Skip to main content

ہم ہوش میں نہیں تھے۔۔۔!!! خاتون پر نیت کیسے خراب ہوئی ؟ گرفتار ملزم شفقت کے دل دہلا دینے والے انکشافات، جان کو آپ کا سر بھی شرم سے جھک جائے گا


 اسلام آباد “موٹروے متاثرہ خاتون کیس میں دیپالپور سے گرفتار شفقت نے اپنے پہلے بیان میں کچا چٹھا کھول دیا 

 نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملزم کی جانب سے ریکارڈ بیان میں کہا گیا کہ اس اور ملزم عابد علی نے مل کر خاتون کو لوٹ پھر اس کی عزت روند ی، پولیس کے پہنچتے ہی ہم وہاں سے فرار ہو گئے 

 موٹروے پر ڈکیتی کیلئے عابد نے دعوت دی تھی ۔ابتدائی طور پر 3 لوگ عابد علی، شفقت علی اور بالا مستری واردات کرنے والے تھے

اس کیلئے عابد علی نے باقی دونوں ملزمان کو لاہور سے بلوایا تھا ۔ تینوں ہی واردات کیلئے ایک ساتھ نکلے لیکن بالا مستری راستے سے ہی واپس لوٹ گیا تھا

 واقعے پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ عابد علی نے اس رات خاتون کے شیشہ نیچے کرنے پر پتھر سے گاڑی کا شیشہ توڑا جس سے اس کا ہاتھ زخمی ہو گیا تھا 

، عابد علی کا ہاتھ زخمی ہونے کی وجہ سے کچھ قطرے گاڑی کے شیشے پر لگ گئے تھے ۔ عابد علی اور شفقت نے ملک کر 11وارداتیں کی ہیں اس رات دونوں ہوش میں نہیں تھے 

 انہوں نے مہ نوشی کر رکھی تھی ۔ قبل ازیں موٹر وے کیس کے ملزم وقار الحسن جس نے خود اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے، اس کے بھائی محمد بشیر نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جس رات یہ وقوعہ پیش آیا میرا بھائی اس وقت مجلس پڑھنے گیا ہوا تھا اور اس بات کاگواہ بھی موجود ہے

اس بات کا گواہ بھی موجود ہے۔ محمد شبیر نے بتایا کہ ہمارے گھر پولیس والے آئے وقار کے بارے میں پوچھ گچھ کی، اس وقت مجھے فون کیا گیا میں فیکٹری میں تھا، میں نے وقار کو فون کیا تو اس نے کہاکہ وہ مجلس پڑھنے آیا ہوا ہے اس کے بعد وقار نے فون بند کر دیا۔دوسری جانب موٹر وے کیس میں خود پولیس کو گرفتاری پیش کرنے والے ملزم وقار الحسن کی والدہ نے کہاہے کہ میرے بیٹے نمازی پرہیزگار ہیں،وقار میں کوئی عیب ہوتا تو پیش ہی نہیں ہوتا

 نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےوقار الحسن کی والدہ نے کہا کہ میرا ایک بیٹا بیمار ہے، دوسرے بیٹے وقار کو جب واقعے کا پتا چلا تو اس نے کہا کہ میں پیش ہو رہا ہوں

والدہ وقار الحسن نے کہاکہ میرے بیٹے نمازی پرہیزگار ہیں ان کی زندگی بخش دی جائے

اگر میرے بیٹے میں کوئی عیب ہوتا تو وہ پیش ہی نہ ہوتا۔وقار الحسن کی والدہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی قلعہ ستار شاہ میں موٹر سائیکل مرمت کی دکان ہے،وقار کی 4 بیٹیاں اور 2 بیٹے ہیں

انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اپیل کی کہ میرے بیٹے کے ساتھ انصاف کیا جائے۔خیال رہے کہ موٹر وے کیس میں نامزد ایک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے ماڈل ٹاؤن میں جا کر خود اپنی گرفتاری پیش کی تھی جبکہ دوسرا ملزم عابد تاحال مفرور ہے اور پولیس اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔