیا ہے۔ 7 اعشاریہ 8 شدت کا شدید زلزلہ آنے کے;  بعد الاسکا میں سونامی وارننگ جاری کی گئی اور لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہا گیا,   لیکن کچھ گھنٹوں بعد ہی یہ وارننگ واپس لے لی گئی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق شدید زلزلے کے باعث عمارتیں ہل کر رہ گئیں  ., اور لوگوں میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا ,  لیکن زلزلے کے باعث نہ تو کسی عمارت کو نقصان پہنچا اور نہ ہی...