Skip to main content

افطار میں سرخ شربت کا استعمال! صحت کے لیے ضروری اور بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ

گرمی کے موسم میں جسم کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور پانی کے استعمال سے لو لگنے سے بچا جا سکتا ہے مگر زيادہ گرمی میں صرف پانی اس نمکیات اور گلوکوز کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا ہے جو کہ انسان کے جسم سے پسینے کی صورت میں خارج ہوتے ہیں- اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ایسے مشروب کی ضرورت ہوتی ہے جو جسم میں سے پانی کی کمی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ گلوکوز کی کمی بھی پوری کر سکے۔ آج کل رمضان گرمی کے موسم میں آتے ہیں اور روزے کا دورانیہ عام طور پر بارہ سے چودہ گھنٹے تک کا ہوتا ہے جس میں جسم میں پانی اور گلوکوز کی کمی ہو جانا قدرتی امر ہے اس لیے روزہ کھولنے کے لیے ایسے مشروبات کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ نہ صرف پیاس کا خاتمہ کر دے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جسم کی توانائي کی کمی بھی پوری کر دے اس وقت میں سب سے پہلا خیال لال شربت کا ہی آتا ہے جو کہ سالوں سے افطار کے وقت ہماری اولین پسند ہوتی ہے- آج ہم آپ کو اس حوالے سے بتائيں گے کہ لال شربت کس طرح انسانی جسم کے لیے روزے کے فوراً بعد افطار کے وقت بہترین ثابت ہو سکتا ہے- 

لال شربت کے اجزاﺀ
  1.  

لال شربت میں گلاب کے پھول کی پتیوں کو گاجر، اورنج، انناس،پالک اور پودینے کے اجزا کو شکر کے ساتھ ملا کر ایک خاص تناسب کے ساتھ بنایا جاتا ہے جس میں دھنیا بھی شامل ہوتا ہے- یہ تمام اجزا ایک خاص تناسب کے ساتھ ملا کر ایک گاڑھا محلول تیار کیا جاتا ہے جو کہ قدرے زیادہ مٹھاس کا حامل ہوتا ہے اور اس میں ٹھنڈہ پانی  یا دودھ ملا کر اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے- اس میں شامل تمام اجزا قدرتی ہوتے ہیں اس وجہ سے یہ کسی بھی قسم کے کیمیکل اثرات سے محفوظ ہوتا ہے-

لال شربت کے فوائد 
لال شربت کے اجزاﺀ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جسم کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے
 1: پیاس کو بجھاتا ہے 
اس شربت میں کئی قسم کی معدنیات موجود ہوتی ہیں جیسے کہ سوڈیم ، میگنیشیم ،سلفر اور فاسفورس اس شربت میں موجود ہوتے ہیں- اس کو پینے سے جسم میں پانی کا توازن برقرار رہتا ہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے جسم میں جمع ہونے والے زہریلے مادوں کے اخراج میں مددگار ثابت ہوتا ہے- اس وجہ سے افطار کے وقت اس شربت کا استعمال جسم میں پانی کی کمی کو دور کرتا ہے اور جسم کو اس کمی کے سبب ہونے والے اثرات سے بھی محفوظ رکھتا ہے- 

2: کمزوری کا خاتمہ کرتا ہے 
افطار سے قبل کے اوقات میں انسانی جسم جو کمزوری محسوس کر رہا ہوتا ہے اس کا سبب جسم میں نمکیات اور گلوکوز کی کمی ہوتی ہے افطار کے وقت پانی کی ضرورت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے- مگر اس وقت صرف پانی کا استعمال انسان کی پیاس کو نہ صرف بڑھا دیتا ہے بلکہ جسم کی کمزوری میں بھی اضافے کا باعث بنتا ہے جب کہ اس وقت میں لال شربت کا استعمال نہ صرف پیاس کو بجھاتا ہے بلکہ اس میں موجود گلوکوز اور کاربوہائيڈریٹ جسم کو فوری طور پر توانائی فراہم کرتے ہیں-

3: نظام ہاضم کو بہتر بناتا ہے 
سارے دن کی بھوک کے بعد اچانک کھانے کے سبب بدہضمی کے خطرات میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے کیوں کہ معدہ اتنے آرام کے بعد ایک دم اپنے اوپر پڑنے والے بوجھ کے سبب کام کرنے میں دشواری کا شکار ہو سکتا ہے- ایسی صورت میں اس شربت کے اجزاﺀ جس میں پودینہ، اور عرق گلاب شامل ہوتے ہیں معدے کو طاقت فراہم کرتے ہیں اور نظام ہاضم کو بہتر بنانے میں معاون ہو سکتے ہیں-

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...