Skip to main content

بزدار حکومت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں بازی لے گئی، تعمیراتی شعبہ کے فروغ کیلئے آن لائن سروس کا آغاز...........



 بزدار حکومت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں بازی لے گئی،وزیراعلی عثمان بزدار کی ہدایت پر تعمیراتی شعبہ کے فروغ کیلئے آن لائن سروس کا آغاز کردیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ تعمیراتی شعبے سے متعلقہ اجازت ناموں اور این او سی کے حصول کیلئے جدید ون ونڈو سسٹم کی کامیابی کے بعد آن لائن پلیٹ فارم کا اجراء کر دیاگیا ہے،بلڈرز، ڈویلپرز، آرکیٹیکٹس اور شہریوں کی نجی/کمرشل تعمیرات کیلئے اجازت نامے اب ایک کلک کے ذریعے میسر ہوں گے۔ صوبے میں معاشی استحکام اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے حکومت پنجاب نے ای گورننس پر مبنی محکمانہ اصلاحات متعارف کرائی ہیں ; اور وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق کنسٹرکشن سیکٹر کو صنعت کا درجہ دیئے جانے ; پر اس شعبے سے جڑی معاشی بحالی کی حکمت عملی کے تحت ون ونڈوپلیٹ فارم فعال کئے گئے ہیں۔

پنجاب کو تعمیراتی بزنس حب بنانے کیلئے ای خدمت مراکز میں قائم کیا جانے;  والا یہ ون ونڈو نظام بلڈرز، ڈویلپرز، آرکیٹیکٹس کیساتھ ساتھ نجی تعمیرات کے حوالے سے عوامی مسائل کے حل کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے، اب رہائشی یا کمرشل منصوبوں کے نقشوں کی منظوری، تکمیل تعمیر سرٹیفیکیٹ، زمین کے استعمال میں تبدیلی کا این او سی یا نجی سوسائٹیوں کیلئے اجازت نامے، سب ایک چھت تلے ای خدمت مراکز سے فراہم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ون ونڈو نظام کی کامیابی کے بعد وزیراعظم کی ہدایات کے پیش نظر اس سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کردیا گیا ہے۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے آن لائن پورٹل www.construct.fc.punjab.gov.pk/loginکا اجراء مکمل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ون ونڈو سروس کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے یہ سروس عوام کی دہلیز تک پہنچا دی گئی ہے،اب عوام آن لائن پورٹل کے ذریعے گھر بیٹھے تعمیراتی شعبے سے متعلقہ خدمات ایک کلک پر حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی پالیسی کے پیش نظر پنجاب حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اپروولز رجیم پنجاب متعارف کرائی تھیں جس میں متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کو پابند  بنایاگیا ہے کہ , ہر لحاظ سے مکمل درخواستوں کو مقررہ مدت میں ; این او سیز یا اجازت نامے جاری کئے جائیں۔ انہوں نے;  کہاکہ اس رجیم میں نقشے کی منظوری اور تکمیل تعمیر سرٹیفیکیٹ کے حصول کیلئے 30 دن، زمین کے استعمال میں تبدیلی کے این او سی کیلئے 45 دن اور رہائشی سوسائٹیوں کے;  اجازت نامے ; کیلئے 60 سے 75 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے، اس سے پہلے یہی کام;  مہینوں اور اکثر سالوں میں مکمل ہوتے تھے۔

ایل ڈی اے، جی ڈی اے، آر ڈی اے، ایف ڈی اے، ایم ڈی اے، PHATA، لوکل گورنمنٹس (میٹروپولیٹن کارپوریشنز) کو ڈیجیٹل نیٹ ورکنگ سے جوڑے ;  رکھنے کا یہ سسٹم ایک تاریخی اقدام ہے۔ درخواست گزار کو اب رہائشی تعمیرات یا رہائشی سکیموں کے اجازت ناموں کیلئے متعدد ایجنسیوں سے رابطہ نہیں کرنا پڑتا۔ تمام سہولیات ایک ہی جگہ پر ای خدمت مراکز میں میسر ہیں اور اب پورٹل کے اجراء سے عوام گھر بیٹھے یا دفتر بیٹھے اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ , عوام کیلئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں; ، کاروبار میں آسانیاں پیدا کی گئی ہیں اوراس سے سرمایہ کاری  بڑھے گی اور ; نئی ملازمتوں کے ; مواقع بھی پیدا ہونگے۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کیلئے ون ونڈو سسٹم اور آن لائن پورٹل کا قیام رشوت کلچر اور ریڈ ٹیپ ازم کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ; خاتمہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ 



 

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...