Skip to main content

کورونا کا خطرہ، سندھ میں رمضان کیلیے ایس اوپی تیار، کاروبار کب سے کب تک کھلے گا؟ حیران کن خبرآگئی ........

کورونا کا خطرہ، سندھ میں رمضان کیلیے ایس اوپی تیار، کاروبار کب سے کب تک کھلے گا؟ حیران کن خبرآگئی


کراچی  (ویب ڈیسک)   وزیراعلیٰ سندھ نے کورونا وائرس کے پیش نظر ومساجد میں نمازجمعہ اور نماز تراویح کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، رمضان المبارک میں بھی کاروبار صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک کھلے گا، دن کے اوقات میں بڑھتی گرمی اور روزے کی حالت میں بازار جانا ہی محال ہوگا۔
ایکسپریس کے مطابق وزیراعلیٰ نے اعلان کیا ہے,  کہ آج دوپہر بارہ بجے سے تین بجے تک سندھ بھرمیں سخت لاک ڈاؤن ہوگا اور مساجد میں صرف مسجد انتظامیہ کو نماز ادا کرنے دی جائے گی , جبکہ سڑکوں پر عوام کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہو گی، اس فیصلے کا اعلان وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک وڈیو پیغام کے ذریعے رات گئے کیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل وزیراعلی سندھ اور صوبائی وزرا نے علما کرام سے مزاکرات کئے اتفاق رائے ہونے کے بعد وزیراعلی سندھ نے ویڈیو  بیان جاری کیا وزیراعلی نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کو بھی اعتماد میں لیا زرائع کا کہنا ہے , کہ تراویح کی نماز میں صرف تین سے پانچ افراد کو اجازت ہوگی
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے ماہ رمضان کے لئے بھی ایس او پی تیار کرلیا ہے جن کاروبار کو صبح 8 سے شام پانچ تک کی اجازت ہے. وہ برقرار رہے گی تاہم تیار کھانوں کی ڈیلیوری کرنے والے کاروبار شام پانچ بجے سے رات دس بجے تک اجازت دی جائیگی۔  صیام میں سموسے پکوڑے کی دکانیں اور بیکری شام پانچ بجے تک بند کرنا ہوں گی۔ علاوہ ازیں وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا کہ انھوں نے صدر مملکت سے بھی مشاورت کی ہے , علما کرام اس فیصلے کے, نفاذ میں ہماری مدد اور تعاون کریں۔
گذشتہ روز ڈاکٹروں نے اہم پریس کانفرنس کی اور اپنے خدشات کے حوالے سے آگاہ کیا پی ایم اے پنجاب نے بھی وہی خدشات ظاہر کیے , اگر بڑے اجتماعات سے گریز نہ کیاگیا تو یہ وبا بڑی تیزی سے پھیلے گی صدر مملکت نے مساجد کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا , میں نے صدر سے فون پر بات کی صدر مملکت نے ایک ٹویٹ کیا کہ اگر کسی وقت وفاقی یا صوبائی حکومت کو یہ محسوس ہواکہ کورونا وائرس کی وجہ سے حالات خراب ہوتے جارہے ہیں یا اور خراب ہونے کا خدشہ ہے, تو حکومت اس پالیسی کو تبدیل کرسکتی ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔