Skip to main content

موٹروےمتاثرہ خاتون کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا،خاتون نے قریبی رشتہ دار کی بجائے کسے واقعے کے بارے میں بتایا جب وہ وہاں مدد کیلئے پہنچا تو کیا ہوا ؟


 لاہور)موٹروے پر متاثرہ خاتون سے متعلق کیس میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔پولیس کی تحقیقات میں نیا رخ سامنے آیا ہے

مدعی مقدمہ اور اس کے ساتھی سے تفتیش شروع کردی گئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق گاڑی خراب ہونے پر خاتون نے سردار شہزاد نہیں جنید کو فون کیا

جنید اپنے دوست سردار شہزاد کے ساتھ متاثرہ خاتون کی مدد کے لئے پہنچاz ۔جنید نے سردار شہزاد کو مقدمے کا مدعی بنایا۔سردار شہزاد نے خود کو خاتون کا رشتہ دار بتایا۔مقدمے کے مدعی اور ساتھی بھی شامل تفتیش ہیں۔

دونوں نے اپنے فون نمبر بند کر دیے ہیں۔سردار شہزاد گوجرانوالہ کا رہائشی ہے۔سردار شہزاد نے خود کو خاتون کا رشتہ دار بتایا جب کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنید اور خاتون کا دوستانہ تعلق تھا

۔خاتون نے جنید کو کال کی اور اورچ جنید سردار شہزاد کے ساتھ موقع پر پہنچا۔سی پی او گوجرانوالہ نے دونوں لڑکوں سے تفتیش کی ہے

دونوں نے مقدمے میں اپنے نمبر اور پتہ غلط درج کروائے جس کے بعد معاملہ مشکوک ہوگیا۔پولیس نے دونوں افراد کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے

بتایا گیا ہے کہ خاتون لاہور کی رہائشی تھی جب کہ گجرانوالہ میں اس کا سسرال رہائش پذیر ہے۔پولیس اس حوالے سے تحقیقات کر رہی ہے کہ خاتون نے لاہور میں یا گوجرانوالہ میں کسی رشتہ دار سے رابطہ کرنے کے بجائے دوست کے ساتھ رابطہ کیوں کیا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل لاہور کے علاقے گجرپورہ میں خاتون سے کیساتھ خوفناک واقعہ پیش آیا تھا 

 جہاں ملزمان نقدی اور زیورات لوٹنے کے بعد خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے بے آبرو کر کے فرار ہوگئے  پولیس کی طرف سے معاملے پر تفتیش جاری ہے

سی آئی اے اور انوسٹی گیشن پولیس تاحال ملزمان کا سراغ نہ لگا سکی ، پولیس نے ریکارڈ یافتہ افراد کو بھی شامل تفتیش کرکے جلد اصل ملزمان کی گرفتاری کی امید ظاہر کی گئی ہے

دوسری طرف اس واقعے کے خلاف سوشل میڈیا پر عوام کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے 

اس سلسلے میں قانون سازی اور ملزمان کی سرعام پھانسی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں، برہنہ کرکے نوجوان پر تشدد، سوشل میڈیا پر ہنگامہ ....

پشاور  (ڈیلی پاکستان آن لائن)  خیبرپختونخوا پولیس بھی تمام حدود پار کرگئیں۔پشاور میں پولیس اہلکاروں نے تھانے,  میں  برہنہ کرکے عامر تہکال نامی نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میٰں پولیس نے نوجوان کو برہنہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ سوشل میڈٰیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح پولیس اہلکار اس نوجوان کو برہنہ کرکے   گھسیٹتے ہوئے لے جارہے ہیں ۔  بتایا جاتا ہے کہ اس نوجوا ن   نے پولیس اہلکاروں سے نازیبا گفتگو کی تھی.  جس پر اسے برہنہ کرکے تذلیل کا نشانہ;  بنایا گیا 𝐻𝒶𝓂𝓏𝒶 𝒦𝒽𝒶𝓃 @HamxaTweets Suspension Is Not @ KP_Police1 Take Serious Action We Will Not Accept This SHOWBAAZI # JusticeForAmir 2 10:33 AM - 24 جون، 2020 Twitter Ads info and privacy واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے انتہائی برہمی کااظہارکیا ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے مطالبہ کیا ہے ;, کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے۔ Reham Khan ✔ @RehamKhan...

اسٹیٹ بینک نے روزگاراسکیم میں تین ماہ کی توسیع کردی

اسٹیٹ بینک نے ملازمین کی مدد کے لیے روزگار اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار بڑھا دیا۔ کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد اسیٹٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو معاشی امداد فراہم کرنے اور معاشی اثرات کا مقابلہ کرنے کی خاطر روزگار اور سرمایہ کاری کی معاونت کے لیے کئی ری فنانس اسکیمیں متعارف کرائیں۔ روزگار اسکیم کے تحت کاروباری اداروں کو اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے رعایتی قرضے فراہم کیے جاتے ہیں بشرطیکہ وہ قرضے کی مدت کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہ کرنے کا وعدہ کریں۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے اور اب یہ ستمبر 2020ء تک کے لیے ہوگی۔ اب کاروباری ادارے اجرتوں اور تنخواہوں کے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی مدت کے لیے، جو اپریل 2020ء سے ستمبر 2020ء تک ہوگی، فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروباری ادارے نہ صرف جولائی سے ستمبر 2020ء تک تین ماہ کی مدت کے لیے اجرتوں اور تنخواہوں کی فنڈنگ کی خاطر قرضے لے سکیں گے بلکہ اپریل تا جون 2020ء کے دوران ادا کی گئی اجرتوں اور تنخواہوں کی رقم واپس بھی لے سکیں...

اسلام آباد ہائیکورٹ کی خاتون جج کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا........

اسلام آباد   (ڈیلی پاکستان آن لائن) ا  سلام آباد ہائیکورٹ  کی خاتون جج لبنیٰ سلیم پرویز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کے سیکرٹری کا گزشتہ ہفتے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انہوں نے بھی اپنا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آگیا  ۔   ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز کی آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ہے , اور انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کرلیا ہے۔ نجی ٹی وی ایکسپریس  نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے سیکرٹریز اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ریڈر کورونا میں مبتلا ہیں  ۔       اسسٹنٹ رجسٹرار سول برانچ حاجی شاہد بھی   کورونا کا شکارہیں,  اور  عدالت عالیہ کے افسران سمیت 15 ملازمین کورونا وائرس ;میں مبتلا ہیں۔