Skip to main content

سینئر صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف



 
 لاہور  مقامی اخبار روزنامہ دنیا میں سینئر صحافی اجمل جامی اور فہد شہباز خان نے انکشاف کیا ہے کہ چھاپے سے کچھ وقت قبل ملزم عابد فرار ہوچکا تھا اور اس وقت تک کوئی خبر بھی نشر نہیں ہوئی تھی ، خبریں اگلے روز نشر ہوئیں  یہی وجہ ہے کہ اداروں نے تفتیش
کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے 

اس بات کا جائزہ لینا بھی شروع کر دیا ہے کہ عابد علی چھاپے سے ٹھیک پندرہ منٹ پہلے کس کی اطلاع پر فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔روزنامہ دنیا کے مطابق کریمنل ڈیٹا بیس کے مصدقہ نظام کی عدم 

موجودگی سنگین جرائم میں ملوث افراد کی نشاندہی میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے ، حکومت کے اہم ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پنجاب حکومت نے سانحہ موٹروے کے بعد فرانزک اداروں کی رپورٹس کے بعد متعلقہ اداروں کو کریمنل ڈیٹا بیس کی تشکیل کے لئے گرین سگنل دے دیا۔ 

ابتدائی مرحلے میں جیلوں میں موجود سنگین جرائم کے مرتکب ملزمان کا ڈی این اے پروفائلنگ ریکارڈ بنایا جائے گا۔ کریمنل ڈیٹا بیس کی تشکیل میں کتنا خرچ آئے گا۔پنجاب سرکار نے فرانزک ماہرین سے تخمینہ بھی مانگ لیا تاکہ فوری طور پر نظام کو آپریشنل کیا جاسکے

سائنسی اپروچ کے ذریعے رنگ روڈپرآئے افسوسناک سانحے کے تانے بانے اب واضح ہوتے جا رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دو مرکزی ملزمان عابد علی اور شفقت کی شناخت ممکن ہوئی

ڈی این اے ٹیسٹ، سیمپلنگ اور پروفائلنگ کے لئے تین سے چار دن اور بسا اوقات اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے ، اس کیس میں ہنگامی بنیادوں پر گزرے جمعہ کی شب آٹھ بجے تک مرکزی ملزم عابد علی کا مکمل ‘ٹری’ بذریعہ ڈی این اے تیار کر لیا گیا تھا

 جائے وقوعہ سے دستیاب انتہائی اہم شواہد بشمول شیشے پر خون کے نشان اور متاثرہ خاتون سے حاصل کردہ نمونوں سے ثابت کہ درندہ صفت فعل میں مرکزی کردار عابد علی کا تھا

پروفائلنگ اور تفصیلی زائچہ تین سے چار دن لیتا ہے ، سائنسی زائچہ تیار ہونے کی صورت میں کراس میچنگ چند منٹوں میں ممکن ہو پاتی ہے۔ فرانزک ٹیم دستیاب شواہد پر توجہ مرکوز کئے ہوئے تھی

دریں اثنا قانون نافذکرنے والے ادارے اپنے تئیں 80 سے زائد مشتبہ افراد کا ڈیٹا شیئر کر چکے تھے جس کا جائزہ لینا کافی وقت لے سکتا تھا۔ ابتدا میں تو جائے وقوعہ کے آس پاس تین سے چار دیہاتوں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا گیا۔ لیکن موقع سے دستیاب شواہد کو جس احتیاط کیساتھ محفوظ کیا گیا اور پھر لیب منتقل کیا گیا 

اسی کی مدد سے جمعہ کی شب آٹھ بجے تک عابد علی کی شناخت ہو چکی تھی۔ اس تصدیق بارے ادارے مطلع ہو چکے تھے ، شیخوپورہ کے نواح میں اہم ادارے کی ٹیم جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کی موجودگی کی نشاندہی کر چکی تھی

گرفتاری قریب تھی کہ ہاتھ ڈالنے سے ٹھیک پندرہ منٹ پہلے عابدعلی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جس کا اعتراف آئی جی اگلے روز ہفتے کو پریس کانفرنس میں بھی کر رہے تھے

اہم نقطہ یہ ہے کہ فرار سے پہلے تک ملزم بارے کوئی خبر نشر نہیں ہوئی تھی، تمام خبریں اگلے روز صبح سے دوپہر تک نشر ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اداروں نے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینا بھی شروع کر دیا ہے کہ عابد علی چھاپے سے ٹھیک پندرہ منٹ پہلے کس کی اطلاع پر فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ ا

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان کا قومی جانور مار خور پہاڑوں پر رہنا کیوں پسند کرتا ہے؟ جانیں اس کے بارے میں دلچسپ معلومات

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے۔ مارخور ملک بھر میں تو زیادہ نہیں پایا جاتا کیونکہ یہ ایک سرد علاقے میں رہنے والا جانور ہے اس کے بارے میں یہ کہنا بلکل غلط نہ ہوگا کہ اس کو انسان بلکل پسند نہیں ہیں کیونکہ یہ اونچے پہاڑوں پر پایا جاتا ہے۔  مارخور کا نام تھوڑا عجیب ہے فارسی زبان میں "مار" کے معنی ہیں سانپ اور " خور" سے مراد ہے کھانے والا یعنی " سانپ کھانے والا جانور"۔ مگر ایسا حقیقت میں ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ گھاس پھوس کھانے والا جانور ہے۔  گلگت بلتستان میں مختلف اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں  جن میں مشہور جانور مارخور شامل ہے۔ یہ جانورانسان کی نظروں حتی کہ انسانی سائے سے بھی دور رہنا پسند کرتا ہے۔ مارخور کا قد 65 تا 115 سینٹی میٹر جبکہ لمبائی 132 تا 186 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ اس کا وزن 32 تا 110 کلوگرام تک ہوتا ہے۔  مارخور کا رنگ سیاہی مائل بھورا ہوتا ہے اور ٹانگوں کے نچلے حصے پر سفید و سیاہ بال ہوتے ہیں۔ نر مارخور کی تھوڑی، گردن، سینے اور نچلی ٹانگوں پر مادہ کے مقابلے زیادہ لمبے بال ہوتے ہیں  مادہ کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے  جسم ا...

مہنگائی تو صرف بہانہ۔۔۔ 12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عمران خان کوعبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر مجبور کیا اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں

 اسلام آباد”عبدالحفیظ شیخ اور ندیم بابر کو فارغ کیا جانا اور حماد اظہر کو وزارت خزانہ کا منصب سونپا جانا ان تبدیلیوں سے وزیراعظم عمران نے مہنگائی ، ایندھن اور گیس کے بحران کے وقت گریز کیا۔روزنامہ جنگ میں طارق بٹ لکھتے ہیں  کہ جب اسلام آباد سے نشست کیلئے سینیٹ انتخابات ہوئے اس وقت یہ گمان تک نہ تھا کہ پالیسی ساز ادارے عبدالحفیظ شیخ کو باہر کا راستہ دکھا دیں گے۔ ان کی کامیابی کے لئے عمران خان نے ذاتی طورپر مہم چلائی ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں تاکہ عبدالحفیظ شیخ سینیٹر منتخب ہوکر بدستور وزیر خزانہ رہیں اسلام آباد ہائیکور ٹ کے فیصلے کے نتیجے میں جب عبدالحفیظ شیخ مشیر خزانہ کے منصب سے فارغ کردیئے گئے  تو انہیں فوری طورپر وزیر خزانہ بنا دیا گیا اس طرح وہ سینیٹر منتخب ہوئے بغیر وزارت پر فائز رہے سکتے ہیں  12اور 30مارچ کے درمیان 18دنوں میں کس بات نے عبدالحفیظ شیخ کو رخصت کرنے پر عمران خان کو مجبور کیا بظاہر تو کہا گیا کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ تاہم بھاری ٹیکسوں کا نفاذ، اسٹیٹ بینک کو حد سے زیادہ خود مختاری دینا یہ وہ متنازع اقدامات ہیں جو عبدالحفی...

کیا وزیر اعظم کی تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی؟ ...........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن)   مسلم لیگ ن کے   رکن قومی اسمبلی عباداللہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ,  وزیر اعظم کی  تنخواہ 2 سے بڑھا کر 8 لاکھ کردی   گئی ہے تاہم ان کے اس دعویٰ کی تردید سامنے آگئی ہے۔ عباداللہ خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا , وزیر اعظم کہتے ہیں , کہ 2 لاکھ تنخواہ میں ان کا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ان کی تنخواہ بڑھا کر 8 لاکھ کردی گئی، یہ بتائیں بجٹ میں غریب کیلئے کیا رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی حکومت میں گرین لائن، اورنج لائن ، میٹرو لائن جیسے منصوبے تھے لیکن موجودہ حکومت میں چینی   لائن، آٹا لائن اور پٹرول لائن کے منصوبے آئے ہیں۔ عباداللہ خان کی جانب سے وزیر اعظم کی تنخواہ بڑھنے کی بات کی گئی تو حکومت نے اس کی تردید کردی  ۔ وزیر اعظم کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے کہا کہ " ن لیگی رکن جسے اس کے اپنے گھر میں کوئی کھانے کو نہیں پوچھتا، اس  نے وزیراعظم کی تنخواہ پر جھوٹ  بولا اور جیو ...