Skip to main content

ایک لڑکی سے کئی ماہ تک ٹیلیفون پر باتیں ہوئیں، ملاقات میں کون نکلا؟پڑھیے سابق کپتان شاہد خان آفریدی کی زندگی کا ایک ناقابل یقین واقعہ

 

سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے اپنی آپ بیتی ’’گیم چینجر ‘‘ میں ذاتی زندگی سے متعلق بھی دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں جس میں ان کی جوانی کے دور کے قصے بھی شامل ہیں

کرکٹ کے نئے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے آفریدی نے کتاب میں لکھا ہے کہ شروع سے ہیپارٹی کرنے کا شوق تھا،دورہ آسٹریلیا میں نائٹ کلب گیا تو ساری رات لڑکی سے باتیں کیں

آفریدی نے دل ٹوٹنے کاواقعہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 90 کی دہائی میں ایک لڑکی سے فون پر بات کرتا تھا، اس دور میں موبائل نئے تھےاور بہت مہنگے تھے۔ اس لڑکی کی آواز سننے کیلئے پیسے بھی بہت اڑائے اور کئی مہینوں تک فون پر بات کرنے کے بعد ملنے کاپلان بنایا۔شاہد آفریدی نے ڈراپ سین لکھا کہ جب ملاقات ہوئی تو وہ لڑکا نکلاجو لڑکی بن کر مجھ سے باتیں کرتا تھا

،اس وقت مجھے بہت شرمندگی ہوئی۔جوانی کا ایک اور دلچسپ قصہ آفریدی نے یوں بیان کیا کہ ایک بار خاتون دلہن کے لباس میں میرے گھر پہنچ گئیں اورمجھ سے شادی کی ضد کرنے لگی، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑلیا اور کہا چلو مسجد چل کر نکاح کرلیتے ہیں

واضح رہے پاکستان کے سابق آل راؤنڈر کرکٹر شاہد آفریدی نے حال ہی میں ’گیم چینجر‘ کے نام سے ’آپ بیتی‘ شائع کی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بتایا ہے کہ 1996ء میں سری لنکا کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میں تیز ترین سینچری کا عالمی ریکارڈ بناتے وقت ان کی عمر 16 برس کے بجائے 19 برس تھی۔آفریدی کے بقول، ’’میری پیدائش سن 1975 کی ہے اور حکام کی جانب سے میری عمر درست درج نہیں کی گئی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر شاہد آفریدی کا سال پیدائش 1975ء ہے تو 1996ء میں ان کی عمر 20 یا پھر 21 برس بنتی ہے۔دنیائے کرکٹ میں معتبر مقام رکھنے والی کتاب’ وزڈن‘ میں آج بھی 16 برس 217 دن کی عمر کے ساتھ ایک روزہ کرکٹ میں کم ترین عمر میں سینچری بنانے کا اعزاز شاہد آفریدی کے نام ہے

واضح رہے آفریدی کی تیز ترین سینچری کا ریکارڈ سن 2014 میں نیوزی لینڈ کے کھلاڑی کوری اینڈرسن نے توڑ دیا جبکہ اگلے ہی سال جنوبی افریقہ کے بلے باز اے بی ڈویلیئرز نے اس ریکارڈ کو اپنے نام کر لیا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔