Skip to main content

"نیویارک میں کورونا وائرس چین سے نہیں آیا بلکہ۔۔۔" امریکی ریاست کے گورنر نے نیا انکشاف کردیا ،صدر ٹرمپ پر بھی تنقید ...........



نیویارک  (ڈیلی پاکستان آن لائن)   امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومونے انکشاف کیا ہے; کہ ان کی ریاست میں کورونا وائرس چین سے نہیں , بلکہ یورپ سے آیا ہے ۔  انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے,  الزام لگایا کہ ٹرمپ نے سفری پابندیوں میں تاخیر سے کام لیا جس کی وجہ سے وائرس کو پھیلنے کا موقع ملا۔ 
برطانوی نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق گورنر نیویارک  نے ایک یونیورسٹی کی ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے,  کہ یکم مارچ کو جب پہلا کورونا کیس رجسٹرڈ ہوا تو اس وقت تک دس ہزار نیویارکرز کا اس وائرس سے ٹکراو ہوچکا تھا ;اور اس کا ذریعہ یورپی ملک اٹلی تھا۔
انہوں نے کہا صدر ٹرمپ نے دوفروری کو اس وائرس کے پھیلاو کے ایک ماہ سے بھی زائد عرصے کے بعد , پہلے چین اور پھر یورپ سے سفری پابندیوں کااعلان کیا لیکن  تب  تک یہ وائرس بری طرح امریکا میں پھیل چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ , ہم نے چین کیلئے اپنا داخلی دروازہ بند کردیا جو کہ صحیح تھا مگر پچھلے دروازے کو دوسرے ممالک کیلئے کھلا رکھا.. حالانکہ اس وقت تک وائرس دنیا کے مختلف کونوں تک پہنچ چکا تھا۔
انہوں نے کہااس وائرس سے لڑنے کیلئے,  انہوں نے کسی بھی امریکی ریاست سے بڑھ کر تیزی دکھائی , اور انیس دنوں کے اندر مکمل ڈاون کیا۔
خیال رہے امریکہ میں  کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 51000 سے تجاوز کر گئی ہے. امریکا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں نیویارک میں ہوئیں جہاں 11,544لقمہ اجل بنے , جبکہ متاثرین کی تعدادڈیڑھ لاکھ سے زائد ہے۔
ایک طرف ہلاکتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا تو دوسری جانب  تین امریکی ریاستوں نے کچھ دکانوں اور کاروباروں کو کھلنے کی اجازت دے دی ہے۔
جارجیا اور اوکلاہوما میں سیلونز اور سپا جبکہ,  الاسکا میں ریستورانوں پر سے پابندی اٹھا لی گئی ہے
جمعہ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ سوالات لینے سے انکار کرتے ہوئے;  بریفنگ سے واک آؤٹ کر گئے۔
انھیں یہ تجویز پیش کرنے کے بعد تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے , کہ کورونا وائرس کے مریضوں کو جراثیم کش محلول کے انجیکشن لگانے,  سے شاید اس وائرس کے علاج میں مدد مل سکے۔
ڈاکٹروں اور جراثیم کش ادوایات بنانے والوں نے اس تجوز کی مذمت کی ہے۔ لائیسول اور ڈیٹول جیسے جراثیم کش محلول بنانے والی کمپنی ریکٹ بینکیسر نے صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد ایک وضاحت جاری کی ہے.  جس میں کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی حالت میں اور کسی بھی طریقے سے , ہماری جراثیم کش مصنوعات کو انسانی جسم کے اندر نہ جانے دیا جائے‘۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔