Skip to main content

پاکستانی سائیکلسٹ ثمر خان کے ساتھ بھی اسلام آباد میں جنسی ہراسانی کا واقعہ


 گذشتہ روز لاہور موٹر وے پر خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے کے بعد شہر اقتدار میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ  پیش آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی خاتون سائیکلسٹ کے ساتھ سڑک پر مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

پاکستانی خاتون سائیکلسٹ ’ثمر خان‘ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائیکلنگ کے دوران ایک شخص نے مجھ سے بدتمیزی کی ہے۔

سائیکلسٹ ثمر خان نے سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ ہونے والا واقعہ بیان کردیا اور بتایا کہ میں اسلام آباد کی سڑکوں پر سائیکلنگ کررہی تھی کہ ایک شخص نے بدتمیزی کی۔

ثمر خان نے بدتمیزی کرنے والے شخص کا حلیہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ مرون شرٹ پہنے ایک شخص نے مجھے غیر مناسب انداز میں چھوا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ میں نے سائیکل پر اس شخص کا پیچھا کرنے کی کوشش کی مگر وہ فرار ہوگیا۔

ثمر خان نے بتایا ہے کہ تین چار لوگوں نے واقعہ دیکھا مگر کسی نے مزاحمت کی کوشش نہیں کی۔

سائکلسٹ ثمر خان نے سوال کیا کہ سڑک پر چلتی لڑکی کو چھو کر کیا ملتا ہے آپ کو؟ ۔

سائیکلسٹ ثمر خان نے سوال کیا کہ ’کیا لوگوں کو یہ حرکت گھٹیا نہیں لگتی؟‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور سے گجرانوالہ جاتے ہوئے موٹر وے پر بھی ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے جبکہ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں بھی پڑوسی نے 5 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔