Skip to main content

لاہور میں موٹر وے پر بچوں کے سامنے خاتون عصمت دری کا شکار ، ملزمان کون نکلے

 

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کیساتھ افسوسناک سانحہ پیش آیا ہے۔اطلاعات کے مطابق دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے عصمت دری کا نشانہ بنایا۔ ایف آئی آر کےمطابق گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے اپنی کار میں اپنے دو بچوں کے ہمراہ لاہور 
س گوجرانوالہ واپس جا رہی تھی کہ رنگ روڈ پر گجر پورہ کے نزدیک اسکی کار کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ کار کا پٹرول ختم ہونے کے باعث موٹروے پر گاڑی روک کر خاتون شوہر کا انتظار کر رہی تھی، پہلے خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو فون کیا، رشتے دار نے موٹر وے پولیس کو فون کرنے کا کہا۔ جب گاڑی بند تھی تو خاتون نے موٹروے پولیس کو بھی فون کیا مگر موٹر وے پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ کوئی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق موٹروے ہیلپ لائن پر خاتون کو جواب ملا کہ گجر پورہ کی بِیٹ ابھی کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ ایف آئی آر کے مطابق اتنی دیر میں دو مسلح افراد موٹر وے سے ملحقہ جنگل سے آئےاور کار کا شیشہ توڑ کر زبردستی خاتون اور اس کے بچوں کو نزدیک جنگل میں لے گئے جہاں ڈاکوؤں نے خاتون کو بچوں کے سامنے اس کی عصمت کو پامال کیا اور اس سے طلائی زیور اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔ خاتون کی حالت خراب ہونے پر اسے اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے ۔ خاتون کی طبی ملاحظے کی رپورٹ فرانزک کے لیے بھجوا دی گئی ہے جبکہ خاتون کے رشتے دار کی مدعیت میں پولیس نےمقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ تفتیش میں اربن رورل پولیسنگ کی تیکنک استعمال کی جارہی ہے اور سی سی پی او لاہور تفتیشی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب آئی موٹر وے پولیس کلیم امام نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ جس جگہ یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا وہ موٹر وے پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ دوسری جانب انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس انعام غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ موٹروے کیس میں ملزمان تک پہنچنے کے لیے ثبوت مل گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی پنجاب انعام غنی نے کہا کہ موٹروے پر پیش آنے والے واقعے کے کیس میں اب تک بہت اچھا کام ہوا ہے، ہم اس گاؤں تک پہنچ چکے ہیں جہاں سے ملزمان کا تعلق ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ 20 ٹیمیں اس پر کام کر رہی ہیں اور اس انویسٹی گیشن کو ڈی آئی جی خود دیکھ رہے ہیں، جلد از جلد ملزمان گرفتار ہوں گے۔ انعام غنی کا کہنا تھا کہ خاتون نے ملزمان کی عمر اور کچھ شناخت بھی ظاہر کی ہے، اس وقت ایک بہت اچھا سراغ ملا ہے جو سیدھا ملزمان تک پہنچائے گا لیکن ابھی اسے میڈیا پر نہیں بتایا جا سکتا۔ آئی جی پنجاب نےبتایا کہ پورے علاقے کی ووٹر لسٹ اور نادرا کا ریکارڈ لے لیا ہے، ملزمان کی ایج بریکٹ کے لوگوں کو شناخت کیا ہے اور 70 ایسے لوگ ہیں جن کا پہلے سے کرمنل ریکارڈ ہے، ہم ان سب کو چیک کر رہے ہیں اور جیوفینسنگ بھی کرالی گئی ہے جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موٹروے یا اس کے پاس کوئی واقعہ ہوتا ہے ہم ذمہ دار ہیں، ہم خود ملزمان تک پہنچیں گے، اگر اس کیس میں ابھی غلطی ڈھونڈیں گے تو ملزمان بچ جائیں گے اس لیے ظلم کرنے والے ظالموں تک پہنچنا اس وقت ہماری ترجیح ہے۔ آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کے بچے اہلخانہ کے ساتھ ہیں، کوشش ہے متاثرین کو جتنی سپورٹ دے سکیں وہ دیں لیکن سب سے اچھا ہوگا جب ملزمان کو پکڑیں گے تب خاتون اور ان کے بچوں کی ذہنی کیفیت بہتر ہوگی لہٰذا اس وقت ہمارا ہدف ملزمان کو پکڑنا ہے

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔